جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات(6)۔۔نذر حافی

2018ء تک امریکی سفارتخانہ تل ابیب میں تھا، بعد ازاں بیت المقدس میں منتقل کیا گیا، فلسطینیوں نے احتجاج کیا تو اُن پر فائرنگ ہوئی۔ ستر فلسطینی شہید اور تین ہزار زخمی ہوئے۔ اس پر ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ ساری دنیا میں ترکی کی بہت واہ واہ ہوئی۔ خصوصاً ہم مسلمانوں کو تو ہمیشہ کچھ عرصے کے بعد کسی نہ کسی شخص کے حلیے میں ایک نیا خلیفہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ چنانچہ ترک خلافت کے احیاء اور مسٹر اردگان کے خلیفہ بننے کے چرچے آج بھی جاری ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ دمِ تحریر ترکی نے دو سال کے بعد اسرائیل کے لیے اوفوک اولوتاش کو اپنا نیا سفیر مقرر کر دیا ہے۔ بہرحال ہمیں سوچنا چاہیئے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے!؟ پرانی بات نہیں، چند سال پہلے افغانستان میں خلافتِ اسلامیہ اور امارتِ اسلامیہ کے جو نعرے بلند ہوئے، اُن کا ثمر آج سب کے سامنے ہے، پھر القاعدہ اور داعش نے خلافت و امارت کے نام پر جو کچھ کیا اور اس کے بدلے میں امتِ مسلمہ کا جو حشر ہوا، وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اب ہم مزید ترکی کی خلافت و امارت کے خواب دیکھ رہے ہیں، اس کا انجام بھی جلد یا بدیر سامنے آجائے گا۔

بات خلافت و امارت کی اہمیت کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی حکومت ہماری اپنی اصلاح کے بغیر کسی معجزے سے یا قتل و غارت سے قائم ہو جائے گی۔ ہم نے یوں فرض کر لیا ہے کہ ہم نے اپنے کردار، افکار، رویوں اور سماج کی اصلاح کے بغیر ہی اسلامی خلافت قائم کرنی ہے۔ یعنی ہم ہر وقت خلافت قائم کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں، بس کوئی خلیفہ بیعت تو مانگے۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ دنیا کا دوسرا بڑا دین اسلام ہے۔ عددی اعتبار سے مسلمان دوسری بڑی ملت ہیں، ایک سروے کے مطابق کرّہِ ارض پر چوتھا شخص مسلمان ہے۔ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں بھی مصر جیسے اسلامی ملک کی نسبت دوگنے مسلمان رہتے ہیں، چین میں شام سے زیادہ مسلمان بستے ہیں، روس میں اردن اور لیبیا کی نسبت دوگنے مسلمان زندگی گزار رہے ہیں۔ یورپ میں صرف مسلمان مہاجر ہی نہیں بلکہ ایک بڑی تعداد میں وہاں کے مقامی لوگ بھی مسلمان ہیں۔

tripako tours pakistan

The Organisation of Islamic Cooperation یعنی اسلامی ممالک کی تنظیم میں 56 ممبر ممالک ہیں۔ یہ 56 ممالک ایشیائی، افریقائی اور عرب مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں ایشیاء کی 13، افریقہ کی 19 اور عربوں کی 21 ریاستیں شامل ہیں۔ ان ریاستوں میں معدنی وسائل، قدرتی ذخائر، افرادی قوت، عسکری صلاحیتوں اور ذہانت و فطانت کی بہتات ہے۔ مجموعی طور پر مسلمان انتہائی طاقتور ہیں لیکن عملی طور پر انتہائی کمزور ہیں۔ کمزوری اس انتہاء کو پہنچ چکی ہے کہ یہ ساری ریاستیں لاغری اور ضعیفی کے باعث لڑکھڑا رہی ہیں۔ اندرونِ خانہ صورتحال یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی مساجد بھی الگ الگ کر رکھی ہیں۔ بعض مساجد کے اوپر واضح لکھا ہوتا ہے کہ فلاں فرقے والے یہاں نماز نہیں پڑھ سکتے، ان کے لٹریچر میں اور ویب سائٹس پر دوسرے فرقوں کو فرقہ ضالہ لکھا جاتا ہے۔ یہ دل سے ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔

کسی دوسرے فرقے والے کی نمازِ جنازہ پڑھنے کو گناہ قرار دیتے ہیں، اپنے ہمسائے یا تعلق والا بھی اگر کوئی دوسرے مکتب کا مسلمان فوت ہو جائے تو دل سے اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں گنہگار نہ ہوجائیں۔ کسی دوسرے مسلک کا کوئی شخص اگر قرآن مجید، تفسیر، فلسفے، سیاست، کلام یا سائنس و ٹیکنالوجی میں کارہائے نمایاں انجام دے تو یہ اس کو سراہنے کے بجائے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ان چودہ سو سالوں میں آج صرف ہمارے حکمران ہی کمزور نہیں ہیں، بلکہ ہمارا پورا اسلامی معاشرہ کمزور ہوگیا ہے، اگر یہی حال رہا تو سوچئے کہ پھر اگلے چودہ سو سالوں کے بعد جہانِ اسلام کی کیا حالت ہوگی!؟ کشمیر کا مسئلہ کسی کمزور اسلامی ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک ایٹمی اسلامی طاقت اور مضبوط عسکری ملک کا مسئلہ ہے۔ فلسطین کا مسئلہ کسی غریب اور پسماندہ اسلامی ریاست کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مالدار ترین اسلامی ریاستوں کا مسئلہ ہے۔

جب بھی کسی فورم پر ان مسائل کے حل کی بات کی جاتی ہے تو ایک رائے یہ آتی ہے کہ مسلمان فوراً جہاد و قتال کریں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جہاد و قتال کس کے خلاف!؟ جب ہم ایک مسجد اور ایک کلمے پر متحد نہیں ہیں، جب ہم ایک دوسرے کو ہی برداشت ہی نہیں کرتے، جب ایک دوسرے کو واجب القتل، گمراہ اور کافر سمجھتے ہیں، جب حسبِ توفیق ایک دوسرے کی عبادت گاہوں اور مقدسات پر حملے کرتے ہیں، جب ہم خود پہلے ہی اپنے دشمن ہیں، ایک دوسرے کا خون ہماری آستینوں سے رِس رہا ہے تو پھر ایسے میں اوپر سے غیر مسلموں کے خلاف اعلانِ جہاد و قتال سے کیا ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے!؟

مذکورہ بالا مسائل سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم پر زیرِ بحث آتے رہتے ہیں۔ فورم کا چوتھا آن لائن سیشن گذشتہ ہفتے منعقد ہوا۔ سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ندیم بلوچ صاحب نے انتہائی مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ان ساری کمزوریوں کا حل ہمہ جہتی طاقت کا حصول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے سارے شعبوں میں طاقتور ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق صرف حکومتیں یا حکمران تبدیل ہونے اور دعاوں و بد دعاوں سے ہمارے مسائل حل ہونے والے نہیں۔ ہمیں کمزوری سے طاقت کی طرف سفر کرنا ہے۔ طاقت کے حصول کے بغیر ہم لوگ طاقتور نہیں ہوسکتے۔ لہذا اس پر سوچا جانا چاہیئے کہ ہم کیس مضبوط ہوسکتے ہیں اور کس طرح طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔

بعد ازاں معروف دانشور ڈاکٹر ساجد خاکوانی صاحب نے گفتگو کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی قرآن و سنت کی رو سے طاقت کے حصول کو مسلمانوں کیلئے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آپ کمزور ہیں، دنیا آپ کے ساتھ دوہرا معیار برتے گی۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کوئی نوّے سے سو کے لگ بھگ اسرائیل کے خلاف قراردادیں پیش کی ہیں، ان میں سے کسی پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مثالیں تو بہت ہیں، میں بطورِ نمونہ یہ بتا رہا ہوں۔ دوسری طرف عراق اور ایسٹ تیمور کے بارے میں فوراً عمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہِ حل یہی ہے کہ مسلمان طاقتور ہوں اور جہاد و قتال کا راستہ اختیار کریں۔
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *