نیا جمہوری بیانیہ۔۔ناصر منصور

پاکستان کب بحران کا شکار نہیں رہا ، یہ اپنے وجود میں آنے سے لے کر آج تک مسلسل بحرانی کیفیت کا شکاررہا ہے ۔ گوہر بار اس کی وجوہات مختلف رہی ہیں لیکن بعض وجوہات ایسی ہیں جو مستقل عذاب کی صورت موجود رہی ہیں جن کے نتیجے میں وقتاََ فوقتاََ بحران امڈ آتے ہیں ۔ ان بحرانوں کو جنم دینے والے محرکات میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ایک محرک ملک میں جمہوریت اور حقیقی جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے جاری جدوجہد کو مسلسل ناکام بنانے کی سازشیں ہیں ۔جمہور اور جمہوریت دشمن قوتوں کے نزدیک عوام الناس کی جمہوریت سے والہانہ وابستگی ایک ایسا نہ ختم ہونے والا روگ ہے جو انھیں مسلسل اذیت ناک المیوں سے دوچار کرتا رہا ہے ۔جمہوری ادارے عوام کی طاقت سے اپنی آئینی بالادستی کے متمنی ہیں اور ریاست کے حقیقی ترجمان ہیں لیکن حقیقت میں یہ آئینی کردار اب تک ادا نہیں ہو پارہا جس کی بنیادی وجہ غیر جمہوری قوتوں کا طاقتور ہونا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں :  غربت اور اس کے اعداد و شمار ۔شاداب مرتضی

اگر ہم اپنی تاریخ کا جائزہ لیں تو نظر آئے گا کہ آج جو قوتیں ریاست کی نگہبان ہونے کی دعویدار ہیں وہ برطانوی استعمار کے خلاف لڑی جانے والی والی جنگِ آزادی کی موافق سمت کی بجائے اس کے مخالف کھڑی تھیں ۔ تقسیمِ ہند اور دو ممالک کی شکل میں ملنے والی آزادی کے بعد پاکستان ایک عرصے تک آئین سے محروم رہا جب کہ تقسیم نے خطے میں نئی طرح کی خونی دراڑیں پیدا کیں۔اس کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کو ہجرتوں کے دکھ سہنے پڑے ،مذہب کی بنیاد پر آبادی کے ایک بڑے حصے کو مستقل نقل مکانی کے عذاب سے گزرنا پڑا اور مذہب کے نام پر قتل عام نے نفرت کی ایسی لکیر کھینچی جو آج تک مٹنے کا نام نہیں لیتی ۔

یہی وہ نفرت انگیزی ہے جسے جمہوریت اور جمہوری قوتوں کے خلاف استعمال کیا گیا اور غیر جمہوری قوتوں کو پنپنے اور گل کھلانے کا خوب موقع فراہم کیا گیا ۔ آئین سازی سے مسلسل انحراف ،وفاقیت کی روح پر ضرب اور سامراجی ممالک سے گہرے راہ ورسم نے جمہوری راستے پر چلنے کے عمل کو مزیدمسدود کر دیا ۔یوں عوامی خواہش سے مسلسل روگردانی کے نتیجے کے طور پر بلاآخر غیر جمہوری قوتوں کو فوجی آمریت کی شکل میں مسلط ہونے کے اولین مواقع ملے ۔

یہ بھی پڑھیں :  عاصمہ جہانگیر ،انسانی حقوق اور جمہوریت کی علمبردار۔۔یاسر حمید

یہ ملک پر مسلط ہونے والی پہلی باضابطہ آمریت ہی تھی جس نے وفاق اور جمہوریت سے وابستہ سوچ کو غداری کے متراد ف قرار دیا اور ملک کو پہلی بارسامراجی فوجی معاہدوں کے ذریعے طفیلی ریاست بنانے کی طرف جانے والی راہ ہموار کی ۔خطے کے ممالک کے خلاف غیر ملکیوں کو جاسوسی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت کی غیر ذمہ دارانہ روایت کا آغاز کیا گیا ۔اس طرزِ حکمرانی کے خلاف صف آراء افراد اور طاقتوں کو غدار قرار دیا گیا یہاں تک کہ پاکستان کے بانی کی ہمشیرہ بھی ہندوستانی ( غیر ملکی) ایجنٹ قرار پائیں۔ وفاقیت جو کہ ریاست کی بنیادی اساس تھی اسی کو کھوکھلا کیا گیا اوروفاق کو قائم کرنے والی وفاقی اکائیوں کی مضبوط جمہوری حیثیت کی بات کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ ثقافتی تنوع پر مبنی وفاقی وحدت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ۔ ایک ملک ،ایک مذہب ،ایک قوم ،ایک زبان کے جذباتی نعروں کی بنیاد پر مذہبی ،لسانی ،ثقافتی اور قومی تنوع کے فطری اظہار اور ارتقا کو غیر فطری انداز میں دبا کر گھٹن اور منافقت پر مبنی سوچ پر استوار وہ اونچی فصیل کھڑی کی گئی جس میں ہر صدادب کر رہ گئی۔اس گھٹن اور حبس کے ماحول نے سماج پر خطرناک اثرات مرتب کیے ۔

ایسی سماجی کیمیائی تبدیلیاں رونما ہونی شروع ہوئیں جنھیں اصل اور فطری حالات میں بحال کرنا تقریباََ ناممکن بنا دیا گیا۔وفاقیت پر مبنی جمہوری ریاست کی بجائے آمریت کو مضبوط کرتی مرکزیت مقدس نصب العین قرار پایا ۔پھر دیکھا گیا کہ پہلے آمرانہ دور حکومت کے بطن سے بنگلہ دیش بننے کی بنیادوں نے جنم لیا اور دوسرے دورِ آمریت نے جب طاقت کے زور پر جمہوری فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو بنگلہ دیش نے حقیت کا روپ دھار لیا ۔

ابھی اس المناک صورتحال سے نکلے ہی نہ تھے کہ ایک اور آمریت نے آن دبوچا ۔اس بار یہ صرف جمہوریت اور جمہور دشمن ہی نہ تھی بلکہ اپنے جلو میں سماج کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دینے والی مذہبی سوچ بھی لے کر آئی ۔ اس آمریت نے سیاسی عمل ،سیاسی جماعتو ں ،طلبہ تنظیموں اور مزدور انجمنوں کو نہ صرف غیر قانونی قرار دیا بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ مذہب میں ان کی گنجائش ہی موجود نہیں ۔آمریت کے اس سیاہ ترین دور نے مذہبی بیانیہ اور اس کی منطقی پیداوار مسلح لشکروں کے عفریت کو خوب پالا پوسا اور سماج کے ہر خرد افروز ،ترقی پسند اور جمہوری رُخ کو مسخ کر کے رکھ دیا ۔ جمہور کی حمایت سے محروم یتیم مذہبی ولسانی گروہوں کو باضابطہ طور پر نہ صرف اپنے مفادات کے لیے اندرونی طور پر مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا بلکہ اپنی اس خوں ریزی پر آمادہ پروڈکٹ کو بین الاقوامی طور پر بھی مارکیٹ بھی کیا گیا جس کا جدید استعماری قوتوں خصوصاََ امریکی سامراج نے بھرپور استقبال کیا۔کیوں کہ افغانستان میں ترقی پسند اور ایران میں شاہ مخالف انقلابی تبدیلیوں نے ان کی اہمیت کو دو آتشہ کر دیا تھا ۔

جہاد کے نام پر افغانستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی اور خود ملک کو مذہب، فرقہ اور لسان کی بنیاد پر تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا گیا ۔ آج پورا خطہ اس عفریت کی تباہ کاریوں کا شکار ہے ۔ماضی قریب میں ایک بار پھر ایک نئی آمریت نے انہی جہادیوں کو فسادی اور فتنہ پرور قرار دیتے ہوئے ان کی بیخ کنی کے نام پر عالمی استعمار سے خوب مال کمایا ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ یہ خونخوار حیوانیت ہمارے سماج کے ہر حصے کو سرطان کی طرح متاثر کر چکی ہے ۔مذہبی لشکر اور تنظیمیں جمہور کی پشت پناہی سے محرومی کے باوجود غیر جمہوری قوتوں کے اشارے پر جس جگہ چاہے حکومتوں کو عضوئے معطل بنانے کی طاقت کا عملی طور پر اظہار کر چکی ہیں ۔یہ وہ وحشت ہے جس نے ایک طرف خطے میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی اور تسلط کو یقینی بنایا تو دوسری جانب اپنے اہداف تبدیل کر کے ملک کے اندر حملہ آور ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : جمہوریت خطرے میں ہے ۔۔نازش ہما قاسمی

ہماری تاریخ کا یہ بدنما سفر بتاتا ہے کہ آمرانہ طرزِ حکومت نے جہاں بہت سے مظالم ڈھائے وہاں تمام لاحاصل جنگیں انہی سیاہ ادوار میں ہوئیں ، جغرافیائی تبدیلیوں کے محرکات بھی یہی آمرانہ حکومتیں تھیں اور انہی آمریتوں نے حقیقی سیاسی لیڈر شپ کو کچلنے اور مصنوعی سیاسی لیڈراور جماعتیں تیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔آزادی کے بعدسے شروع ہونے والے سفر میں عام لوگوں کے حصے میں سماجی ابتری ، حقوق سے مسلسل دستبرداری ، خوف اور لایعنی شب وروز کے سوا کچھ نہ آیا ۔لیکن اس رائیگانی کے سفر کے ذمہ دار اور جرم کے مرتکب اپنے کیے پر پشیمان ہونے کی بجائے ڈھٹائی کے ساتھ فخریہ انداز میں فتح کے نقارے بجاتے ہیں اور ان کے جھوٹے سُروں میں آواز نہ ملانے والے مطعون وملعون قرار پاتے ہیں ۔

کیا ہمیں یہ کہنے میں اب بھی کسی شک وشبہے کی گنجائش ہے کہ ملک پر مسلط غیر جمہوری ادوار میں جہاں ملک کا حدود واربع تبدیل ہوا وہیں سماجی بنت میں مذہبی منافرت ،نسلی تفریق ، صنفی تفاوت اور معاشی ابتری ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ گئی ۔ ثقافتی ،قومی ،مذہبی ہم آہنگی کے لیے صدیوں سے روشن دلیل بنایہ خطہ آج انہی جمہور دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں عمودی وافقی طور پر مکمل تقسیم در تقسیم ہو چکا ہے۔

اس ساری دگرگوں صورتحال میں جمہور اور جمہوری قوتیں ہی ہیں جو غیر جمہوری دیو قامت ہیولے اور اس کے مہیب سایوں سے مسلسل نبرد آزما رہی ہیں ۔یہ ناتواں مگر مسلسل طاقت حاصل کرتی حق پر مبنی آوازیں مذہبی رواداری ،ثقافتی تنوع کے فطری اظہار ،صنفی امتیازات کے خاتمے،جمہوری اداروں کی توقیر ،ر سماجی ومعاشی انصاف اور ایک جمہوری وفاق  کی جانب بڑھتے راستے کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہو سکتی ہیں ۔ان روشنی کی کرنوں میں اضافہ جمہوری اقدار کی پاسداری اور جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کے تسلسل ہی میں پنہاں ہے ۔وقت کا بے رحم ہاتھ مسلسل غیر جمہوری قوتوں کو طاقتور ترین ہونے کے باوجود بے نقاب کر رہا ہے اور ان قوتوں کے دست راست عوام کے بڑے حصے کے سامنے اپنی عزت وتکریم کھو رہے ہیں ۔

ہمارے سماج میں آج ابھرے ہوئے جمہوری سوال میں پنہاں سویلین بالادستی کا بنیادی مطالبہ ہی سماج کو ترقی کی جانب لے جانے کا اس وقت بہتر دستیاب راستہ ہے ۔گو یہ راستہ دشوار گزار رہا ہے مگر آج اس کی مخدوش حالت بدلنے کے حقیقی امکانات پیدا ہو چکے ہیں ۔اگر سماج کو انسانی اقدار کی بنیادوں پر استوار ترقی کی جانب بڑھنا ہے تو یہی وہ ابتدائی راستہ ہے جو منزل کی جانب لے جانے کی ترغیب دیتا ہے ۔

اس مخدوش ترین راستے کو ہموار کرنے اور سفر کے قابل بنانے میں جمہوری سیاسی قوتوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے ۔جہاں انھوں نے ماضی میں بہت سی بھیانک غلطیاں بھی کیں وہاں یہ جمہوریت کے لیے سولیوں پر جھولے، تاریک راہوں میں مارے گئے ،جلاوطن ہوئے ،کوڑے کھائے ،قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور طعنہ زنی کے داغ بھی دھوئے ہیں ۔یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ۔جمہوری اقدار کی پاسداری اور فروغ کے مواقع موجود ہیں اور توانا ہو رہے ہیں ۔یہ صحت مند رحجان ہے کہ ملک کا وہ خطہ جہاں جمہوری تحریکیں قدرے کمزور تھیں آج وہ اس کا مرکز ہ بن گیا ہے ۔ جمہوریت سے متعلق باب میں داغدر دامن رکھنے والوں نے وہ قیمت ادا کی کہ سارے داغ دھبے بے نام ونشان ہو گئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں : جمہوریت کی فکر فرمائیے۔ظفر الاسلام سیفی

وقت اور عالمی حالات کے ارتقا نے نئے مادی حالات میں نئے کردار تخلیق کیے جو بحیثیت فرد تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کا نادر موقع پارہے ہیں ۔ یہ نادر موقع ایک نئے جمہوری بیانیے کو جنم دے رہا ہے جس کے ساتھ جمہور کے دل دھڑکتے ہیں اور آج جو بھی اس جمہوری بیانیے کا نقیب بنے گا وہی تاریخ میں معتبر ٹھہرے گا۔جو بھی جمہور کی بنیادی اور اولین امنگوں میں سے ایک یعنی جمہوریت کی فتح کے لیے آوازہ بلند کرتے ہوئے طاقت کے بے مہار مرکز اور لاؤ لشکر کو للکارے گا وہ انبوہِ جمہور کو اپنے ارد گرد پائے گا ۔

آج وقت کا ایک اہم معرکہ بپا ہے ۔اس ملک میں جو بھی طبقہ،فرد یا گروہ ایک جمہوری وفاق ، ثقافتی وقومی تنوع کی فطری ترقی ،مذہبی جنونیت اور بربریت سے نجات ،انسانی اقدار کی پاسداری اور مظلوم طبقات کے فوری بنیادی معاشی ،سیاسی حقوق کی ضمانت کا طالب ہے تو اسے تمام تحفظات رکھنے کے باوجود نئے جمہوری بیانیے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔نئی صفی بندی ہونے جا رہی ہے ،باشعور نظریاتی اور انقلابی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں قوتوں کو اپنے سماجی تبدیلی کے بیانیے کی تکمیل کے لیے نئے جمہوری بیانیے کا پوری قوت سے ساتھ دینے کی ضرورت ہے ۔کیوں کہ یہ ایک بڑی سماجی تبدیلی کے بیانیے کا بنیادی ضمنی مگر اہم حصہ ہے ۔

ناصر منصور
محنت کی نجات کے کوشاں ناصر منصور طالبعلمی کے زمانے سے بائیں بازو کی تحریک میں متحرک ایک آدرش وادی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نیا جمہوری بیانیہ۔۔ناصر منصور

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *