صحافت اور عطائیت۔۔نجم ولی خان

ریاست اور سیاست تو دبڑ دوس ہوتی رہی ہیں مگر اب الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد صحافت بھی دبڑ دُوس ہو گئی ہے۔ یہ لفظ دبڑدوس میرے لئے بھی نیا ہے اور ایک ایسے شخص نے اسے متعارف کروایا ہے جو صحافی ہونے کا دعوے دار ہے۔ ہم نے زمانہ طالب علمی میں پڑھا تھا کہ سرسید احمد خان نے اردو لغت کو نئے الفاظ دئیے اور ان میں ایک لفظ کاسہ لیسی ہے مگر اس لفظ نے اردو فہمی اور معاملہ فہمی سے جنم لیا ہے، دبڑ دوس کے لفظ میں نہ زبان و بیان کی خوبیاں ہیں اور نہ ہی اخلاقیات۔میں نے بہت مرتبہ کوشش کی کہ مذکورہ صحافی کا پروگرام سن سکوں مگر ہرکوشش چند لمحوں میں ہی ناکام ہوجاتی ہے کیونکہ ایک کارکن صحافی کے طور پر جانتا ہوں کہ موصوف جو کچھ فرما رہے ہیں وہ کم از کم خبر اور تجزیہ نہیں ہے، یہ لغویات ہیں، بہت ہی مہذب لفظ استعمال کرنا چاہیں تو انہیں خواہشات کہہ لیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ صاحب دبڑ دوس کا لفظ تباہی کے ہم معنی استعمال کرتے ہیں یعنی جب وہ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب دبڑ دوس ہوجائیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ تباہ وبرباد ہوجائیں گے۔لفظ ’ کاسہ لیس‘ اپنے ایک معنی رکھتا ہے جس میں برتن اٹھائے ہوئے کسی فقیر کا تاثر لیا جاسکتا ہے مگر لفظ دبڑ دوس اپنے اندر کوئی معنی نہیں رکھتا۔

صحافت تباہ تو اسی وقت ہو گئی تھی جب یہ کاروباری افراد کے ہتھے چڑھی تھی۔ میں مانتاہوں کہ صحافتی پس منظر رکھنے والے مالکان کے مقابلے میں کاروباری پس منظر رکھنے والوں کے ادارے زیادہ خوبصورت اور بڑی عمارتوں میں ہیں۔ آپ کو وہاں کسی حد تک کارپوریٹ کلچر بھی ملتا ہے اور ہمارے بہت سارے دوست یہ دعویٰ بھی کر سکتے ہیں کہ ان اداروں میں تنخواہیں بھی مقابلتاً زیادہ ہی ہیں مگرہم جس لفظ صحافت کی بار بار جگالی کر رہے ہیں وہ صحافت کہاں ہے۔ صحافت اور کاروبار کے مقاصد ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں ۔ صحافت آئین اور قوانین کی محافظ ہوتی ہے، یہ اچھائی اور بھلائی کی ساتھی ہوتی ہے مگر کاروبار کا کسی آئین اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کاروبار کے لئے اچھائی اور بھلائی بھی محض ڈیکوریشن کی شے ہوتی ہے۔ صحافت کے کاروبار میں ریٹنگ نے وہی کردارادا کیا ہے جوان بس ڈرائیوروں کی سڑکوں پر ریس کرتی ہے جن کے پیش نظر اگلے سٹاپ پر پہلے پہنچتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سواریاں اٹھانا ہوتا ہے۔ ایسے تمام بس ڈرائیور لائن اور لین تو ایک طرف رہی، سگنل تک کا خیال نہیں کرتے۔ ایسی بسوں کے لالچی مالکوں کے نزدیک وہ ڈرائیور کامیاب نہیں ہوتاجوقوانین کا پابند ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے ڈرائیور کی بس میں سواریاں نہیں ہوتیں کیونکہ سواریوں کا بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ جو جتنا زیادہ خطرناک اور قانون شکن ڈرائیور ہے وہ اتنی ہی جلد ان کو منزل تک پہنچا دے گا۔ خطرناک ڈرائیونگ کے نتیجے میں صرف آپ کی بس تباہ ہوتی ہے مگر خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اینکرنگ کے ذریعے آپ پوری قوم کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔

جو صحافی اور اینکر بنے ہوئے ہیں ان میں کوئی لسانیات کا لیکچرر ہے تو کوئی نامعلوم قسم کاڈاکٹر ہے ، کسی کی دکان ہے تو کوئی ریٹائرڈ فوجی ہے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب کے پا س بھی انفارمیشن ہو سکتی ہے اور یہ تجزیہ کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں تو کہنے دیجئے کہ اگر میں ایک پیشہ ور صحافی ہوں اور مجھے سرجری کرنے کے طریقے کا علم ہے تو کیا آپ مجھے سرجری کرنے کی اجازت دے دیں گے یا میں کسی کامرس کالج میں جا کے اکنامکس پڑھانا چاہوں تو پڑھا سکتا ہوں کہ میں دن رات کاروباری لوگوں سے اتار چڑھاوؤ بارے ڈسکس کرتا رہتا ہوں۔ صحافت میں اہلیت تعلیم اور تجربے دونوں سے ملتی ہے  اور  یہ  بھی کہا جاتا ہے کہ اس شعبے میں شوق سب سے اہم ہوتا ہے مگران سب سے اہم یہ ہے کہ صحافت آپ کی فطرت کا حصہ ہوتی ہے،جیسے آپ کوشش کرنے کے باوجود اچھا شاعر نہیں بن سکتے اسی طرح شوق اور کوشش کے باوجود  آپ  ا چھے صحافی نہیں بن سکتے۔ اچھا صحافی ہونے کے لئے تعلیم، تجربے اور شوق  تینوں کی ضرورت ہے اورمیں صحافی  ا  نہی کو سمجھتا ہوں جو مناسب تعلیم کے بعد عملی طور پر رپورٹنگ یا سب ایڈیٹنگ کرتے رہے کہ یہی وہ دو شعبے ہیں جو خبر کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔

کاروباری  ہی  نہیں سرکاری تعلیمی اداروں نے بھی اس شعبے میں ڈگریوں کا بازار لگا لیا ہے۔ تعلیم کا معیار گرتا اور ڈگری یافتگان  کا ہجوم بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہ لوگ ان سے الگ ہیں جو ٹی وی مالکان یا سیاستدانوں سے دوستیوں کے چکر میں صحافی اور اینکر بن جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے تو صرف شہرت کے طالب ہیں، انہیں تو ننگ سے بھی کوئی کام نہیں ہے۔ یہ کسی وٹس  ایپ گروپ یا اپنے کسی خیال میں آنے والی ہر خواہش کو خبر سمجھتے ہیں ۔ دبڑ دُوس صاحب نے ایک ریٹنگ میں بہت ہی پیچھے چینل کے شو میں جناب چیف جسٹس سے اپنے الزامات کا نوٹس لینے اور تحقیقات کرنے کی اپیل کی جو قبول کر لی گئی۔ میں نے پڑھا ہے کہ انصاف پسند اور باوقار عدلیہ کے معزز جج کبھی زیر سماعت معاملات پر اخبارات کے کالم نہیں پڑھتے، چینلوں کے پروگرام نہیں دیکھتے کہ اس سے ان کی رائے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ عدالتیں تھڑوں کے معیار کی گفتگو  پر نہیں بلکہ قانونی دلائل پر بھروسہ اور نظائر پر اعتماد کرتی ہیں۔ میرے لئے میرے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج صاحب کی طرف سے ان معاملات پر وقت صرف کرنا حیرانی کا باعث ہے اور اب ہم نے اپنی سب سے بڑی عدالت سے ایک تصدیق شدہ صادق اور امین سیاستدان کے بعد ایک صادق اور امین خاتون اینکر بھی حاصل کر لی ہیں جن کی دی ہوئی کوئی خبر کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔میں واقعی حیران ہوں۔

چند کاروباری مالکان نے ہماری صحافت کے ساتھ وہ کچھ کیا ہے جو بس مالکان نے ٹرانسپورٹ کے بزنس کے ساتھ نہیں کیا کیونکہ وہ بس مالکان جانتے ہیں کہ تیز اور خطرناک ڈرائیونگ کرنے والا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ ان کی سرمایہ کاری کو بھی ختم کر سکتا ہے مگر یہاں کسی  کو  کوئی ڈر نہیں۔یہ خود سب سے بڑے تھانے دار ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے گذشتہ روز چیف جسٹس  کو  مشورہ  دیا  کہ وہ نواز شریف کے بیانات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے ۔ جناب حامد  میر کہتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ شاہد مسعود کو غلط اور جھوٹی خبر دینے پر سزا ملے کہ اس سے سزا کی روایت قائم ہوجائے گی۔ یہ شاہد مسعود کا نہیں پورے میڈیا کا مسئلہ ہے۔مجھے ایک پروفیشنل صحافی اور تجربہ کار اینکر پرسن کے اس موقف پر بھی حیرانی ہے کہ وہ اپنی فیلڈ کے جھوٹوں، جعلسازوں اور عطائیوں کی جعل سازیوں پر سزا کی مخالفت کر رہے ہیں۔صحافت کبھی اعلیٰ ترین اخلاقی اور معاشرتی روایات کی حامل اور امین ہوا کرتی تھی مگر اس وقت واقعی دبڑ دُوس ہو گئی ہے۔

Avatar
نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *