اصلی قیدی آزاد کرانے والے۔۔۔علی اختر

2 جولائی ، 1972 پاک بھارت جنگ ختم ہوئے ساڑہے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں ۔ تیرہ دن پر محیط جنگ جس کا اختتام 16؛دسمبر 1971 میں ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں عوامی سرنڈر کی صورت میں ہوا اور اب پاکستان کے 93000 افراد اپنے ازلی دشمن بھارت کی قید میں ہیں ۔

ساتھ ہی پاکستان اپنا مشرقی بازو کھو چکا ہے۔ 5000 مربع میل کا پاکستانی علاقہ بھارت کے قبضہ میں ہے ۔ فوج اور عوام کا مورال ڈاؤن ہو چکا ہے۔ بھارتی انتہا پسند اور پنڈت اچاریہ کے شاگرد شاطر لوگ ، بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو پاکستان پر فیصلہ کن وار کرنے اور ان 93000 قیدیوں کے بدلے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے جو کے ظاہر ہے بھارت کے حوالے ہو جاتا ۔ کے مشورے دے رہے ہیں ۔

ایسے میں 28 جون 1972 کو اس وقت کے پاکستانی صدر جناب ذوالفقار علی بھٹو 92 رکنی ٹیم کے ساتھ ہماشل پردیش کے صدر مقام شملہ تشریف لاتے ہیں ۔ انکے ساتھ انکی کابینہ کے افراد اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ انکی نوعمر صاحب زادی محترمہ بینظیر بھٹو بھی ہیں ۔

28 جون سے 2 جولائی  تک مذاکرات کے کئی دور چلتے ہیں ور بعض مقامات پر محسوس ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات بغیر کسی فیصلہ کن نتیجے کے ختم ہو جائیں گے ۔ لیکن پھر اچانک وہ وقت آجاتا ہے جب 2 جولائی  کو اندرا گاندھی اور بھٹو نے ایک دستاویز پر دستخط کیئے جسکے نتیجے میں وہ 93000 افراد بس بحفاظت اپنے گھروں کو   پہنچ گئے۔

بھارت کے مختلف حلقوں میں اسے اندارا گاندھی کی سیاسی ناعاقبت اندیشی بھی بتایا گیا ۔ بعض نے اس معاہدے پر الف لیلیٰ ٹائپ کے قصے بھی تراشے ۔ بعض نے کہا کہ  اندرا گاندھی نے یہ کام محض دال چاول (یعنی ان قیدیوں کی خوراک اور جملہ اخراجات ) کے خرچہ سے تنگ آکر کیا ۔

یاد رہے کہ  سامنے کوئی شہزادہ تھا اور نہ ہی برادر اسلامی ملک اور نہ ہی قیدی روزی روٹی کے چکر میں جانے والے ماما کے بیٹے کامران تھے بلکہ ٹرینڈ آرمی کے جوان و افسر تھے اور آزاد کرنے والوں کو بھی پتا تھا کہ یہ واپس جا کر ہمارے ہی خلاف دوبارہ بندوق اٹھا کر سرحدوں پر پہنچ جائیں گے۔ یہ معاہدہ اور اسکے نتیجے میں ہونے والی رہائی  بھٹو صاحب کے سیاسی تدبر کی اعلی مثال ہے۔

4 اپریل 1979 کو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی میں پھانسی دے دی گئی اور 27 دسمبر 2007 کو انکی صاحب زادی محترمہ بینظیر بھٹو کو اسی شہر میں ایک جلسہ کے بعد خودکش دھماکہ میں شہید کر دیا گیا۔

مملکت خدا داد پاکستان میں بھارت سے جنگی قیدی چھڑوانے والے اوریجنل سیاسی ہیروز سے لیکر برادر اسلامی ملک سے قیدی چھڑانے والے میڈ ان چائنہ واقع تک کی ایک لمبی تاریک تاریخ ہے اور مذکورہ بالا واقعات و حادثات میں عقل والوں کے لیئے کئی  نشانیاں پوشیدہ ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کے سوشل میڈیا پر ماموں کے لڑکے کامران کی رہائی پر مٹھائی تقسیم کرنے والے تاریخ کا بغور مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ  ہم قیدی رہا کرانے والے محسنوں کے ساتھ کیا   کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی آج جن کے لیئے مبارک سلامت اور ہاؤ ہو کا شور ہے کل ان بیچاروں کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *