داستان گوی۔۔۔۔جدید عہد میں۔

اگر علم البشریات کے ماہرین کے اس مفروضے کو درست مان لیا جاے کہ انسان نے زبان کی تخلیق پتھر کی دیواروں پر تصویر یں بنانے کے بہت بعد میں کی تھیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تصویر کشی کے بعد جو ادب انسان نے تخلیق کیا وہ داستان گوی تھا۔ داستان قدیم انسان کے اظہارکا طریقہ تھی، اسکا تھیٹر تھی، اور اسکا واحد میڈیا تھی۔ کاغذ ایجاد ہونے سے قبل، تاریخ کے واقعات اور تجربات کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا واحد ذریعہ داستان گوی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ادبی خوبیاں پیدا ہوتی چلی گییں،یہاں تک کہ داستان گوی آرٹ کے درجے تک پہنچ گیی، جہاں اسے مخصوص صلاحیت، ذوق اور تربیت کے بغیر پرفارم نہیں کیا جا سکتا۔

داستان گوی دنیا کے ہر خطے میں موجود رہی مگر جو کمال اسے لکھنو اور دہلی میں میسر آیااسکی مثال کہیں نہیں ملتی۔ لکھنو اور دہلی میں اردو ادب اپنے شباب کو پہنچا اور زبان ایک زندہ و جاویدچیز بنی، ان معاشروں میں جو مقام غزل کو شاعری میں حاصل تھا وہی مقام داستان کو شاعری میں حاصل تھا۔ یہ دونوں اصناف اپنی دلکشی، نیرنگی اور رنگینی کے باعث اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ اہل لکھنو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس فن میں اتنا کمال حاصل کر رکھا تھااور وہاں ایسے داستان گو گزرے ہیں کہ جو کسی مریض کے پاس بیٹھ کر داستان سنانا شروع کرتے اور الفاظ کے زیروبم کو اس طرح سے استعمال کرتے کہ کہ بیمار کی قوت متخیلہ بھرپور طریقے سے متحرک ہو جاتی، پھر وہ اس کے تن سوختہ میں جذبات کو برانگیختہ کرتے جاتے یہاں تک کہ حرارت غریزی بڑھ جاتی۔ داستان کے اتار چڑہاو کے ساتھ ساتھ مریض کی کیفیات ذہنی و بدنی بھی بدلتے جاتے اور یہ عالم آجاتا کہ ادھر داستان ختم ہوی ادھر مریض کے غسل صحت کا انتظام کر دیا گیا۔

کیی قدیم روایات سے منسلک گھرانوں میں یہ رواج تھا کہ اگر کوی بیمار ہو جاتا تو اس کے پاس بیٹھ کر داستان چہار درویش پڑھی جاتی جس سے مرض میں افاقہ ہو جاتا۔ ان روایات میں صداقت لازمی ہو گی بحرحال یہ سمجھنا تو بہت آسان ہے کہ داستان گوی کا اہم عنصر، زندگی کے دباو کو کم کر کے کچھ دیر کیلیے انسانی ذہن کو سرود انسباط کی کیفیت سے روشناس کرانا ہے۔
اسد اللہ خاں غالب داستان گوی کے بہت قدر دان تھے اور اسکی سرپرستی فرماتے تھے۔ انکے بلی ماروں کے محلے کے گھر میں عرصہ دراز تک داستان گوی کی محفلیں منعقد ہوتی رہیں جن میں میر بزم وہ خود ہوتے تھے۔ اگر داستان گو کہیں سہو کا مرتکب ہوتا تو وہ خود اس حصہ کو بیان کرتے اور اسکی اصلاح کرتے اور اکثر کہا کرتے کہ کہ دہلی کی زبان داستان گووں کے ہاتھ میں ہے۔ میر مہدی مجروح کو خط لکھتے ہوے ترنگ میں کہتے ہیں۔
(میرزا غالب علیہ رحمہ ان دنوں بہت خوش ہیں۔ پچاس ساٹھ جزو کہ کتاب امیر حمزہ کی داستان اور اسی قدر حجم کی ایک جلد بوستان خیال کی آگیی ہے۔ سترہ بوتلیں بادہ ناب کی توشک خانہ میں موجود ہیں۔ دن بھر کتاب دیکھاکرتے ہیں۔ رات بھر شراب پیا کرتے ہیں۔)

داستانیں ہمارے قدیم کلچر کی عظمت کی نمایندگی کرتی ہیں جہاں تخلیقی ذہن اس مقام تک پہنچ گیا تھا کہ نہ صرف فرضی کردار تخلیق کیے جاتے تھے جیسے کہ وعظ کرنے والے طوطے بلکہ تخیلاتی طور پر بسا اوقات پورے کا پورا ملک آباد کیا جاتاتھا۔۔۔۔ جسے داستان کے اندر کویی کردار ایک لمبے خواب میں دیکھ رہا ہوتا تھا۔ رعایت خواب بینی کے باعث اس میں ناممکنات کو دکھایا جاتا اور کیی اور داستانیں تخلیق کر دی جاتیں۔ جب وہ کردار اپنے خواب سے بیدارہوتا تو نہ صرف اسے خود بلکہ سامعین کو بھی افسوس ہوتا کہ کاش حقیقی داستان کے بجاے خواب کی تخیلاتی داستان ہی جاری رہتی۔ تخیل اور حقیقت کو ایسی تکنیک سے ملایا جاتا کہ پڑھنے سننے والا دنگ رہ جاتا۔

داستان زندگی کو بے معنی اور بے حقیقت سمجھنے کی مخالفت کرتی ہے اور انسانی ہمت کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ اسکی دنیا میں اگرچہ جنات دیو اور چڑیلیں جا بجا ملتی ہیں جو اس دور کی رجعت پسند قوتوں کی علامتیں ہیں لیکن اصل اہمیت اسکے عیاروں، ساحروں اور سورماوں کو حاصل ہے جو اپنی جدت پسندی سے رجعت پسندوں پر غالب آجاتے ہیں۔ اسکی دنیا میں ساحر، نجومی، رمال، عیار اور سورمے اتنے متحرک نظر آتے ہیں کہ اپنے کسب کمال سے وہ بعض اوقات سماجی رکاوٹوں اور حتی کہ صاحبان اقتدار کو شکست دے جاتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو جو داستانون میں ہمیں نظر آتا ہے وہ اس متحرک دور کی روشن خیالی خصوصااس عہد کی خواتین کا برابر سماجی رتبہ ہے۔ ڈاکٹر حسن عسکری کا ماننا ہے کہ داستان طلسم ہوش ربا میں دکھای گیی جادوگرنیاں اس دور کی حقیقی عورتیں ہیں۔ وہ صرف حسن و جمال میں یکتا نہیں بلکہ سولہ سنگھار میں اپنے ناز وانداز کو سحر کی آمیزش کر کے کسی بھی کردار کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ عورت گھر کے اندر مقید فرضی ملکہ نہیں جو صرف ایک معروضی حیثیت سے پسماندہ سماج میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہوتی ہے بلکہ ایک جاندار معاشرے میں پیداواری عمل اور سماجی زندگی میں حصہ دار ہوتی ہے۔ وہ صرف محبوب نہیں بلکہ عشق کی منازل بھی طے کرتی ہے اور اس پر نہ تو وہ شرمندہ ہے اور نہ سماج کو کوی اعتراض۔ ہمیں داستان میں معاشرے کا وہ روپ دکھای دیتا ہے جسے بعد میں استعماریت اور تنگ نظری نے رجعت پسندی کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے جہاں آج بھی انارکلی کی فطرت، شرم وحیا کی پختہ اینٹوں میں زندہ چنی جا رہی ہے۔ اس دور کا سماج آج کی ثقافتی گھٹن کے بالکل برعکس دکھای دیتا ہے۔

داستان گوی اپنی قدرت بیان سے نہ صرف ہمارے ان عظیم معاشروں کی داخلی اور خارجی زندگی کی دلکش تصویر دکھاتی ہے بلکہ یہ تصورات انسانی کو توانا کر کے آدمی کومتحرک انسان بناتی ہے۔زوال پزیر معاشروں میں قوت متخیلہ کمزور ہو جاتی ہے اور الفاط کا رشتہ باطن سے ٹوٹ جاتا ہے، لوگ ایک محدود وکیبلری سے تمام زندگی گزار نے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور زندگی ایک مشینی فعل بن جاتی ہے۔زنذگی کی اس میکانکیت سے قوت متخیلہ پر زنگ آجاتا ہے جو داستان سننے سے اڑ جاتا ہے۔ کیونکہ جب ہم تخیل کی دنیا میں ایسی اشیا کو پیدا کرتے ہیں جو حقیقی دنیا میں نظر نہیں آتیں جیسے دانا و بینا الو، واعظ و ناصح طوطے، روشن ضمیر مچھلیاں، ساحری و عیاری کے ذریعے ذریعے دشمنوں کے بچے مارنے والے بظاہر بہت نیک اور نرم خو خواجے، ہمت و جرات کے پیکر سورمے جن کو استعماری قویتں اپنے مقاصد کیلیے ارزاں ستایش سے استعمال کرتی ہیں۔۔۔۔ تو ایسے کرداروں کو سوچنے سے ذہن پر طاری ہوا میکانکی جمود ختم ہو جاتا ہے۔ داستان گوی ذہن کے جمود کو توڑتی ہے اور انسان کی فطرت کو بھر پور تحرک پہنچاتی ہے۔

یہ خوش قسمتی ہے کہ لاہور میں کنول کھوسٹ نے اپنے سٹوڈیو میں داستان گوی کو زندہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ دو سال قبل وہ اس پر ایک پایلٹ پارجیکٹ کر رہی تھیں جس میں دو نوجوانوں نے اسے بالکل ویسے ہی پرفارم کیا جیسے یہ غالب کے گھر یا لکھنو کے کسی نواب کی بیٹھک میں برپا ہوی ہو، تو محفل میں موجود سامعین پر سکتہ طاری ہو گیا۔ عرفان کھوسٹ تو اتنے متاثر ہوے کہ آبدیدہ ہوگیے اور دیر تک ان نوجوانوں کی حوصلہ افزای کرتے رہے۔ تالیوں کی دیر تک گونج بتا رہی تھی کہ بلاشبہ یہ ایسا تجربہ تھا کہ جس کیلیے ہم نہ تو تیار تھے اور نہ اسکی ہمیں توقع تھی۔ کنول نے ہم سے پرفارمینس کے بارے پوچھاتو ہم نے بتایا کہ آج تو ہم خود کو لکھنو کے نواب محسوس کر رہے ہیں۔ ہم نے پرفارم کرنے والے ایک نوجوان سے داستان کو مکمل تفصیلات اور جزیات سے یاد رکھنے کا راز پوچھا جسے داستان گو ہمیشہ گناہ کی طرح چھپاتے ہیں وہ اسے بڑے خوبصورتی سے ٹال گیا۔ امید ہے کہ اتوار6 نومبر2016 شام ساڑھے سات بجے باغ جناح اوپن تھیٹر میں کنول کھوسٹ داستان گوی کے فنکشن کوپھر منعقد کر رہی ہے وہاں ہم اسے خالی نہ جانے دیں گے۔
نوٹ:فنکشن میں شرکت کیلیے ٹکٹ کنول کھوسٹ کے اسٹوڈیوسے دستیاب ہیں۔

Avatar
میاں ارشد
لاہور میں مقیم، پیشہ وکالت سے وابستہ۔ بے ضرر ہونے کو انسان کی معراج سمجھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *