• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • خلافت سے کربلا تک : حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کا انتخاب (دوسری قسط )

خلافت سے کربلا تک : حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کا انتخاب (دوسری قسط )

سیرت و احادیث کی کتب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات اور اس کے فوراً بعد پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کئی صحیح و غلط باتیں نقل ہوئی ہیں اور انہی غلط فہمیوں پر مبنی چیزوں کو پڑھ کے آج تک شیعہ سنی تفرقہ حل نہیں ہو سکا۔ سر دست ہم اپنے موضوع تک محدود رہیں گے اور اس کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کے حل کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کریں گے۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ یا اپنا نائب نامزد نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا کہ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم اجماعاً اس سے منحرف ہو جاتے۔ بالفرض اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو یہ بات بنیاد دین پر برے طریقه سے اثر انداز ہوتی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ جو دین الله کا آخری دین ہونے کا دعویدا ر ہو اور اپنے نبی علیہ اسلام کو سلسلہ رشد و ہدایت الہی کا آخری نمائندہ مانتا ہو، اس کے ماننے والوں کی غالب اکثریت عین رسول کی وفات کے وقت اس کی تعلیمات سے منحرف ہو جائے۔
خود حضرت عمر رضی الله عنہ اور حضرت علی رضی الله عنہ سے اس بات کی نفی ثابت ہے۔ یہاں ہم حضرت علی رضی الله عنہ کا وہ قول نقل کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے محبین کی طرف سے اپنا جانشین نامزد کرنے کے مطالبہ پر ارشاد فریاما -اس ضمن میں مسند ابی یعلی کی صحیح حدیث، حدیث نمبر ٥٩٠ ملاحظہ ہو:
“عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: «وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ دَمِ رَأْسِهِ»، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ لَا يَقُولُ ذَاكَ أَحَدٌ إِلَّا أَبَرْنَا عِتْرَتَهُ، فَقَالَ: «أَذْكُرُ اللَّهَ، أَوْ أَنْشُدُ اللَّهَ، أَنْ تُقْتَلَ بِي إِلَّا قَاتِلِي»، فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالُوا: فَمَا تَقُولُ لِلَّهِ إِذَا لَقِيتَهُ؟، قَالَ: أَقُولُ: «اللَّهُمَّ تَرَكْتِنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ، ثُمَّ تَوَفَّيْتَنِي وَتَرَكْتُكَ فِيهِمْ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُ”۔
(حضرت عبدالله بن سبع فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ہمیں خطبہ دیتے ہوۓ فرمایا “قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو چیرا اور مخلوقات کو پیدا کیا! ایک وقت آئے گا کہ میری داڑھی کو میرے سر کے خوں سے رنگ دیا جائے گا”۔ یہ سن کر ایک آدمی بولا الله کی قسم جو کوئی ایسی حرکت کرے گا ہم اس کو اس کے خاندان سمیت برباد کر دیں گے۔ یہ سن کے حضرت علی نے کہا میں تمہیں الله کا خوف دلاتا ہوں کہ میرے بدلے صرف میرے قاتل کو قتل کرنا ! پھر ایک اور آدمی نے کہا امیر المومنین ہمارے لیے کوئی خلیفہ منتخب کر جائیں۔ حضرت علی نے جواب دیا “نہیں، میں تمہیں ویسے ہی چھوڑ کر جاؤں گا جیسا تمہیں رسول الله صلی علیہ وسلم چھوڑ کر گئے تھے”۔ تب لوگوں نے کہا آپ اللہ سے ملاقات کے وقت اس کو کیا جواب دیں گے ؟ علی علیہ السلام نے کہا “میں کہوں گا اے الله تو نے مجھے ان میں رکھا جب تک چاہا، پھر مجھے موت دی جب تو نے چاہا. ایسے میں تجھے ان پر نگران چھوڑ کے آیا ! اب تو چاہے تو ان کی اصلاح کا معاملہ فرما اور چاہے تو ان کو برباد کر دے”)

اس تمہیدی بات کے بعد ہم حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کے خلیفہ بننے کے واقعہ کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس بارے ہم تاریخی روایات کی بجاۓ صحیح بخاری میں حضرت عمررضی الله عنہ سے منقول ایک طویل روایت کا متعلقہ حصہ نقل کرتے ہیں۔ حدیث کچھ یوں ہے :
“حضرت ابن عباس رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں مہاجرین کے کچھ لوگوں کو پڑھاتا تھا جن میں عبدالرحمن بن عوف بھی تھے۔ ایک دن میں ان کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ تھے اس حج میں جو حضرت عمر رضی الله عنہ نے آخری بار کیا تھا، عبدالرحمن میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش، تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمومنین کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کو فلاں کے متعلق خبر ہے جو کہتا ہے کہ اگر عمر رضی الله عنہ مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں، اللہ کی قسم ابوبکر کی بیعت بھی اتفاقیہ تھی جو پوری ہوگئی، چنانچہ حضرت عمر رضی الله عنہ کو غصہ آگیا اور کہا کہ ان شاء اللہ میں شام کے وقت لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور ان کو ڈراؤں گا جو مسلمانوں کے امور کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔ عبدالرحمن کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ اے امیرالمومنین ایسا نہ کیجئے اس لئے کہ موسم حج میں جبکہ عام اور پست قسم کے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ جس وقت آپ کھڑے ہوں گے تو اس قسم کے لوگ کی اکثریت آپ کے پاس ہوگی اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کھڑے ہو کر جو بات کہیں گے اس کو اڑا کر دوسری طرف لے جائیں گے اور اس کی حفاظت نہیں کریں گے اور اس کو اس کے (مناسب) مقام پر نہیں رکھیں گے۔ اس لئے آپ انتظار کریں یہاں تک کہ مدینہ پہنچیں، اس لئے کہ وہ دارالہجرت والسنت ہے صرف سمجھدار اور سربرآوردہ لوگوں کے سامنے آپ جو کہنا چاہیں کہیں، تاکہ اہل علم آپ کی گفتگو کو محفوظ رکھیں۔ اور اس کو اس کے مناسب مقام پر رکھیں، حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم، اگر اللہ نے چاہا تو مدینہ میں سب سے پہلے میں یہی بیان کروں گا، ابن عباس رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ذی الحجہ کے آخر میں مدینہ پہنچے، جب جمعہ کا دن آیا تو آفتاب کے ڈھلتے ہی ہم مسجد کی طرف جلدی سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کو منبر کے ستوں کے پاس بیٹھا ہوا پایا، میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے ملا ہوا تھا، فوراً ہی حضرت عمر رضی الله عنہ آئے جب میں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو میں نے سعید بن زید بن عمروبن نفیل سے کہا کہ آج حضرت عمر ایک ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے جب سے خلیفہ ہوئے ہیں کبھی نہیں کہی ہوگی۔ سعید نے میری بات سے انکار کیا اور کہا کہ مجھے امید نہیں ہے کہ ایسی بات کہیں گے جو اس سے پہلے نہ کہی ہو- چنانچہ حضرت عمر رضی الله عنہ منبر پر بیٹھ گئے، جب لوگ خاموش ہوگئے تو کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر کہا امابعد، میں تم سے ایسی بات کہنے والا ہوں جس کا کہنا میرے مقدر میں نہ تھا، میں یہ نہیں جانتا کہ شاید یہ میری موت کے آگے ہو جس نے اس کو سمجھا اور یاد کیا تو وہ جہاں بھی پہنچے دوسروں سے بیان کرے اور جس شخص کو خطرہ ہو کہ وہ اس کو نہیں سمجھے گا تو میں کسی کے لئے حلال نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ میرے متعلق جھوٹ بولے۔ [….] پھر کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم اگر عمر مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں۔ تمہیں کوئی شخص یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے کہ ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی اور پھر پوری ہوگئی، سن لو کہ وہ ایسی ہی تھی لیکن اللہ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے جس میں ابوبکر رضی الله عنہ جیسی فضیلت ہو، جس شخص نے کسی کے ہاتھ پر مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بیعت کرلی تو اس کی بیعت نہ کی جائے۔ اس خوف سے کہ وہ قتل کردیئے جائیں گے جس وقت اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وفات دے دی تو اس وقت وہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہم سب سے بہتر تھے ۔ مگر انصار نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر نے بھی ہماری مخالفت کی اور مہاجرین ابوبکر کے پاس جمع ہوئے تو میں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا کہ اے ابوبکر ہم لوگ اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، ہم لوگ انصار کے پاس جانے کے ارادے سے چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک بخت آدمی ہم سے ملے، ان دونوں نے وہ بیان کیا جس کی طرف وہ لوگ مائل تھے پھر انہوں نے پوچھا اے جماعت مہاجرین کہاں کا قصد ہے ہم نے کہا کہ اپنے انصار بھائیوں کے پاس جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا تمہارے لئے مناسب نہیں کہ ان کے قریب جاؤ۔ تم اپنے امر کا فیصلہ کرو میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم ان کے پاس جائیں گے۔ چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں ہم ان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو ان کے درمیان دیکھا کہ کمبل میں لپٹا ہوا ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ سعد بن عبادہ، میں نے کہا کہ ان کو کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ ان کو بخار ہے ہم تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ان کا خطیب کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور اللہ کی حمدوثناء کرنے لگا جس کا وہ سزاوار ہے۔ پھر کہا امابعد، ہم اللہ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین وہ گروہ ہو کہ تمہاری قوم کے کچھ آدمی فقر کی حالت میں اس ارادہ سے نکلے کہ ہمیں ہماری جماعت کو جڑ سے جدا کردیں اور ہماری حکومت ہم سے لے لیں۔ جب وہ خاموش ہوا تو میں نے بولنا چاہا، میں نے ایک بات سوچ رکھی کہ جس کو میں ابوبکر رضی الله عنہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا۔ اور میں ان کا ایک حد تک لحاظ کرتا تھا، جب میں نے بولنا چاہا تو ابوبکر رضی الله عنہ نے گفتگو کی وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم جو بات میری سمجھ میں اچھی معلوم ہوتی تھی اسی طرح یا اس سے بہتر پیرایہ میں فی البدیہہ بیان کی یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو، لیکن یہ امر (خلافت) صرف قریش کے لئے مخصوص ہے یہ لوگ عرب میں نسب اور گھر کے لحاظ سے اوسط ہیں۔ میں تمہارے لئے ان دو آدمیوں میں ایک سے راضی ہوں ان دونوں میں کسی سے بیعت کرلو، چنانچہ انہوں نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے (عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں) مجھے اس کے علاوہ ان کی کوئی بات ناگوار نہ ہوئی، اللہ کی قسم میں اس جماعت کی سرداری پر جس میں ابوبکر ہوں اپنی گردن اڑائے جانے کو ترجیح دیتا تھا، یا اللہ مگر میرا یہ نفس موت کے وقت مجھے اس چیز کو اچھا کر دکھائے جس کو میں اب نہیں پاتا ہوں۔ انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم اس کی جڑ اور اس کے بڑے ستون ہیں، اے قریش ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے۔ شوروغل زیادہ ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں، یہاں تک کہ مجھے اختلاف کا خوف ہوا میں نے کہا اے ابوبکر اپنا ہاتھ بڑھائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین نے بھی بیعت کی۔ پھر انصار نے ان سے بیعت کی اور ہم سعد بن عبادہ پر غالب آگئے، کسی کہنے والے نے کہا کہ تم نے سعد بن عبادہ کو قتل کر ڈالا، میں نے کہا اللہ نے سعد بن عبادہ کو قتل کیا، عمر رضی الله عنہ نے کہا جو معاملہ ہوا تھا ہمیں اندیشہ ہوا کہ اگر ہم قوم سے جدا ہوئے اور ابوبکر رضی الله عنہ کی بیعت نہ کی تو یہ لوگ ہمارے پیچھے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے۔ اس صورت میں یا تو ہم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلیں جو ہماری مرضی کے خلاف ہوتا یا ہم اس کی مخالفت کرتے اور فساد ہوتا، جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی سے بیعت کی اس کی پیروی نہ کی جائے نہ اور اس کی جس نے بیعت کی – وہ قتل کئے جائیں گے۔”
(صحیح بخاری، حدیث نمبر٦٨٣٠)
اس حدیث سے چند باتیں سامنے آتی ہیں :
• حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کسی کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا تھا کہ اس کو خلیفہ بنایا جائے –
• حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت ہنگامی بنیادوں پر ہوئی تھی، کیونکہ مدینہ میں موجود منافقین نے گروہ انصار و مہاجرین کے درمیان غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی تاکہ اس اسلام میں تفرقہ ڈالا جائے – مگر اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے امر خلافت و اتحاد امت کو ہر چیز پر مقدم جانا –
• حضرت ابو بکر کی مخصوص حالت میں کی جانے والی بیعت کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ امت کے مشورہ کے بغیر ان پر حکمرانی کرے –
• عرب کے مخصوص حالات میں غیر قریش کی خلافت لوگوں کے لیے قبول کرنا کافی مشکل تھا –
• حضرت عمر رضی الله عنہ کے دور میں ہی ایسا گروہ پیدا ہو گیا تھا جو خلافت اسلامی کو تباہ کرنے اور اس کو اغوا کرنے کی سازشوں میں مصروف تھا (یعنی یہ کوئی ابن سبا کا گروہ نہیں بلکہ خود اہل اسلام میں موجود ہی کوئی شخص تھا جس کے بارے میں یہ خیال تھا کہ اس کی اچانک بیعت بھی قبول کر لی جائے گی – اب ظاہر ہے کسی عام آدمی کے بارے ایسا خیال کرنا حماقت ہے )

جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے سقیفہ میں موجود اصحاب کی اکثریت نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی، ایسے ہی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد مسجد نبوی میں بیعت عام کی گئی اور اس کے بعد حضور صلی الله علیہ وسلم کو دفنایا گیا – حدیث یہ ہے :
“حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عمر رضی الله عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب کہ وہ منبر پر بیٹھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کا دوسرا دن تھا، انہوں نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکر خاموش بیٹھے ہوئے تھے، کچھ نہیں بول رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ ہمارے بعد انتقال فرمائیں گے، پھر اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتقال فرما گئے تو اللہ نے تمہارے سامنے نور پیدا کردیا ہے کہ جس کے ذریعے تم ہدایت پاتے ہو، جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت کی بے شک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت ابوبکر رضی الله عنہ جو غار میں دوسرے ساتھی تھے مسلمانوں میں سے تمہارے امور کے مالک ہونے کے زیادہ مستحق ہیں، اس لئے اٹھو اور ان کی بیعت کرو، ان میں سے ایک جماعت اس سے پہلے سقیقہ بنی ساعدہ ہی میں بیعت کرچکی تھی اور عام بیعت منبر پر ہوئی، زہری نے حضرت انس بن مالک، کا قول نقل کیا ہے، کہ میں نے حضرت عمر رضی الله عنہ کو اس دن سنا کہ حضرت ابوبکر سے کہتے ہوئے کہ منبر پر چڑھیے اور برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ وہ منبر پر چڑھے اور لوگوں نے عام بیعت کی۔”
(بخاری ، حدیث نمبر ٧٢١٩)
ان دو روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کواصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی اکثریت نے اپنی آزاد مرضی سے اپنا خلیفہ منتخب کیا۔ ہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی الله عنہ نے حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت نہیں کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی چھ ماہ تک (یعنی حضرت فاطمہ سلام الله علیھا کے انتقال تک ) حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت نہیں کی-
اس سلسلے میں پہلی روایت کچھ یوں ہے :
“حضرت عائشہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ دختر نبی حضرت فاطمہ رضی الله عنہ نے (کسی کو) حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں بھیجا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس مال کی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں دیا تھا اور خیبر کے بقیہ خمس کی میراث چاہتے ہیں۔ تو ابوبکر نے جواب دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے ہاں آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں سے (بقدر ضرورت) کھا سکتی ہے اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقہ میں آپ کے عہد مبارک کے عمل کے خلاف بالکل تبدیلی نہیں کرسکتا اور میں اس میں اسی طرح عمل درآمد کروں گا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے۔ یعنی حضرت ابوبکر نے اس میں ذرا سی بھی حضرت فاطمہ رضی الله عنہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تو حضرت فاطمہ رضی الله عنہ اس مسئلہ میں حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے ناراض ہوگئیں اور انہوں نے اپنی وفات تک حضرت ابوبکر سے گفتگو نہ کی۔ حضرت فاطمہ رضی الله عنہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان کے شوہر حضرت علی نے انہیں رات ہی کو دفن کردیا اور حضرت ابوبکر کو اس کی اطلاع بھی نہ دی اور خود ہی ان کے جنازہ کی نماز پڑھ لی۔ حضرت فاطمہ رضی الله عنہ کی حیات میں حضرت علی رضی الله عنہ کو لوگوں میں وجاہت حاصل تھی جب ان کی وفات ہوگئی تو حضرت علی رضی الله عنہ نے لوگوں کا رخ پھرا ہوا پایا تو حضرت ابوبکر سے صلح اور بیعت کی درخواست کی -حضرت علی رضی الله عنہ نے ان سے (چھ) بیعت نہیں کی تھی تو حضرت علی رضی الله عنہ نے حضرت ابوبکر کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے یہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی دوسرا نہ ہو۔ یہ اس لئے کہا کہ کہیں حضرت عمر نہ آجائیں حضرت عمر کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے فرمایا بخدا! آپ وہاں تنہا نہ جائیں حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کچھ برائی کریں بخدا! میں ان کے پاس جاؤں گا لہذا حضرت ابوبکر ان کے پاس چلے گئے تو حضرت علی رضی الله عنہ نے تشہد کے بعد فرمایا کہ ہم آپ کی فضیلت اور اللہ کے عطا کردہ انعامات کو بخوبی جانتے ہیں نیز ہمیں اس بھلائی میں (یعنی خلافت میں) جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے کوئی حسد نہیں، لیکن آپ نے اس امر خلافت میں ہم پر زیادتی کی ہے حالانکہ قرابت رسول کی بناء پر ہم سمجھتے تھے کہ یہ خلافت ہمارا حق ہے حضرت ابوبکر یہ سن کر رونے لگے اور فرمایا قسم ہے اللہ کی! قرابت رسول کی رعایت میری نظر میں اپنی قرابت کی رعایت سے زیادہ پسندیدہ ہے اور میرے اور تمہارے درمیان آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں نے اس میں ہرگز امرخیر سے کوتاہی نہیں کی اور اس مال میں میں نے جو کام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا اسے نہیں چھوڑا۔ حضرت علی رضی الله عنہ نے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا کہ زوال کے بعد آپ رضی الله عنہ سے بعیت کرنے کا وعدہ ہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو آپ رضی الله عنہ منبر پر بیٹھے اور تشہد کے بعد حضرت علی رضی الله عنہ کا حال، بیعت سے ان کے پیچھے رہنے اور انہوں نے جو عذر پیش کئے تھے انہیں بیان فرمایا : پھر حضرت علی رضی الله عنہ نے استغفار و تشہد کے بعد حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے حقوق کی عظمت و بزرگی بیان کرکے فرمایا کہ میرے اس فعل کا باعث حضرت ابوبکر پر حسد اور اللہ نے انہیں جس خلافت سے نوازا ہے اس کا انکار نہیں تھا۔ لیکن ہم سمجھتے تھے کہ امر خلافت میں ہمارا بھی حصہ تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اس میں ہمیں چھوڑ کر خود مختار بن گئے تو اس سے ہمارے دل میں کچھ تکدر تھا، تمام مسلمان اس سے خوش ہوگئے اور کہا کہ آپ رضی الله عنہ نے درست کام کیا اور مسلمان حضرت علی رضی الله عنہ کے اس وقت پھر ساتھی ہوگئے جب انہوں نے امر بالمعروف کی طرف رجوع کرلیا۔”
(بخاری، حدیث نمبر ٤٢٤٠)
اس حدیث سے اسلامی ریاست و سیاست کے چند بنیادی اصول سامنے آتے ہیں :
• خلیفہ راشد کی بیعت نہ کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ ورنہ حضرت سعد اور حضرت علی کا حضرت ابو بکر کی بیعت نہ کرنا بھی کفر شمار ہوگا -(استغفر الله )
• کسی اچھے سے اچھے آدمی کا اپنے آپ کو مستحق خلافت سمجھنا بھی اکثریت امت کے منتخب کردہ شخص کے انتخاب پر اثر اندر نہیں ہوتا بشرطیکہ اس میں خلیفہ ہونے کی شرائط پائی جاتی ہوں –
• بیعت اپنی مرضی سے کی جاتی ہے ، زبر دستی لی نہیں جاتی، نہ خود مانگی جاتی ہے۔ بلکہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو بطور امیدوار خود پیش کرنے کی خود حضور صلی الله علیہ وسلم نے شدید مذمت کی ہے، اسی وجہ سے اسلام میں امیدواری حرام ہے۔
• حضرت علی علیہ السلام کا حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی بیعت کر لینا ان کی نظر میں اس خلافت کا صحیح ہونا ثابت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ فاتح خیبر ، مولی المومنین کسی دباؤ یا مصلحت کے تحت کوئی غیر اسلامی کام کرے یا کسی نااہل کی حکومت قبل کرے ! جب ان کا بیٹا طاقت نہ ہونے کے باوجود ایک جبر سے مسلط کی جانے والی حکومت کے سامنے ڈٹ سکتا ہے تو باپ کیسے کسی متغلب کے سامنے سر خم کر سکتا ہے ؟

المختصر ہر انسان کا سیاسی حق ہے کہ وہ چاہے تو خلفیه کو تسلیم کرے چاہے تو اس کو تسلیم نہ کرے – جب تک وہ پر امن رہے اور فساد برپا نہ کرے اس کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس سے طاقت ، رشوت یا خوف کے ذریعہ بیعت لی جا سکتی ہے۔

حسنات محمود
حسنات محمود
سائنس و تاریخ شوق، مذہب و فلسفہ ضرورت-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *