خواجہ سراء کمیونٹی کی غیر حقیقی خواہشات/ثاقب لقمان قریشی

لبرلازم لاطینی زبان کے لفظ لائبر سے نکلا ہے۔ جس کا معنی آزادی ہے۔ لبرلازم کا نظریہ شخصی آزادی، برابری اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتا ہے۔ چند تاریخ دان “میگنا کارٹا” کو لبرلازم کی ابتدا قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بیشتر”انقلاب فرانس” کو ابتداء قرار دیتے ہیں۔ بادشاہت اور چرچ کے کردار کو اسکا ذمہ دار  مانتے  ہیں۔ جنہوں نے شخصی آزادی کو صدیوں تک سلب کر رکھا تھا۔
ہمارے ملک میں بھی لبرلز کا ایک تگڑا گروپ قائم ہوچکا ہے۔ جو فرسودہ معاشرتی روایات اور مذہب کے غلط استعمال پر “سوشل میڈیا” پر آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ لبرل کہلانے والا یہ گروپ بہت سے معاملات میں معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر توہین مذہب یا سندھ میں بسنے والی ہندو کمیونٹی کو زبردستی مسلمان کرنے کے واقعات پر ہمارے لبرلز آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور حکومت کو اتنی لعن طعن کرتے ہیں کہ حکومت اقلیتی برادری کے تحفظ کیلئے اقدامات پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مدارس میں ہونے والے جنسی  زیادتیوں کے واقعات پر آئے روز سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لبرلز کا یہ گروپ کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت کرتا نظر نہیں آتا۔ اچھے کاموں پر سیاسی جماعتوں کو داد اور غلطیوں پر لتاڑتا بھی نظر آتا ہے۔ خواتین کے حقوق اور شخصی آزادی ان کے پسندیدہ ترین موضوعات ہیں۔ جن پر ہر وقت بحث چلتی رہتی ہے۔ اسکے علاوہ مہنگی سبزیوں، فروٹ، مرغی وغیرہ کے بائیکاٹ کے سلسلے بھی ہمارے لبرلز ہی شروع کرتے ہیں۔ سرکاری افسران کی مراعات، اختیارات کے ناجائز استعمال پر تنقید بھی ہمارے لبرلز کے کاناموں میں سے ایک ہے۔

لبرلز کی جو باتیں مجھے ناپسند ہیں ان میں دین پر بے جا بحث، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکے پاس دین پر تنقید کے سوا کوئی دوسرا کام ہی نہیں۔ دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمارے لبرلز سمجھتے ہیں کہ معاشرتی مسائل پر سوشل میڈیا پر تنقید ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ جبکہ انکی تنقید کوئی بڑی تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔

سوشل میڈیا کے بیشتر بڑے پلیٹ فارم امریکی کمپنیوں کے بنائے ہوئے ہیں اور امریکہ سے ہی کنٹرول ہوتے ہیں۔ ملک میں پھیلی مایوسی، مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت اور فوج کے خلاف نفرت پھیلانے میں سوشل میڈیا اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح دین کے خلاف طویل عرصے سے نفرت پھیلانے کا سلسلہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی چل رہا ہے۔ ہمارا لبرل دین پر تنقید نہ کرنے والے کو روشن خیال نہیں سمجھتا۔ ایک بات ذہن میں رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا کے بیشتر پلیٹ فارمز امریکی کمپنیاں چلا رہی ہیں۔ جو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فن خوب جانتی ہیں۔

فیضی نامی خواجہ سراء کا اکاؤنٹ چار سال قبل میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا۔ جس کے ساتھ ہمارے بہت سے لبرل دوست ایڈ تھے۔ فیضی کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے۔ ایم-فل کیا ہوا ہے۔ شاید کہیں پڑھاتی ہے۔ فیضی اپنی شاعری اور معصومانہ اداؤں کی وجہ سے لبرلز کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔ ہمارے بہت سے لبرل دوست فیضی سے ملتے رہتے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں۔ جنھیں بہت پذیرائی ملتی ہے۔ چند روز قبل فیضی کی ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں وہ شادی اور سیکس کو خواجہ سراء کمیونٹی  کا سب سے بڑا مسئلہ گردان رہی تھیں۔ کراچی کی شہزادی رائے بھی ہر بات میں سیکس کو کسی نہ کسی طرح گھسیٹ لیتی ہیں۔ جبکہ خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے آج جو تھوڑی بہت آگہی عام ہے۔ یہ چند فقیروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ جن میں مرحومہ نادرہ خان، مرحومہ انمول رضا بخاری، صباء گل، رانی خان اور ایڈووکیٹ نشاء راؤ کے نام سر فہرست ہیں۔ یہ سب لوگ ہمیں معلومات فراہم کرتے رہے اور ہم متنازع  ترین موضوعات پر لکھتے چلے گئے۔

گزشتہ بلاگ میں، میں نے صحافی حضرات سے گزارش کی تھی کہ خواجہ سراؤں سے ہم جنس پرستی پر رائے نہ لیا کریں۔ کیونکہ ایسے سوالات خواجہ سراؤں کے خلاف نفرت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ میرے بلاگ کو افراد باہم معذوری اور خواجہ سراء کمیونٹی نے خوب سراہا۔ چوہدری مطلوب نامی پاکستانی تاجر نے لندن سے مجھے کال کی۔ وہ مجھے دعائیں دے رہے تھے اور بات کرتے ہوئے رو رہے تھے۔ وہ حیران تھے کہ ہمارے ملک کے لکھنے والے خواجہ سراء کمیونٹی کے حوالے سے اتنے حساس ہوچکے ہیں۔

سوشل میڈیا کے مختلف پیجز سے جب مجھے خواجہ سراء کمیونٹی کے حوالے سے نفرت بھرے پیغامات ملے تو میں حیران رہ گیا کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کے حوالے سے اتنی نفرت پائی جاتی ہے۔

چند ماہ قبل لاہور کی ایک یونی ورسٹی نے خواجہ سراؤں کو لڑکیوں کا باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت دی۔ جس پر ماریہ بی نے ایک ویڈیو بنائی۔ ویڈیو میں ماریہ خواجہ سراؤں کو مرد کہہ کر پکار رہی  تھیں۔ اس ویڈیو میں ایک گورا کہہ  رہا تھا کہ اسکی بیٹی کے ساتھ ایک خواجہ سراء نے زناء کیا ہے۔ میں نے یہ ویڈیو عام لوگوں کے علاوہ ایسے لوگوں کی وال پر بھی دیکھی جو متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواجہ سراء کمیونٹی کو آگہی کی اہمیت کا احساس ہی نہیں۔ اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ آگہی کا یہ پودا انھوں نے خود نہیں لگایا۔ نازیبا ترین ٹک ٹاک، اپنی وال پر بیہودہ گفتگو، ہم جنس پرستی وغیرہ کو سپورٹ اسکی واضح  مثالیں ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میں سمجھتا ہوں کہ خواجہ سراء کمیونٹی کا سب سے بڑا مسئلہ قبولیت ہے۔ اگر انکے گھر والے انھیں قبول کر لیں تو معاشرہ بھی قبول کرلے گا۔ دوسرا نمبر تعلیم اور سِکل کا ہے۔ جن کی مدد سے جائز انسانی حقوق اور فعال شہری بننے میں مدد ملے گی۔ تیسرا حکومت اور میڈیا کی سرپرستی ہے۔ جن کا میں مختلف بلاگس میں اظہار کرچکا ہوں۔ سیکس اور شادی جیسے معاملات اہم تو ہوسکتے ہیں مگر سرفہرست نہیں۔ نفرت بھرے ماحول میں خواجہ سراء کمیونٹی کی ڈیمانڈ صرف اور صرف قبولیت ہونی چاہیے۔ اس قسم کے مطالبات نفرت بڑھانے اور مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply