چندریان، پانی سے چلنے والی گاڑی اور آدھ پاؤ کا ایٹم بم۔۔۔ضیغم قدیر

مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب آغا وقار نے پانی سے گاڑی چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پوری قوم خوشی کی حالت میں تھی کہ اب ایک بوتل پانی کی گاڑی میں ڈالیں گے اور پورا پاکستان گھوم کر واپس گھر لوٹیں گے۔ اس پانی والی کار پر ایک قابل پاکستانی سائنسدان کی خوشی بھی قابلِ دید تھی۔

مگر پھر کچھ ملک دُشمن عناصر کو قوم کی یہ خوشی ہضم نہ ہو پائی اور انہوں نے آغا وقار کو جھوٹا کہنا شروع کر دیا۔ گاڑی کے پانی سے چلنے والے خوابوں پہ ہی پانی پھیر دیا گیا۔ مگر کیا ہے وہ تو ہمارا انٹلیکچوئل تھا۔

جبکہ دوسری طرف انہی دنوں بھارت خلا میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس لانچ کرنے کے مشن پر کام کر رہا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ انڈیا نے ایک ہی وقت میں 104 سیٹلائٹس خلا میں بھیج کر ایک ریکارڈ قائم کر دیا۔

پھر اس کے بعد کی بات ہے، ہمارے مُلک میں مرغیاں تقسیم کرکے پوری قوم کو خوشحال بنائے جانے کی سکیم (انگلش والا Scam نہیں) شروع کی جارہی تھی۔  لاہور اورنج ٹرین اور پشاور بی آر ٹی پہ قوم کو جھولے دینے کا پلان بن رہا تھا جبکہ دوسری طرف بھارت میں سوچ بھارت ابھیان چل رہا تھا۔ اس طرف کچھ ناقدین کی وجہ سے ہماری یہ مرغی کی شیخ چلی مارکہ سکیم ناکام ہو گئی ٹرین ابھی تک نہیں چل سکی۔ میٹرو کے ٹائر پنکچر ہو چکے ہیں۔ مگر سرحد پار بھارت نے نوے ملین باتھ روم بنا کر قوم کو صفائی کی طرف لگانے کا ایک عظیم کام کر دیا۔ اور اس ایک پراجیکٹ کے نتیجے میں چھ بلین ڈالر سے بھی بڑی انڈسٹری وجود میں آ گئی۔

پھر انہی دنوں کی بات ہے کہ ملک کے ایک عظیم سائنسدان نے پاؤ اور آدھ پاؤ کا ایٹم بم دریافت کر لیا۔ اور دوسری طرف بھارت مریخ اور چاند کی طرف نکل گیا۔ یہ وہ پہلا موقع  ہے جس میں ہماری دریافت ابھی تک کامیاب رہی ہے  اور بھارت کا مشن ناکام۔ اس پر سائنسدان خوش ہو رہے ہیں۔ مجھے تو امید ہے کہ یہ سائنسدان اب چھٹانک اور سوا چھٹانک کے بھی ایٹم بم مارکیٹ میں متعارف کروائیں گے۔ رہی بات چاند اور مریخ پر جانے کی تو وہاں جا کر ہم نے کونسے آم کھانے ہیں۔ خیر آموں سے یاد آیا ہمارے آم بھی دنیا نے لینا کم کر دئیے ہیں۔ چلو فکر کس بات کی ہے آپ جگت لگائیں اور زندگی خوشگوار بنائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *