کتاب مر نہیں سکتی۔۔اسد مفتی

کراچی فیسٹول میں شرکا کی تعداد اپنے عروج پر ہونے کے باوجود توقع سے کم تھی ۔میرے حساب سے مستقبل میں کتابیں صنعتی انقلاب سے پہلی والی شکل میں آجائیں گی۔ لگژری چیزوں کی طرح ۔

چند روز قبل کا واقعہ ہے ،میں نے اپنے چھوٹے بیٹے آدم کو مطالعے کی اہمیت سمجھاتے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھنے سے پرہیز کی تلقین کرتے ہوئے کہا “کتابیں پڑھنے کے لیے تمھیں وقت کب ملتا ہوگا” “

بیٹے نے کہا”کتابیں پڑھنے سے کیا فائد ہ پاپا ؟۔۔اس سے آپ کا ذہن وسیع ہوتا ہے، میں نے جواب دیا ۔

آدم کا جواب تھا۔۔“وہی ساری چیزیں ٹی وی پر بھی ہیں ، چنانچہ ذہن ٹی وی دیکھنے سے بھی وسیع ہوتا ہے۔”

میں کہتا ہوں “کتابوں میں تمہیں بے شمار ،سائنسی  معلومات اور ان کا حال احوال ملے گے۔

بیٹا کہتا ہے ۔سائنس ٹی وی پر بھی ہے

میں پوچھتا ہوں ۔کتابوں میں ادب ہے، سیاحت ہے، صحافت ہے، ثقافت ہے، اور تہذیبی سرمایہ ہے۔

آدم جواب دیتا ہے ۔ایسی بہت سی چیزیں اور پروگرام جن کا تعلق ادب،صحافت، ثقافت ،سیاست ،تفریح اور تہذیب و تمدن سے ہے ٹیلی ویژن پر بھی موجود ہیں ۔

بیٹے کو سمجھاتے سمجھاتے جب میں تنگ آجاتا ہوں ،تو کہتا ہوں ، اس کے باوجود تمہیں کتابیں پڑھنی ہوں گی ۔

وہ کیوں ؟ بیٹے نے پوچھا۔۔۔

اس لیے کہ  ہم کتابیں لکھتے ہیں ۔

باپ کی زبانی یہ دلیل سنتے ہی بیٹا کہتا ہے۔۔جب ہم کتابیں پڑھتے نہیں تو آپ کتابیں لکھتے ہی کیوں ہیں ؟

مطالعہ کا ذوق و شوق ختم ہونے کی حقیقت پر اس سے بڑا تبصرہ اور کیا ہوسکتا ہے!

میں یہ نہیں کہتا کہ میرا بیٹا کوئی بڑا لیڈر ۔دولت مند، سیاستدان ،صنعتکار، ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، پروفیسر یا فنکار بن جائے بلکہ اسے بے لاگ ،بے خوف، بااعتماد، روشن خیال، روشن ضمیر، اور متوازن شخصیت کا مالک بنانا چاہتا ہوں   کہ وہ بڑا ہوکر اس وسیع حقائق کی دنیا میں زندگی سے نبرد آزما ہو اور وہ اپنا مقام آپ پیدا کرے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان مقاصد کو پانے کے لیے مطالعہ بے حد ضروری ہے۔۔بے حد ضروری!

اب رہ گئی بات اختلاف کی ،تو مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی سے فکری اور نظری اختلاف ہو تو سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ اختلاف فطری اور طبعی ہے، یہ کوئی ضروری نہیں کہ ایک  انسان دوسرے انسان کی فکر و نظر کا مکمل طور پر پابند ہو، اختلاف زندہ ضمیری کی بھی علامت ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں پائے جانے والے نئی اور پرانی نسل کے اختلافات کو میں ذاتی اختلاف میں تبدیل نہیں کر رہا لیکن الیکٹرونک میڈیا کا دھماکہ خیز انقلاب اگر سب سے زیادہ کسی چیز پر اثر انداز ہوا ہے تو وہ ہے پرنٹ میڈیا۔

جس سے کتابی دنیا میں سانس لینے والے عناصر بہت بے چین ہوئے، مگر علوم و فنون کی امکانی توسیع نے بے چین روحوں کو کافی حد تک سنبھال لیا ہے۔گلوبلائزیشن تحریک کی اہمیت اور حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن کتاب آج بھی آمادہ ارتقا ہے،کتاب کی اہمیت کل بھی تھی اور آج بھی ہے ۔اور کل بھی رہے گی۔

الیکٹرانک میڈیا تو آج کی پیدا وار ہے لیکن عقل کی مدد سے انسان نے اس دور میں بھی بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں ، جب وہ پتھر کے زمانے میں رہا کرتا تھا،اس وقت اس کے پاس ایسا کوئی  ذریعہ نہ تھا کہ وہ اپنی معلومات ،فکر اور جیسا بھی تھا علوم و فنون کو محفوظ رکھ سکے اور دوسرے تک منتقل کرسکے ۔جس کا وہ بے حد خواہش مند تھا کہ انسان اپنی خوشیوں اور غموں میں دوسرے انسانون کو شریک کرکے طمانیت محسوس کرتا ہے۔

چنانچہ انسان نے لکھنے کی ابتدا کی،اس سے قبل تک ابلاغ کا عمل زبانی، آوازوں اور اشاروں کی مدد سے ہوتا تھا۔ تحریر کی ایجاد سے پہلے انسان کو ہر بات یاد رکھنی پڑتی تھی ،علم سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں کو پہنچتا تھا ،بہت سا حصہ ضائع ہوجاتا تھا۔ تحریر سے لفظ اور علم کی عمر میں اضافہ ہوا،زیادہ لوگ اس میں شریک ہوئے اور انہوں نے نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ اس کے ذخیرے میں اضافہ بھی کیا۔ لفظ حقیقت اور صداقت کے اظہار کے لیے تھا اس لیے مقدس ہوا، لکھے ہوئے لفظ کی اور اس کی وجہ سے قلم اور کاغذ کی تقدیس ہوئی۔ بولا ہوا لفظ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ہوا تو علم و دانش کے خزانے محفوظ ہوگئے۔ جو کچھ نہ لکھا جاسکا وہ بالآخر ضائع ہوگیا۔ پہلے کتابیں ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں  اور علم سے صرف کچھ لوگوں کے ذہن ہی سیرا ب ہوتے تھے، (لکھنے کی ابتدا کب کیسے اور کہاں سے ہوئی یہ ایک الگ موضوع ہے)

علم حاصل کرنے کے لیے دور دور کا سفر کرنا پڑتا تھا، جہاں کتب خانے ہوں اور ان کا درس دینے والے عالم ہوں ،چھاپے خانے  کی ایجاد کے بعد علم کے پھیلاؤ میں وسعت آئی (یہ الگ بات ہے کہ چھاپے کے استعمال کے خلاف فتوؤں کا سامنا بھی کرنا پڑا)

کیوں کہ وہ کتابیں جو نادر تھیں اور وہ کتابیں جو مفید تھیں آسانی سے دستیاب اور فراہم ہوئیں ، میرے حساب سے سماجی ،سیاسی، ثقافتی اور طبعی علوم کی کتابوں کی اہمیت ادبی کتابوں سے کم نہیں کہ اگر ادب زندگی کا آئینہ ہے تو زندگی سماج سے جڑی ہوئی ہے اور سماجی ارتقا اور ذہن انسانی کی نشو ونما طبعی ،انسانی علوم اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں ۔

الیکڑانک میڈیا کی اہمیت سے ایک لمحہ کو بھی انکار نہیں  لیکن کتب بینی انسانی زندگی کو صحیح رخ پر ڈھالنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔اپنی شخصیت کو نکھارنے اور خیالات کو سنوارنے میں کتابیں ہماری بہترین رفیق ہیں ۔ میں خود  زندگی کو کتابوں کے آئینے میں دیکھتا آیا ہوں ،یہی وجہ ہے کہ آج برا بھلا جیسا بھی ہوں اپنے بچوں کے لیے قابلِ فخر ہوں ، (یہ میں نہیں کہتا یورپ میں پیدا ہونے اور تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے میرے چار بچوں کا کہنا ہے)

بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ،آخری بات یہ کہ یورپ میں جب سے بچوں کے فکشن کا ایک مقبول سلسلہ “ہیری پوٹر” منظر عام پر آیا ہے ،اور جسے ولیم پورٹر سیریز کا نام دیا گیا ہے، اس کروڑوں کی تعداد میں س چھپنے والی سیریز نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سردست کتاب کے مستقبل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں  ، اس مقبول ترین سیریز کی مصنفہ جے کے رولنگ نے حال  ہی میں اپنی کتابوں کی آمدنی میں سے برطانوی لیبر پارٹی کو  ایک ملین پاؤنڈ کا عطیہ دیا ہے، مصنفہ کا کہنا ہے کہ وہ بچوں میں غربت ختم کرنے کی لیبر پارٹی کوششوں سے متاثر ہوئی ہیں ۔امیر ترین افراد کی لسٹ کے مطابق جے کے رولنگ پانچ سو ساٹھ ملین پاؤنڈ کی مالک ہے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *