اک فاٹا والے کی کہانی۔۔عبدالصمد

ڈرون حملے ریاست کی مرضی سے اب تک ہورہے ہیں اور ریاست خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے بلکہ ریاست کے بڑوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ فاٹا کے علاوہ جہاں بھی ڈرون حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے اس سے واضح ہوتاہے کہ فاٹا کو ریاست پاکستان اپنا حصہ تک ماننے پر تیار نہیں۔ریاست نے آپریشن ضربِ عضب کے دوران بہت سی ماؤں کے جگر گوشے شہید کرکے دہشتگرد ثابت کرنے میں کوئی کسر  نہ چھوڑی۔

یہ بھی پڑھیں :  فاٹا پہ سب خاموش کیوں؟

2014 کی وہ رات مجھے اچھی طرح یاد ہے  جب رمضان کے مہینے میں ہمارے گاؤں پر سحری کے وقت ایف سولہ طیاروں سے بمباری کی گئی  اور صبح پاکستانی چینلز پر اُس وقت کے آئی ایس پی آر نے فخر سے کہا تھا کہ کل رات شوال کے علاقے زوئی میں سولہ دہشتگرد مارے گئے حالانکہ وہ دہشتگرد نہیں بلکہ سب ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

راؤ انور جیسے ہزاروں کالے بھیڑیے آج بھی فاٹا میں بے گناہ لوگوں کو بے درددی سے قتل کر رہے  ہیں لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں،فاٹا میں بغیر کسی وجہ کے آئے  روز کے  کرفیو ایک بندے کی وجہ سے ہم نہیں سہہ رہے بلکہ اس کے پیچھے پورا سسٹم ملوث ہے،فاٹا میں جب بھی کوئی دھماکہ ہوجاتا ہے تو وہاں رہنے والے تمام لوگوں کو بے دردی سے ملک کے سیکورٹی ادارے مارتے رہتے ہیں،ریاستی ادارے کا کوئی افسر ان کا حال پوچھنے  نہیں آتا۔

فاٹا میں تقریباً ہر جگہ لینڈ مائینز فصل کی طرح بوئے گئے ہیں، ریاست اگر وزیرستان کو دہشتگردوں سے خالی کرنے کے  کھوکھلے دعوے کرسکتی ہے  تو وہ لینڈ مائینز سے بھی وزیرستان کو پاک کرسکتی ہے جن کی وجہ سے بہت سے معصوم جان کی بازی ہار گئے،ریاست اگر دہشتگردوں سے علاقے کو خالی کرنے کی ذمہ داری لیتی  ہے تو ریاست دہشتگردوں کو دوبارہ جگہ نہ دینے کی  بھی ذمہ دار  لے،جو آج اتنے آپریشنوں کے باوجود بھی وہاں آزاد گھومتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :  فاٹا اصلاحات اور ہماراقومی رویہ۔۔اسلم اعوان

فاٹا میں آج تک کوئی قابلِ قدر سکول،کالج اور یونیورسٹی نہیں بنی،اس کا  ذمہ دار کون ہے؟
کیا تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری نہیں؟
فاٹا خصوصاً وزیرستان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں آج تک کوئی سکول تعمیر نہ ہوسکا۔کیا کسی ملک نے ستر سالوں تک اپنے لوگوں پر جانوروں کا قانون لاگو کیا ہے؟۔۔کیا دنیا کی تاریخ میں کسی ملک نے اپنے شہریوں کو  اس طرح اندھیروں میں رکھا ہے  جس طرح ہمیں اب تک رکھا گیا؟
کیا اب تک دنیا کی  کسی ایک ریاست میں دو قانون ایک ملک کے شہریوں پر لاگو ہوئے ہیں؟
کیا دنیا کے کسی ملک نے اپنے شہریوں کو قومیت کی بنیاد پر تنگ کیا ہے؟

اب بتائیے جناب ہمارے اوپر ہونے والے مظالم میں زیادہ تر ریاست کا ہاتھ رہاہے یا مخصوص لوگوں کا؟؟

ہم ستر سالوں سے یہ سب خاموشی سے برداشت کررہے ہیں اور آپ نے آج تک اس ظلم پر منافقانہ خاموشی اختیار کی۔ جب اب لوگ اس ظالمانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو تمہیں ریاست کی بقاء یاد آگئی ،ہمیں بھی اس ریاست کی بقاء عزیز تھی لیکن تم خواہ مخواہ باغی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اک فاٹا والے کی کہانی۔۔عبدالصمد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *