جمہوریت کی فکر فرمائیے۔ظفر الاسلام سیفی

دھرتی ماں کے سیاسی رخسار پرعجب سراسیمگی واضطراب چھایا ہے،کرپشن کا نعرہ ہائے مستانہ ذاتی مفادات تک رسائی کا سہل طریقہ فرض کر لیا گیا ہے ،اکیسویں صدی میں بھی ہماری سیاست بالغ نہ ہوپائی،کسی مجنون یا محجور کی طرح لمبی زندگی اور اونچا قد لیے ہم وہ لوگ ہیں دنیا جن کی طرز معاشرت واسلوب حکمرانی کو ایک مضحکہ سمجھتی ہے۔

بدقسمتی سے ہم سیاسی نابالغ ہی نہیں شائستہ طرز سیاست کے رموز سے نابلد بھی ہیں، جمہوری عمل اور اس کے تسلسل کو گالی بنادیا گیا،کوئی جمہوریت پر فکری وعلمی ابہامات پیدا کررہا ہے تو کوئی عملی یلغار کیے ہوئے ہے،ہم ابھی تک یہ ہی نہیں طے کرپائے کہ ریاست کی طرز حکمرانی کے لیے کون سا نظام معیار ہوگا،کہنے کو تو دھرتی ماں اسلامی جمہوریہ کہلاتی ہے مگر یہاں جمہوریت کے داخلی خدوخال دیکھنے سے تعلق رکھتے  ہیں ، ان غیر جمہوری اقدار کی پامالی کے بطن سے جن عملی بے اعتدالیوں والمیوں نے جنم لیا بدقسمتی سے ہم سب نے انکی پرورش میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہوا ہے،سوال افراد کا ہے نہ جماعت کا،سوال فقط آپ کے جمہوری مزاج کا ہے،نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ ہم ابھی ترکی کے دور انحطاط سے گذر رہے ہیں جس کا لازمی نتیجہ ترکی کا حالیہ منظرنامہ ہی نکلے گا۔

حضور والا: کسی بھی فرد،گروہ،خاندان یا جماعت پر الزامات لگانے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا سب سے خوبصورت اور معقول وقت انتخابات کا ہی ہوتا ہے،اگر آپ اس وقت خواب خرگوش میں مگن اور خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں تو نظام حکومت کی تشکیل کے بعدچیخنا چلانا غیرسنجیدہ طرز عمل ہی نہیں ریاستی تسلسل سے دشمنی بھی ہے،عمران خان اور شیخ رشید جیسے لوگ یہی تو کر رہے ہیں بلکہ خود میاں برادران بھی زرداری کے دور حکومت میں یہی کرتے رہے اور زرداری صاحب حالیہ منظر نامے میں یہی کر رہے ہیں ،میاں صاحب کے اس سوال کہ ”مجھے کیوں نکالا “ کا بدیہی طور پر جواب یہی بنتا ہے کہ ”اس لیے کہ آپ نے گیلانی صاحب کو نکالا“۔
سیاسی وسماجی ارتقاء تعلیمی ذہنیت اورتربیتی رویوں کا مرہون منت ہوتا ہے جس میں سماج سیاستدان کے روپ میں چپھے بہروپیوں کو پہچان اور سطحی فیصلوں کے مضمرات سے آگہی رکھ پاتاہے مگر یہاں تعلیم وتربیت کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا گیا ہے اورطبقاتی نظام تعلیم نے تعلیمی معیارات کے خطوط علیحدہ علیحدہ کھینچ کر جہاں سیاسی پنڈتوں کی اولاد کو بہتر سیاسی داؤ پیچ سکھا دیے وہیں عام طبقات کو حد سے باہر نکلنے سے بھی روک دیا۔

میری نظر میں ایسے تھنک ٹینکس کا قیام علی الفور انتہائی ضروری ہے جو جمہوری اقدار کے تحفظ کی ضرورت اور غیرجمہوری اقدار کے مضمرات سے عوامی آگہی فراہم کرسکیں،جو باور کرواسکیں کہ ریاست کے لیے جمہوری نظام علمی،فکری اور عملی طور پر ہی معیار ہے اور اس حوالے سے فکری ابہامات اور عملی پروپیگنڈے ریاست کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہوں گے،یہ تھنک ٹینکس اپنے جہدی منہج میں علمی وفکری رہنمائی کے لیے علمائے کرام،اسلامی سکالرز اور محقیقین سے اور عملی مساعی بروئے کار لانے کے لیے سابق سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سے استفادہ کریں تاکہ علی وجہ البصیرت محنت اور عوامی پذیرائی حاصل کرسکیں۔

سیاسی جماعتیں بھی باہم جمہوری اقدار پر گفت وشنید کا ماحول بنائیں اور میثاق جمہوریت کی طرز پر ریاست میں اپنے لیے ایک ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کریں جسے دینی واخلاقی کے علاوہ آئینی حیثیت بھی حاصل ہو،لاریب کہ ابتداء میں سیاسی جماعتوں کی باہمی بیٹھک مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہوگا مگر بہت سے خطوط پر فکری طور پر متحد جماعتیں اس سمت قدم بڑھائیں اور پھر آہستہ آہستہ اس دائرے کو وسعت دی جائے اور ہر سیاسی ومذہبی جماعت کو اہمیت کے ساتھ اپنی بیٹھک میں لیا جائے تاکہ غیر جمہوری قوتوں کے لیے کوئی چور دروازہ باقی نہ رہے۔
عوامی،صحافتی،عدالتی بلکہ سرکاری سطح پر فکری فضا کی ہمواری کے لیے ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کا ہر ستون جمہوریت کی ضرورت کو سمجھ کر اس کی حفاظت کے لیے فکری طور پر آمادہ ہوسکے،ان اقدامات کے کامیاب تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ مہنگائی کے خلاف برسرپیکار ہوکر عوامی فلاحی کاموں کی برق رفتار ترقی کی راہیں ہموار کرتے ہوئے عوامی بدحالی کا تدارک کیا جائے تاکہ ان جملہ غیر جمہوری نعروں کا گلا گھونٹا جائے جو جمہوری فروغ میں رکاوٹ بنتے ہیں نیز تعلیمی وتربیتی اقدار کے فروغ کے لیے زبردست ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ نسل نو ریاست کے بھلے برے کی تمیز کرسکے اور دھرتی ماں کے دشمن کے لیے کسی راہ کو نہ پیدا ہونے دے۔

میری نظر میں اگر ہم دھرتی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں مذکورہ اقدامات جس قدر جلد ممکن ہو اٹھالینے چاہییں  وگرنہ ”مجھے کیوں نکالا “ کا وہ لامتناہی سلسلہ شروع ہوگا جس میں عوام بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی ایک طرف ہانکی جاتی رہے گی تو کبھی دوسری سمت جو یقیناً  دھرتی کے لیے اس سیاسی موت اور سماجی انتشارکا باعث بنے گا جس کی کوکھ سے جنم لیتے المیوں میں کوئی المیہ ہمارا آخری نہ ہوگا۔

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *