کیا زینب کا قاتل واقعی پکڑا گیا؟۔۔شاہد اقبال خان

SHOPPING

زینب قتل کیس میں پکڑا جانے والا شخص بادی النظر میں اصل مجرم نہیں لگتا۔ میں نہ تو کوئی  کرائم سپیشلسٹ ہوں نہ ہی میرے پاس کوئی  اندر کی خبر ہے مگر بطور آبزرور مجھے اپنے اندر سے شدت سے یہ سگنلزمل رہے ہیں کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ اس کی بظاہر چار وجوہات کو میں لفظوں میں بیان کر سکتا ہوں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں پولیس اور پنجاب حکومت نے اب تک جتنے بھی خاکے اور سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی  ہیں  یہ آدمی داڈھی، شکل، نقوش، قد کاٹھ اور عمر کے لحاظ سے  اس شخص سے نہیں ملتا جو پکڑا گیا ہے۔ اس بات کے جواب میں ایک دلیل یہ آ سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے مجرم نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے جعلی حلیہ بنایا ہو مگر پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ  تبدیل حلیے والے شخص کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں زینب اتنے آرام سے کیوں جا رہی ہے؟؟ ایک چھ  سال کی بچی جعلی حلیے میں کسی کو کیسے پہچان سکتی ہے؟؟

دوسرا نقطہ یہ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج ہمیں دھندلی لگ سکتی ہے کیونکہ ہم اس شخص کو نہیں جانتے مگر اگر یہ شخص میری گلی کا ہوتا تو میں اتنی ہی دھندلی فوٹیج میں بھی اسے با آسانی پہچان سکتا  تھا ۔ اسی طرح اپنے محلے دار کو زینب کے والدین اور اس کے محلے دار کیسے نہ پہچان سکے؟؟

تیسرا  نقطہ یہ ہے کہ یہ شخص پہلے بھی اسی کیس میں گرفتار ہو چکا ہے مگر تفشیش کے بعد پولیس نے اسے چھوڈ دیا۔ ہم سب پنجاب پولیس کو جانتے ہیں کہ وہ گرفتاری کے بعد کسی کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کہ وہ شخص بے گناہ ثابت نہ ہو جائے ۔ یہاں تک کہ ایک ہی جرم کے معمولی سے شک میں بھی   پچاس پچاس لوگوں کو دو دو ماہ تک حوالات میں رکھا جاتا  ہے۔ تو   کامن سینس  یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ یہی شخص مجرم تھا مگر پولیس نے اسے پکڑ کر دوبارہ چھوڈ دیا۔یہ بھی خبر ہے کہ پہلے جب اسے چھوڑا  گیا تو اس کا ڈی این اے اس وقت میچ نہیں ہوا تھا۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اکیلا مجرم نہ ہو بلکہ ایک سے زیادہ لوگ ملوث ہوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اس کی طرف اشارہ کر رہی کیونکہ ہر فوٹیج میں ایک مختلف آدمی نظر آرہا تھا اور ہو سکتا ہے کہ یہ شخص اغوا ء  کے بعد جرم میں شامل ہوا ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ گرفتاری ٹپ آف دی آئس برگ ہے۔ اصل مجرم ابھی پکڑنے باقی ہیں۔

ایک اور قابل غور  بات شہباز شریف کا پریس کانفرنس میں زینب کے والد کا مائک  بند کرنا جبکہ رانا ثنااللہ کا بھی زینب کے والد کو زیادہ بات کرنے سے روکنا ہے۔ اس قدر پراسرار پریس کانفرنس بذات خود ا س سارے معاملے کو متنازع بنا رہی ہے۔

SHOPPING

اور اس کیس کے حالات و واقعات واضح کر رہے ہیں کہ یہ کسی کا انفرادی فعل نہیں بلکہ اس میں اور لوگ بھی شامل ہیں۔ اصل قاتل پکڑا گیا یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں اس بات سے باآسانی ہو جائے  گا  کہ مزید ملزم پکڑے جاتے ہیں یا نہیں۔ اگر تو پورا نیٹ ورک پکڑا  جاتا ہے تو  پھر عمران ہی اصل ملزم ہے اور اگر یہ واحد مجرم رہا تو سمجھیے قربانی ہو رہی ہے۔۔خدا کرے کہ میرے یہ اندیشے درست ثابت نہ ہوں اور خدا کرے کہ اگر یہی مجرم ہے تو اس کا باقی سارا نیٹ ورک بھی پکڑا جائے۔

SHOPPING

Shahid Baloch
Shahid Baloch
شاہد اقبال خان پی ایچ ڈی بزنس ایڈمنسٹریشن کے طالبعلم ہیں اور سپیریر ہونیورسٹی لاہور کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاکستانی سیاست، معاشرتی مسایل، معیشت اور کرکٹ جیسے ٹاپکس پر لکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیا زینب کا قاتل واقعی پکڑا گیا؟۔۔شاہد اقبال خان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *