منو بھائی کو مرنے کا کوئی حق نہیں ۔۔اسد مفتی

وجیہہ شخصیت،درمیانہ قد، گٹھا ہوا بدن، سفیدی مائل گندمی رنگ، شگفتہ مسکراتا کتابی چہرہ ،زندگی سے بھرپور آنکھیں ، آنکھوں تک پھیلی مسکراہٹ ،کلین شیو، اونچی لمبی ناک، پرکشش بڑی بڑی آنکھیں ، ان پر خوبصورت فریم کا چشمہ چہرہ کو جاذبیت عطا کرنے والا۔ تابندہ کشادہ پیشانی ،گوشت پوست کے جس متحرک ڈھانچے کے یہ نقش و نگار تھے اس کا نام منو بھائی تھا۔

منو بھائی سے ملنے،ان سے باتیں کرنے ،ان کے ہمراہ سفر کرنے، ان کا کلام سننے ،ان سے بحث و مباحثہ کرنے کا مجھے بارہا موقع ملا۔ لیکن پھر بھی میں انہیں چند سرسری   ملاقاتوں سے تعبیر کرتا ہوں ۔ جب اچانک اس کے مرنے کی خبر مجھ تک پہنچی  تو دل میں خوامخواہ یہ خیال ا بھرا کہ یہ ملاقاتیں تھوڑی ہیں کچھ اور زیادہ ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا، پھر اس باؤلے خیال کی تصدیق اور تائید اس کے پنجابی کلام اور اس پر لکھی تحریروں اور کالموں سے ہوئی اور اس یاد کے طرح طرح کے رسمی اور غیر رسمی اظہار سے ہوئی جو اس دیوتا نے اپنے دوستوں کے لیے چھوڑی اور جس متاع کو عزیز سمجھ کر اس کے دوست احباب اپنے سینے سے چمٹائے ہوئے ہیں ۔زندگی میں کتنے موقع ہوتے ہیں جن کےہونے کا احساس بھی اس وقت ہوتا ہے جب وہ موجود نہ رہیں ۔ جس جس دوست نے تم پر کالم لکھا ، تمہارا ذکر کیا ،خلوص اس کے چہرے پر ابھر آیا۔۔تم ہوتے تو اپنی مخصوص پر کشش مسکراہٹ بکھیر کر اب سب کا شکریہ ادا کردیتے کہ وضع داری   ،حسنِ سلوک، اخلاق، محبت،اور رفاقت جو تمہیں بانٹنا آتی تھی وہ کسی اور کا خاصہ نہیں ۔

منو بھائی کے میں بہت قریب رہا، یہ ان عظیم لوگوں میں سے تھا جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کم نصیب ہیں وہ لوگ جو ان سے نہیں ملے اور ان کی لطف محبت سے محروم رہے۔ اور ان سے زیادہ کم نصیب ہیں وہ لوگ جو ان سے ملے اور اس لطف محبت سے محرومی پر ہمیشہ غم زدہ رہیں گے۔

میں منو بھائی کے بہت نزدیک تھا کہ جب پہلی بار ملاقات ہوئی تو مجھے یہ شخص زندگی سے قریب نظر تر نظر آیا اور رواں دواں بھی۔ یہ 1960 کی دہائی کا آخری زمانہ تھا ۔اور یہی وہ سا ل تھا جب میں پہلی بار منو بھائی سے ملا ،اس کے بعد ہماری ملاقاتیں بڑھتی گئیں ۔ہماری دوستی د ن بدن مضبوط ہوتی چلی گئی۔

کوئی انسان تمام تر اچھا نہٰیں  ہوتا نہ کلیتہً برا ہوتا ہے بلکہ انسان ہونے کی دلیل ہی یہ ہے کہ وہ زندگی کی حقیقتوں کے ساتھ ٹکراؤ میں آئے کہیں مارے ،کہیں مار کھائے ۔ کبھی وہ ہمیں انقلابی دکھائی دے ،کبھی سماجی طرز پر ایک مصلح اور کبھی صرف جسم میں جیتا جاگتا تمام گوشت پوست کا انسان اور جو لوگ زندگی کو سمجھتے ہیں وہ تمام خود غرضیوں سے اٹھ کر انسان کا غالب رنگ دیکھتے ہیں ۔ اور یہی تھا میر ادوست و ہمدم منو بھائی۔۔۔۔

وہ ایک بہت بڑا سٹائسلٹ لکھاری تھا جو بات اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی ،قلم کی اس قدر روانی دو وجہ سے ہوتی ہے ایک تو یہ کہ کسی کو اندرونی طور  پر یہ احساس ہوجاتا  ہے کہ اسے تھوڑے سے وقت میں بہت کچھ کہنا ہے دوسرے اس لیے کہ اچھے اور برے تجربات کی وجہ سے فنکار  کے دل میں ایک عجیب طرح کی گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے جسے وہ اپنے فن کی مدد سے جلد سے جلد جھٹک دینا چاہتا ہے ۔منو بھائی میں مظلوموں اور غریبوں کے تئیں جذبات کی شدت تھی اور آپ جانتے ہیں جب روح میں خیالات اس درجہ متلاطم ہوں تو لکھاری کیا سے کیا کچھ نہیں بن جاتا ۔

منو بھائی  نے کالم لکھنے کا  آغاز تو بہت پہلے کردیا تھا لیکن امروز اور مساوات کے بعد  اس کے کلام و کالم میں بے حد  سنجیدگی آگئی ،اس کے کالموں میں سماجی دکھ درد کی صدائے بازگشت کے ساتھ ساتھ غم دوراں کی آمیزش بھی نمایاں ہوئی ۔اس کا کلام و کالم اگر ایک طرف غم جاناں یا آپ بیتی کا درجہ رکھتا ہے تو دوسری جانب ہم جگ بیتی کا مقام و مرتبہ بھی بلا تامل دے سکتے ہیں ،سماجی ،سیاسی، ثقافتی اور معاشی یہ سارے عوامل اس کی نظموں اور کالموں میں در آئے ہیں کہ یہ آپ بیتی و جگ بیتی کا دلچسپ سنجوگ ہے۔جذبے کی صداقت ،فکر کی گہرائی ،استحصالی قوتوں کے خلاف واضح سوچ ،سیاسی اپروچ (جس سے  اختلاف بھی رہا) نے منو بھائی   کے قلم میں بے حد جوش و جذبہ بھر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے مخصوس لب و لہجے ،انداز فکر، کمٹمنٹ ،اور ترقی پسند رنگ و آہنگ کے ذریعے ایک انفرادی اور اہم مقام بنا لیا تھا ۔۔منو بھائی ہر محفل میں شمع محفل کی صورت آتا اوراس کے جانے کے بعد ہر محفل میں ایک شمع کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔

بہتے ہوئے ماہ و سال کی لوح پر منو بھائی اور میری انگنت ملاقاتوں کے ا نمٹ نشانات ہیں ۔

جہاں کہیں انسانیت یا انسان کا قتل ہوتا تھا اس انسان دوست کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے اور ان آنسوؤں کو پینے کا منو بھائی کے پاس ایک ہی طریقہ تھا  کہ وہ ان آنسوؤں سے ایک کالم لکھ دے جن میں ان رزق ِ خاک  ہوئے مظلوموں کے ساتھ اس کی انسانی ہمدردی کا اظہار اور ظالموں سے نفرت کا اظہار ہو۔

یہ تھا ایک سچا انسان جس کا نام تھا منو بھائی۔

منو بھائی اکثر کہتا تھا کہ نیک عمل ہمیں بوجھ سا محسوس ہونے لگا ہے ۔لیکن وہ جو کچھ لکھتا تھا اس  پر ایمان بھی رکھتا تھا وہ انسانیت کے خوش آئند مستقبل پر پختہ یقین رکھتا تھااس نے زندگی میں جو بھی ناکامی دیکھی اس کو بھی اپنا موضوع بنایا لیکن یہ ناکامیاں 7 مرلے کے مکان میں رہنے والے ایک دیانت دار انسان کا مقدر تھا ایک بددیانت معاشرے میں۔۔

؎میری قیمت زمین و آسمان ہے،

بہت انمول ہوں پھر بھی بِکا ہوں!

ہماری پرانی عادت ہے بلکہ روایت ہے کہ

؎ہم تسلی دلِ مضطر کو دیا کرتے ہیں،

یعنی یہ جبر بھی ہم اس پر کیا کرتے ہیں!

فیض صاحب گئے،فراز گیا، جالب، حمید اختر، عبداللہ ملک داغِ جدائی دیتے چلے گئے اور ہم دل کو سمجھاتے رہے کہ وہ تو زندہ  ہیں

؎کچھ اس انداز سے چھیڑا انہوں نے نغمہء رنگی

کہ فرط شوق سے جھومے گی شاخِ آشیاں برسوں!

شاخِ آشیاں تو جھومتی رہتی ہے کون گیا اور کون آیا اس سے اس کے جھومنے کے معمول اور سکون کے وقفے میں کوئی فرق نہ آیا۔ لیکن جب میں منو بھائی کی زندگی کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ منو بھائی نے جب زندگی کو ترک کیا وہ نہایت زندہ تھا۔ اس قد ر زند ہ تھا کہ۔۔۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں!

منو بھائی واقعی ایسا شخص تھا جس سے مل کر زندگی سے پیار ہوجائے وہ شخص کیسا  قہر ہے کہ ایسے  شخص کو بھی ملک شاد باد نے “پناہ “اور امان نہ دی اور ساری عمر وہ اپنی پرچھائیں سے یہی سوال کرتا رہا۔۔

؎اے جنو ں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں

ہوں دیارِ یار میں یا کوچہ ء قاتل میں ہوں

پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب

میں سفرِ حق ہوں لیکن نرغہء باطل میں ہوں!

منو بھائی کا غم میرا آپ کا اور ہم سب کا غم ہے ۔کالم میں جگہ بھی ہے اور قلم پر بھی اختیا ر نہیں ہے اس کی محبتیں ،عنائتیں ،اور چاہتیں ہیں کہ میرے آگے پیچھے پھر رہی ہیں اس کی یادوں  نے چاروں جانب سے دل  کو  گھیر لیا ہے ۔۔۔آئیے دوچار لمحوں کے لیے منو بھائی کی محفل میں شریک ہو لیں

کرے گا سجدہ کہاں آسمانِ ذوق ادب

کہ ابرگاہِ صحافت کا آستاں نہ رہا!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *