خدا کی تلاش۔۔افراز اختر

“ان لوگوں کے لئے جن کو مبشر علی زیدی کی کہانی میں کفر دکھتا ہے”
مولانا روم حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے ایک چرواہے کاذکر کرتے ہیں جو مجذوب تھا.عشق الہی میں مست و سرشار تھا اور اس کا دل خوب زخمی تھا.ایک روز زبان عشق سے کہنے لگا: اے میرے معبود، اے میرے محبوب تو کہاں ہے؟ مجھے اپنا پتہ بتا، میں آکر تیری نوکری اور خدمت کروں، تیری گدڑی سیا کروں، تیرے بالوں میں کنگھی کیا کروں،تو بیمار ہوجاۓ توتیری تیمارداری کروں،اگر تیراگھر دیکھ لوں تو صبح شام اپنی بکریوں کادودھ اور گھی تیرے گھر پہنچاآؤں اور تیرے ہاتھوں کو بوسہ دوں،اور تیرے پاؤں دباؤں،رات کو تیری آرام گاہ کی خوب صفائی کروں، اے میرے مولا تجھ پر میں اور میری ساری بکریاں قربان۔۔

حضرت موسی علیہ السلام نے جب اس کی مناجات اور کلام سنا تو فرمایا اے بے ادب تو کافر ہوگیا ہے.یہ کلمات اللہ کی شان کے لائق نہیں وہ ان حاجات سے پاک ہے. اس چرواہے نے جب ارشاد سنا تو کہنے لگا: اے حضرت موسی علیہ السلام! آپ نے میرامنہ سی دیاہے اور ندامت و شرمندگی سے میری جان کو جلا دیا ہے۔اس چرواہے نے اپنا لباس پھاڑ دیا،رنج وغم سے نڈھال ہو گیا اور ندامت سے اک آہ بھری اور جنگل کی طرف نکل گیا!

یہ بھی پڑھیں :  ایک راندہ درگاہ ولی

حضرت موسی کی طرف باری تعالی سے وحی آئی  اور ارشاد ہوا۔۔ اے موسی تو نے ہمارا بندہ ہم سے جدا کردیا.اے موسی آپ بندوں کو اللہ سے ملانے آۓ ہیں یا جدا کرنے؟؟ میں نے ہر ایک کو الگ الگ احوال عطافرماۓ اور الگ الگ اصطلاحیں مقرر فرمائی ہیں. اس عاشق زار کے حق میں وہ کلمات میری حمد و ثناء تھے اور آپ کے لۓ  بیشک مذموم ہیں،اس کے حق میں وہ باتیں شہد تھیں اور آپ کےحق میں زہر ہیں. اس سوختہ دل عاشق کے حق میں وہ کلمات نور تھے مگر آپکے حق میں نار ہیں،اس کے حق میں پھول تھے اور آپ کے حق میں خار ہیں۔۔

ہم نہ تو کسی کے ظاہر کو دیکھتے ہیں اور نہ اس کی قیل وقال کو،ہم تو اس کے قلب وباطن اور اس کے اندر کے حال کو دیکھتے ہیں. اے موسی عاقلوں کے لۓ  آداب اور ہیں سوختہ جاں عاشقوں کے آداب اور ہیں. تجھے معلوم ہے  کہ خون ناپاک ہے مگر شہیدوں کا خون طہارت اور پاکیزگی میں پاک پانی سے بھی کہیں بہتر ۔۔پس اس طرح جان لے ‘مست حال کی گفتگو اگر ویسے پر خطا بھی تھی تب بھی ہمیں سو صواب(درست بات) سے عزیزتر تھی. دل سے اللہ کو جاننا اور پہچاننا یہ صرف انسان اور اللہ کے درمیان ہوتا ہے ۔

کوئی اللہ کو سجدوں میں ڈھونڈ کر پا لیتا ہے اور کسی کو کعبہ میں بھی جا کر اللہ نہیں ملتا۔
کوئی اللہ کی ذات کو لوگوں کی خدمت کر کے پا لیتا ہے اور کوئی مسجد میں رہ کر بھی اس ذات کو ذرہ برابر نہیں سمجھ پاتا ۔
خدا کو ڈھونڈنے کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے اللہ نے فرمایا میں انسان کی شہ رگ سے بھی نزدیک ہوں تو ہر انسان کی قدر کرنا اس کی ضرورتوں میں مدد کرنا خدا کو پا لینا ہے ۔

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *