غیر طبقاتی سماج۔۔غضنفر علی

“ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں محنت کش طبقے کا مفت اور معیاری علاج ہو ، ہم ایک ایسا غیر طبقاتی سماج چاہتے ہیں جہاں سب کے لیے ایک جیسی تعلیم اور روزگار کے مواقع ہوں  ،بند کرو ، بند کرو عوام کا استحصال بند کرو ۔۔۔”
لاہور کی فیروزپورروڈ پر واقع جنرل ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرین سے کامریڈ نازیہ کے جذباتی خطاب کے دوران ساری فضاء طبقاتی جدوجہد سے متعلق فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی ۔ شدید گرمی کے باوجود احتجاجی مظاہرین کا جوش و  ولولہ دیدنی تھا –
کامریڈ نازیہ نے اپنے چہرے سے پسینہ پونچھتے ہوئے اپنی تقریر جاری رکھی
” ہماری منزل ایسا معاشرہ ہے جہاں سب کو ایک جیسی صحت کی سہولیات میسر ہوں،ہم ایسے نظام کو نہیں مانتے جہاں عام آدمی اور محنت کش طبقے کے لیے صحت کی سہولیات ناپید ہوں اور اشرافیہ کا علاج ترجیحی بنیادوں پر ہو، ہماری پریرنا کامریڈ حبیب جالب ہے جس نے نجی ہسپتال میں علاج کروانے کے بجائے عوام کے ساتھ مرنا پسند کیا –
فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
میرے بچے بھی امریکہ میں پڑھتے
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا ”
تالیوں کی گونج میں کامریڈ نازیہ کی آواز مانند پڑ گئی —–

ارے یہ کیا ہوا ؟ سب لوگ  سٹیج کے اردگرد جمع ہونے لگے ،کامریڈ نازیہ گرمی کی شدّت کے باعث بیہوش ہو کر گر پڑی تھیں، انہیں فوری طور پر ڈی ایچ اے میں واقع ڈیفنس نیشنل  ہسپتال لے جایا گیا ،بھلا ہو نجی  ہسپتال کے قابل اور جفا کش عملے کا کہ محض تین روز میں کامریڈ ہشاس بشاش نظر آنے لگیں اور یوں بھی جنرل وارڈ کی نسبت علیحدہ کمرے میں صحت جلد بہتر ہوجاتی ہے ۔ گھر منتقل ہوتے ہی کامریڈ نازیہ نے پارٹی کا ہنگامی اجلاس اپنے گھر پر ہی طلب کیا جس میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ کامریڈ نازیہ کو کچھ روز آرام کرنا چاہیے اور موسم بہتر ہوتے ہی نادار مریضوں کے لیے دوبارہ تحریک چلائی جائیگی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *