• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عاصمہ جہانگیر ،انسانی حقوق اور جمہوریت کی علمبردار۔۔یاسر حمید

عاصمہ جہانگیر ،انسانی حقوق اور جمہوریت کی علمبردار۔۔یاسر حمید

مردوں کے اس کمزور معاشرے میں ایک عورت بہادری کی تاریخ رقم کرنے کے بعد دفن ہو گئی۔ اور وہ اکیلی نہیں سب مظلوموں کو بھی یتیم کر گئی۔ ان سب مظلوموں کے لیے جو کسی ادارے یا تنظیموں کے ستائے ہوئے تھے ان کے باپ کی حیثیت رکھتی تھی۔
بے ضمیر معاشرے میں وہ واحد عورت تھی جو حق سچ اور انصاف کے لیے بہادری سے نام کے خداؤں کے سامنے ڈٹ گئی۔ وہ ڈری نہیں وہ جھکی نہیں۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کی آواز بنی۔
عاصمہ جہانگیر ہرحیثیت سے معاشرے کے ساتھ کھڑی تھی ۔ جس معاشرے میں عورت کو مرد کی جوتی سمجھا جاتا تھا۔ وہاں وہ عورت اکیلی تنہا ظلم کے خلاف للکاری تھی۔ کہ بڑے بڑے مرد آنکھ اٹھا نہ سکے۔ وہ سسٹم کی وفاداری کے بجائے لوگوں اور انسانیت سے وفا کی قائل تھی۔عاصمہ جہانگیر غیر معمولی کردار کی مالک تھی۔ جب ان کے والد کو جیل میں ڈال دیا گیا اورکوئی وکیل کیس لینے کو تیار نہیں تھا۔ تب انہوں نے خود اپنے والد کا کیس خود لڑا اور وہ بہادر لڑکی جیت گئی۔
اور پھر ملک پاکستان کے آئین کو تشکیل دینے کا سہرا بھی عاصمہ جہانگیر کو ہی جاتا ہے۔

1983میں صفیہ بی بی سے زیادتی کیس میں عدالت نے صفیہ بی بی کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تب عاصمہ جہانگیر نے کیس لڑا اور صفیہ کی جیت ہوئی۔
1993 میں سلامت مسیح پر 14 برس کی عمر میں توہین مذہب میں سزائے موت سنائی گئی ایسے  حساس کیس پر کون لڑتا۔ عاصمہ جہنگیر آئیں عدالت میں دلائل پیش کیے  عدالت کو ماننا پڑا ان کا فیصلہ غلط تھا اور شرپسند عناصر نے مذہب کا استعمال کر کے بچے کو پھنسایا ہے اس کو رہائی دلوائی۔عاصمہ جہانگیر نے ہی عورتوں کے لیے مرضی سے شادی کرنے کا آئینی اور مذہبی حق بھی دلوایا۔

غرض اس بہادر عورت نے مظلوم لوگوں اقلیتوں عورتوں کو ہمیشہ ان کے حقوق دلوائے اور اس میں ان کا معیار ہی الگ تھا۔
وہ چاہے کشمیری ہوں یا بلوچی۔ یا اوکاڑہ کا مزارعین یا بلوچستان کے لوگوں کے لیے آواز اٹھائی۔رائے کی اظہار کی آزادی کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی۔ جب تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر لوگوں کو اٹھایا گیا وہ تب بھی خاموش نہ رہی۔بنا کسی تعصب کے ہر طرح کے شہری کا سہارا  بنی۔ اقلیتوں, غریب مظلوموں, مسیحیوں , ہندو, احمدیوں حتی کہ ملک سے باہر فلسطینیوں , کشمیریوں کے حق کے لیے بھی باہر نکلیں۔ وہ ہر مظلوم کو یتیم کر گئی کیوں کہ انہوں نے ہر انسان کا ساتھ دیا جو ظلم کا مارا  ہوا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ان کا زندگی کا سب سے کامیاب لمحہ وہ تھا جب انہوں نے زیادتی کا شکار ہونے والی ایک مزدور عورت کا کیس لیا ، وہ عورت عدالت نہیں جانا چاہتی تھی میں نے یقین دلایا کہ وہ بھی مضبوط ہے میں نے اسے ہمت اور جرات دی۔ اور وہ بہت بہادری اور جرات کے   ساتھ عدالت گئی اور اس نے زیادتی کرنے والے ظالم کو للکارا۔ وہ میرے لیے سب سے کامیاب لمحہ تھا ۔
وہ قوم کی قابل فخر بیٹی اور ماں تھی۔ وہ ایک نہتی عورت نہیں تھی۔ اس کے ساتھ پورا ایک زمانہ تھا ایک سوچ تھی اور ایک لمبی جدوجہد۔آج وہ ایک بڑا قرض نہ صرف اقلیتوں پر بلکہ قیدیوں , پختونوں, بلوچوں , عورتوں پر بلکہ سب مظلوموں پر چھوڑ گئی۔
اس سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے پر اس کی ملکی اور انسانی خدمات پر ان کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
اور یہ معاشرہ صدیوں تک اس کی خدمات کابدلہ نہیں چکا پائے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عاصمہ جہانگیر ،انسانی حقوق اور جمہوریت کی علمبردار۔۔یاسر حمید

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *