واقعہ کربلا اور خوا تین کا لازوال کردار ۔اسماء مغل

سلام ہو محمدﷺ پر اور آپﷺ کی آل پر۔۔۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آپﷺ اور آپﷺکی آل اولاد سے محبت رکھتے ہیں،اتباع کرتے ہیں،اسوہ ء حسنہ کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے ہیں،صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔۔تاریخ اسلام ایسے بے شمار واقعات سے مزین ہے جب اللہ کے رسول کی محبت میں صحابہ کرام ؓ نے اپنی زندگیوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا،اور جانوں کے نذرانے پیش کرکے بارگاہِ الٰہیہ میں سرخرو ٹھہرے۔۔لیکن ایک واقعہ ایسا بھی ہے جس پر خو د زندگی فدا ہوگئی۔۔اپنا آپ نبی اور ان کی آ ل کی حرمت پر وار گئی او ر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئی،یہ الگ بات کہ اس کی سسکیاں آج بھی پوری کائنات کے سینے میں گونجتی ہیں۔۔ اک حشر بپا ہے،اک کربلا ہے!

اسلامی سنہ ہجری کا پہلا مہینہ محرم الحرام،جس میں واقعہ کربلاپیش آیا۔اسی مہینے کی یکم تاریخ کو خلیفہ ثانی حضرت عمر ؓ کی شہادت ہوئی۔آپ ؓ کو ایک بد بخت انسان فیروز ابو لؤ لؤ نے خنجر کے وار سے زخمی کردیا تھا،جس کے بعد آپؓ واصلِ برحق ہوئے۔محرم الحرام کے آغاز پر ہی اس سانحہ کا واقعہ ہونا سوگواری کی فضا میں دردناک اضافہ کرتا ہے۔اس کے بعد عاشورہ کا واقعہ۔۔۔صبر و استقامت،شجاعت وپرہیزگاری اور طرزِ زندگی سے روشناش کراتا ہے۔ایسا واقعہ جس میں صرف مرد ہی نہیں خواتین نے بھی مثالی کردار ادا کیا۔نازک جذبات اور احساسات رکھنے والی  خواتین  میدان کربلا میں سیسہ پلائی دیواریں ثابت ہوئیں۔

tripako tours pakistan


واقعہ کربلا کو بامثال بنانے میں خواتین کے کردار سے انکار کسی طور ممکن نہیں،عاشور کا واقعہ تمام خصوصیات کا مجموعہ ہے،یہ واقعہ صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے،شجاعت،بہادری کا سبق دیتا ہے،واقعہ عاشورہ  میں روزِ عاشور سے پہلے جن خواتین نے اپنا کردارادا کیا ان میں زھیر بن فین کی زوجہ،جو اپنے خاوند کے ساتھ مکہ آئی تھیں،اور عراق کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں امام حسین سے ملاقات ہوئی،امام حسین نے ان کے شوہر کو ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا تو انہوں نے حیل و حجت سے کام لیا،لیکن بیوی جو عمرو کی بیٹی تھی،کے سمجھانے پر کہ فرزندِ رسول تجھے بلا رہے ہیں،اور تم کیوں ان کے پاس جانے سے دریغ کررہے ہو،کون سی رکاوٹ ہے جو تمھیں ان کے پاس جانے سے روک رہی ہے،زھیر اپنی بیوی کی باتوں سے متاثر ہوا،اور امام کے دیدار سے مشرف ہوکر واپس آکر بیوی سے کہنے لگا “تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو،زوجہ رونے لگیں،اور کہا،خداوند تمھارا مدد گار ہو،تم سے میری التجا ہے قیامت کے روز امام حسین کے پاس میری شفاعت کرنا،”۔

دوسری خاتون “امِ وہب “تھیں۔عبداللہ بن کلبی کی زوجہ تھیں،عبداللہ بن کلبی نے عاشورہ  کے روز جنگ میں حصہ لیا،ان کی زوجہ ام ِ وھب نے شوہر کے جنگ لڑتے دیکھ کر خیمے کا ایک ستون اٹھایا اور یہ کہتے ہوئے میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئیں کہ “میرے ماں باپ آپ پر قربان،فرزندِ رسول پر جان قربان کرو”۔۔امام علیہ السلام نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اللہ رب ذوالجلال نے خواتین پر جہاد واجب نہیں کیا۔”طوعہ” وہ خاتون ہیں جنہوں نے امام حسین ؓ کے سفیر حضرت مسلم کو ہمدردی کی بنا پر کوفہ میں اپنے پاس پناہ دی تھی۔لیکن ساتھ ہی یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں ان کا بیٹا جو ابن زیاد کا آدمی تھا،مخبری نہ کردے۔

روزِ عاشور ا کے دن چارخواتین خیموں سے قتل گاہ کی جانب روانہ ہوئیں۔جن میں
عبداللہ بن عمر کی ماں،
عمر بن جنادہ کی ماں،
مسلم بن عجوسہ کی کنیز،
بکر بن وائل، شامل تھیں۔۔۔

کربلا سے کوفہ تک!
حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد ان خواتین نے دشمنوں کی فطرت سے باخبر ہونے کی وجہ سے خود اپنے زیورات اتار کر ان کی جانب اچھا ل دیے،کیوں کہ وہ لوگ کسی طور رحم کرنے والے نہیں تھے۔اس موقع پر حضرت زینب ؓ نے حضرت سجاد ؓ سے پوچھا،خواتین خیموں کے اندر جل جائیں یا باہر نکل جائیں۔۔حضرت سجاد ؓ نے فرمایا،آپ  سب خیموں کو چھوڑ کر باہر نکل آئیں۔
اس قدر مصیبت و مشکلات برداشت کرنے کے با وجود اس خاندان نے گیارہویں رات بھی عبات میں گزاری،گیارہویں محرم کو جب اہلِ بیعت کا قافلہ قتل گاہ پہنچا تو   اپنے پیاروں کے  ٹکرے ٹکرے ہوئے بدن دیکھ کر ضبط کھو بیٹھا اور   سب نے اپنے عزیزوں کو سینے سے لگا لیا۔اتنے مشکل ترین حالات میں بھی حضرت زینب نے پردے کا اہتمام کیا۔
کوفہ میں بھی خواتین نے مثالی کردار ادا کیا،حجرت زینب ؓنے ہر بچے بوڑھے پر نظر رکھی،خیال رکھا،اسیروں کا قافلہ جب   کوفہ کے نزدیک پہنچا تو ایک خاتون نے حضرت سجاد ؓ سے ان کی پہچان دریافت کی،جس پر آپ ؓ نے جواب دیا کہ” ہم آلِ محمد ہیں “کوفہ والے زارو قطار رونے لگے۔

حضرت زینب نے مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے خطبے دیے،اور انہی خطبوں کی بدولت دشمنوں کے مظالم کے پردے چاک کرتی گئیں،حضرت زینب ؓ خطبہ دے رہی تھیں اور لوگ حیران تھے۔۔
عبداللہ بن زیاد نے کہا شکر ہے خداکا جس نے تم لوگوں کو ذلیل و خوار کیا،او رتمھارے مردوں کو مار کر تمھاری سچائی آشکار کی۔۔
حضرت زینب نے فرمایاخدا کا شکر ہے جس کے لیے تمام تعریفیں ہیں،جس نے ہمیں پاک و منزہ رکھا،اور جھوٹوں کو رسوا کیا،اور یہ تم لوگ ہو جو جھوٹے ہو،
ابنِ زیاد نے کہا،تمھارے بھائی کے ساتھ کیا سلوک ہوا،کیا تم نے نہیں دیکھا؟۔۔۔۔۔حضرت زینب ؓ نے متانت سے بھرپور جواب دیا “میں نے اچھائیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا “۔


حضرت زینبؓ کے خطبات دشمنوں کے لیے دندان شکن ثابت ہوئے،اور فرمایا “اے یزید،تو نے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کیا ہے اور ہمیں شہر شہر پھرایا ہے،اور پھر گمان کرتا ہے کہ ہم خدا کے نزدیک ذلیل اور تو عزیز ہے،کیا یہ انصاف ہے کہ تیری لونڈیاں پردے میں ہیں اور رسول کی بیٹیوں کو شہر شہر گھما رہے ہو،اے رب العزت ہمارا بدلہ تو ہی ان ظالموں سے لینا”۔
ان خواتین کے عزم و حوصلے نے ایسی تاریخ رقم کی جو رہتی دنیا تک تمام خواتین کے لیے کردار سازی کاایک عملی نمونہ ہے۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *