میرے شہر کے لوگ۔۔شکور پٹھان

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

شوبز کی دنیا بلکہ یہ ساری دنیا بڑی عجیب ہے. یہ دنیا اور اس کی تمام رونق ہر طرح کی اچھی اور بری چیزوں سے مل کر بنتی ہے، کوئی بھی تصویر صرف ایک چہرہ ہی نہیں ہوتی بلکہ آس پاس کے مناظر اور تمام جزئیات مل کر وہ تصویر بنتی ہے. لیکن یہ عجب دستور ہے کہ یہاں صرف پیش منظر کو ہی دیکھا جاتاہے، پس منظر میں کیا کچھ ہے، کوئی توجہ نہیں دیتا۔۔

تاج محل بنوانے والے شاہجہان کو ساری دنیا جانتی ہے لیکن اس کی تعمیر میں جن ہزارہا مزدورں، کاریگروں اور ہنر مندوں کا خون پسینہ شامل ہے انہیں کوئی نہیں جانتا۔ایک گیت جب مقبول ہوتا ہے تو صرف گانے والے کی واہ واہ ہوتی ہے،گیت کار،موسیقار، سازندے اور ٹیکنیشنز کے ناموں سے کوئی نہیں واقف ہوتا۔اسی طرح کسی فلم یا ڈرامے کی تکمیل میں پچاسوں لوگ اپنا کردارادا کرتےہیں تو یہ فلم مکمل ہوتی ہے لیکن سینماهال سے باہر آنے والے صرف ہیرو اور ہیروئن کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں اسی طرح فلم یا ڈرامہ کی کہانی میں مرکزی کرداروں کے علاوہ بہت سے معاون کردار ہوتےہیں اور اکثر یہ معاون اداکار بڑے تجربہ کار اور مرکزی کرداروں سے زیادہ با صلاحیت ہوتےہیں لیکن شاید ہی کوئی ان کے نام جانتاہے۔

اگر ہندوستانی فلموں کی بات کی جائے تو لوگ باگ دلیپ کمار،راج کپور،دیو آنند،امیتابھ بچن،راجیش کھنہ، شاہرخ خان،عامر خان کے بارےمیں ایک ایک تفصیل بتادیں لیکن کتنے ہی‍ں جنھیں نانا پلسیکر،کنہیالال،سی ایس دوبے،افتخار اور اے کے ہنگل کے نام بھی معلوم ہوں گے۔

اسی طرح اگر پاکستان ٹیلیویژن کی بات کی جائے تو نجانے کتنے ایسے فنکار ہیں جنہیں ہم اکثر و بیشتر ڈراموں میں دیکھتے ہیں لیکن ان کے نام تک نہیں جانتے. ایک طویل فہرست ہے ۔

لیکن میں صرف لاہور ٹی وی کے دو فنکاروں کا ذکر کروں گا،ایک خاتون اداکارہ ہوا کرتی تھیں نگہت بٹ جو لاہور کے ہر دوسرے کھیل میں نظر آتی تھیں اور بے حد با صلاحیت تھیں لیکن مجھے یقین ہے میرے بہت سے دوستوں کو ان کی شکل بھی یاد نہیں ہوگی۔
ایسے ہی لاہور کے ایک اداکار تھے ایوب خان. یقین کیجئے اگر یہ کہیں مغرب میں ہوتے تو انہیں Anthony Quinn جیسے فنکاروں کے درجہ میں رکھا جاتا. وہ بے حد ورسٹائل اور باصلاحیت فنکار تھے لیکن ان کی زندگى میں بھی شاید کم ہی لوگ ان کے نام سے واقف ہوں گے۔

آج میرے شہر کے ایسے ہی تین فنکاروں کی یاد آپ کے ساتھ بانٹ رہا ہوں جو کسی بھی بڑے اداکار سے کم نہیں لیکن ہم میں سے شاید ہی کسی نے ان کا کوئی انٹرويو سنا ہو یا ان کے بارے میں کوئی مـضمون پڑھا ہو۔ایسا نہیں ہے کہ میں اور آپ ان کے ناموں سے واقف نہیں، یہ تینوں بہت مشہور اور پسندیدہ فنکار ہیں لیکن ایک بڑے کلاکار کو جو مقام ملنا چاہیے وہ ہم نے انہیں ہرگزنہیں دیا۔

پراسرار شخص!ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بچپن میں روزنامہ حریت میں ایک سلسلہ وار تصویری کہانی (Comic) فینٹم کے نام سے شائع ہوتی تھی. فینٹم ایک پر اسرار کردار تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کب سے ہے، وہ ہر زمانے میں موجود رہتاتھا.

اللہ قاضی واجد کو صحت اور تندرستی کے ساتھ عمر دراز عطا فرماۓ، میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اور میں نے آج سے پچپن چھپن سال پہلے ہی ہوش سنبھال لیاتھا، ہر دور میں قاضی واجد کو دیکھاہے،ریڈیو سے شوکت تھانوی کے ساتھ قاضی جی کا قاعده ہو، ٹی وی کی آمد سے بہت پہلے خواجہ معین الدین کے ڈرامے ہوں یا پھر کراچی ٹی وی کے کھیل، ہم نجانے کب سے قاضی واجد کو دیکھتے آرہے ہیں اور ماشاء الله انہیں ہمیشہ تروتازہ پایا.

اداکاری قاضی واجد، جنہیں ان کے دوست قاضی بھائی کے نام سے جانتےہیں ،کے لئے بھی گویا کوئی شے ہی نہیں. اس قدر نیچرل اداکار بہت ہی کم ہوں گے، جو کردار بھی وہ ادا کرتےہیں، محسوس ہوتاہے کہ صرف انہی کے لئے بنا ہے. ان کہی کے شفیق باپ اور سسر، تنہائیاں کے فاران صاحب جیسے پڑھے لکھے شخص کا کردار ہو یا کوئی منفی یا مزاحیہ کردار، قاضی بھائی اس میں ایسے رچ بس جاتےہیں کہ کیا کہنے۔

خدا کی بستی کا راجہ جب کوڑھ میں مبتلا ہو جاتا ہے تو ایک کوڑھی کی بے بسی اور لاچارگی گویا نچڑ کر ان کے چہرے پر آجاتی ہے،ایسے ہی شمع میں ایک شاطر اور ابن الوقت کے کردار میں ان کا چہرہ دنیا بھر کی خباثت کا آئینہ دار ہوتا ہے،قاضی واجد بھی اداکاری کا ایک سکول ہیں. کاش ہمارے ٹی وی کے ارباب اختیار ان کے فن اور تجربے کو نئے آنے والوں کے کام میں لائیں اور آئندہ نسلوں کے لئے ان کے فن کو محفوظ کریں۔قاضی بھائی اللہ آپ کو سلامت رکھے اور شاد و آباد رکھے.

محمود علی! ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمحمود علی کی آواز سے تو میرے شہر والے،ٹیلیویژن کی آمد سے پہلے سے واقف تھے، ریڈیو کے مقبول پروگرام حامد میاں کے ہاں میں ‘احسان ‘کا کردار( جو کہ حامد میاں کے داماد یا چھوٹے بھائی کا تھا) محمود علی ہی ادا کرتےتھے،محمود علی پاکستان آنے سے پہلے ہندوستان میں بھی ریڈیو سے وابستہ تھے چنانچہ صداکاری اور ادا کاری ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھی اور کیوں نہ ہوتی کہ وہ خواجہ معین الدین جیسے باکمال ڈرامہ نگار کے تھیٹر گروپ میں شامل رہے اور لال قلعہ سے لالو کھیت،مرزا غالب بندر روڈ پر اور تعلیم بالغان جیسے اور کئی مقبول کھیل کیے۔
محمود علی نے کوئی اور ڈرامہ نہ کیا ہوتا اور صرف تعلیم بالغان ہی کیا ہوتا تو وہی ان کا نام باقی رکھنے کے لئے کافی تھا، مولوی صاحب کا کردار دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ مرزا غالب بندر روڈ والا ہوٹل کا بیرا ہے یا خدا کی بستی والے، کالے صاحب، ہیں۔جس زمانے میں اسٹیج ڈرامے کی شائستہ روایات باقی تھیں، تب سے لیکر ریڈیو کی صدا کاری اور پھر نجانے کتنے ہی ٹی وی ڈراموں میں ادا کاری کرنے والے محمود علی فن کا ایک دبستان تھے. فلم میں بھی کام کیا لیکن وہاں بہت نمایاں نہیں رہے. اسکی وجہ انکی اداکاری نہیں بلکہ ہماری فلموں کی کمزور بنیادیں تھیں.

ان کے چہرے پر ایک دائمی مسکراہٹ رہتی تھی، زیڈ اے بخاری، انتظار حسین، سلیم گیلانی، خواجہ معین الدین،انور مقصود جیسے پڑھے لکھے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے والے محمود علی خود بھی ایک بے حد نستعلیق اور شائستہ انسان تھے. میرا شہر اور اس کے ریڈیو اور ٹی وی ہمیشہ اس مسکراتے چہرے والے عظیم فنکار کو یاد رکھیں گے۔

ہم سا ہو تو سامنے آئے،سبحانی نایونس!ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــسبحانی بایونس نے،اپنے دوستوں اور خواجہ معین الدین گروپ کے ساتھیوں، محمود علی اور قاضی واجد کی طرح تو بہت زیادہ کام نہیں کیا لیکن جو کچھ کیا یاد گار کیا.سبحانی بایونس کا سب سے بڑا اثاثہ ان کی منفرد اور پاٹ دار آواز تھی. ایسی شاندار آواز بہت کم فنکاروں کے حصے میں آئی ہوگی. ٹیلیویژن پر ان کے آخری ڈرامے شاید تنہائیاں اور با ادب با ملاحظہ ہوشیار تھے لیکن ہم سب انہیں خواجہ معین الدین کے ٹی وی ڈراموں کے حوالے سے یاد رکھتےہیں۔تعلیم بالغان کا قصائی اور مرزا غالب بندر روڈ میں غالب کا کردار انہیں لاثانی بنا گئے.

اسے آپ میرا تعصب کہہ لیں یا جانبداری کا نام دیں یا کم فہمی سمجھیں. غالب کے کردار فلموں میں تو بھارت بھوشن اور سدھیر جیسے اداکاروں کے ہاتھوں خوار ہوئے لیکن ہندوستان میں گلزار جیسے جہاندیدہ ہدایتکار اور ادیب کی ہدایات میں نصیرالدین شاہ نے بے حدشاندار ادا کیا ہے اور اسی طرح انور مقصود نے قوی خان جیسے بھاری بھر کم فنکار کو مرزا غالب بنایا. لیکن جس طرح سبحانی بایونس نے غالب کا کردار ادا کیا ہے، نصیرالدین شاہ اور قوی خان اس کے پاسنگ بھی نہیں.

یہ ایک قرض تھا جو ان عظیم فنکاروں کا ہم پر واجب تھا. میں نے ان کے حالات اور فنکارانہ زندگی کی تفصیلات نہیں لکھیں کہ آپ سب مجھ سے زیادہ انہیں جانتےہیں. میں تو صرف میرے شہر والوں کو یاد دلا رہا ہوں کہ دیکھو ابھی ایسے کتنے اور ہمارے درمیان موجود ہیں . ان کی قدر کرو،پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی.

SHOPPING

یہ تحریر قاضی واجد صاحب کی زندگی میں لکھی گئی تھی،اب وہ ہم میں نہیں رہے،اللہ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیں ۔آمین!

SHOPPING

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *