گدھے۔۔سلیم مرزا

دوستوں نے بیحد اصرار کیاکہ میں سیاست پہ لکھوں، سیاست اور ریاست کبھی بھی میری خانگی ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔
“میں گدھوں پہ لکھوں گا”
تو سب سے پہلے پیارے بچو!
آپ گدھے کو غور سے دیکھیں، شیشے کا تردد مت کریں، صرف تصور کریں،
گدھا دنیا کے ہر اس گوشے میں پایا جاتا ہے، جہاں تک آپ کی رسائی ہے۔اور جہاں آپ نہیں پہنچ سکتے، گدھا سوچوں میں بھی وہاں تک پہنچ جاتا ہے،میں لاہوری کڑاھی کی بات نہیں کر رہا۔جہاں ایک گدھا کڑاھی میں اور دوسرے کی پانچوں گھی میں ہوتی ہیں،
اور اکثر تیسرا اور چوتھا کہہ رہے ہوتے ہیں،
“یار ذرا لال مرچ کم ڈالنا”

گدھے عموماً  ریڑھی کے آگے دکھائی دیتے ہیں، اگر کوئی پیچھے بندھا ہو تو وہ گدھے کا بچہ ہوتا ہے،مستقبل کا ایسا امیدوار جسے آگے لانے کے لئے ” رواں” کیا جا رہا ہوتا ہے۔اس میں جنس کی کوئی تخصیص نہیں،وہ کھوتی بھی ہو سکتی ہے،جب وہ ریڑھی کی کمان سنبھالے گی تو محاورہ سچ ہو جائے گا۔۔” جتھوں دی کھوتی، اوتھے آن کھلوتی “۔۔
محاورے ہوتے ہی سچ ہیں، جیسے گدھے کے سر پہ  سینگ۔۔بندہ پوچھے آپ نے سینگوں کا کرنا کیا ہے؟
دوسال،سینگ ڈھونڈو، آگے سے وہ اقامہ نکل آئے؟
“اپنا کیاہے  سارے گدھوں کا اک جیسا نقصان ہوا”۔۔

ایک اچھے گدھے کی اچھائی یہی ہے کہ اپنی اوقات سے زیادہ بوجھ لاد کر دوسری جگہ پہنچانا، اس سےوہ باقی بیس کروڑ گدھوں کا بوجھ بانٹ لیتا ہے، حالانکہ وہ بندر بانٹ بھی کر سکتا تھا، مگر اس طرح دوسرے گدھے اسے صرف سندھ تک محدود کر دیتے،حب الوطنی کے جذبے سے سے سرشار گدھے، مادہ پرست نہیں ہوتے،یہاں مادہ سے شاعر کی مراد گدھی نہیں ہے۔

آپ چاہے انہیں لندن میں فلیٹ لے دیں، سرے محل دلوا دیں،رہتے اپنی مٹی پہ ہی ہیں،جو مزہ یہاں لوٹنیاں لگانے کا ہے وہ ولائیت میں کہاں؟
ولائت سے یاد آیا کہ گدھے ریٹنگ کے چکر میں نہیں پڑتے، لہذا رات آٹھ سے دس اکثریت ٹی وی چینلز کے قرب وجوار میں پائے  جاتے  ہیں ،جہاں ان کے بھائی بند کبھی کبھی ان سے ایسے سوالات بھی پوچھ لیتے ہیں جنہیں سکرینوں کے آگے بیٹھے سچ سمجھ لیتے ہیں،بعض تنہا گدھے پیشین گوئیوں کے بھی ماہر ہو جاتے ہیں،
دروغ بر گردن اینکر اس نے ایک ایسے ہی گدھے کو سگار پیتے بھی دکھایا،سنا ہے کہیں ایک ڈیزل بھی پی گیا تھا،چینل ایسی ہی بے پر کی رینگتے ہیں۔۔
اب جسے گدھے کے پاس ریڑھی ہی  نہ ہو، وہ اپنی سیاسی تنہائی کو دھویں میں بھی نہ اڑائے؟
گدھوں کے قانون میں کرپشن نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ جرم ہے، اگر کوئی گدھا اینٹیں ادھر ادھر گراتا پکڑا جائے، تو اسے صرف نااہل  قرار دے کر جی ٹی روڈ پہ چھوڑ دیتے ہیں،راستے میں کسی ٹرک سے نہ ٹکرایا تو لاھور پہنچ ہی جاتا ہے،باقی لاہورئیے جانیں اور گدھا جانے۔۔۔تُوں بُھن دانے!

گدھے کافی سال ایک ہی لائین میں چلتے ہیں،  پنڈی صدر کے گدھوں کو اگر جی ایچ کیو کی طرف جانے والے گدھوں کی لائن میں نمک نظر آئے تو وہ اس میں گھس جاتے ہیں ۔کبھی کبھی وہ نمک روئی بھی نکل آتا ہے۔۔” نصیب وتی وتی ”
میڈیا کی زبان میں اسے ہارس ٹریڈنگ بھی کہا جاتا ہے، حالانکہ گدھوں کی اکثریت اسے نظریاتی تبدیلی کا نام دیتی ہے،لفظ ہارس پہ گدھوں کو شدید تحفظات ہیں۔۔ٹریڈنگ پہ نہیں!

عموماً  گدھوں اور گھوڑوں کی بنتی نہیں، گدھے عموماً  گھوڑوں سے خائف رھتےہیں، اور گھوڑے گدھوں کی بدنظمی سے ناراض،مگر پھر بھی دو ایک گھوڑے وردی اتار کر گدھوں میں راج کرتے پائے گئے، یہ صرف گدھوں کی باہمی چپقلش سے ممکن ہو ا،مٹی پاؤ،

اب سنا ہے وہ گدھا دوبئی میں کمر درد کا علاج کروا رہا ہے،
وزن اٹھانا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں،سائنسی بنیادوں پہ گدھوں کی کراس بریڈ کرکے خچر ایجاد کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوئیں ، ایک تو وہ شور زیادہ مچاتے ہیں اور دوسرا اپنے علاوہ سب کو گدھا سمجھتے ہیں،اس پہ طرہ یہ کہ بعض کھوتے بھی  ان سے مل کر خود کو خچر سمجھنے لگے ہیں،پہلے گدھوں کی کھالیں چین بھیجی جاتی تھیں، اب چین والوں نے گدھوں کو کھالیں بھیجنے کی تکلیف سے بچانے کیلئے،یہاں آکر کھالیں اتارنے کا فیصلہ کیاہے!

چین پہ اور شوہر پہ کبھی شک نہ کریں،یقین رکھیں۔
چینی ۔گدھا۔نواز۔قوم۔ہے
پلیز علیحدہ علیحدہ نہ پڑھا جائے
گدھا، امریکہ میں ایک سیاسی جماعت کا نشان ہے،
لہذا برسر اقتدار آتے ہی انہوں نے اسے صدارت سے سرفراز کیا، ہمارے ہاں یہ عوام کی پہچان ہے ۔لہذا ہماری سیاسی جماعتیں ایسی حرکتیں نہیں کرتیں ۔ہم ممنون ہیں!

گدھے عموماً  میری طرح غیر سیاسی ہوتے ہیں،لہذاوہ کبھی گھاس  سے دوستی نہیں کرتے،اور جن گدھوں کی گھاس  سے محبت ہو
وہ پورے گدھے ہوتے ہیں۔آج صبح جس گدھے کو نہلا دھلا کر، سارادن گدھا گیری کروا کر لایا ہوں،اس گدھے کی حالت کا اندازہ لگائیں کہ بیٹھا گدھوں پر لکھ رہا ہے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *