• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • امریکی طلباء فلسطین کی حمایت میں دنیا کیلئے مثال بن گئے

امریکی طلباء فلسطین کی حمایت میں دنیا کیلئے مثال بن گئے

امریکی یونیورسٹیوں میں غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی تحریک کے نتیجے میں کہ جو کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئی اور اس وقت یہ تحریک اس ملک اور دنیا کی دیگر یونیورسٹیوں تک پھیل چکی ہے ، تقریبا پندرہ یونیورسٹیوں کے چھ سو طلبا کو گرفتار کرلیا گيا ہے–

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران فلسطین کے حامی تقریبا چھ سوطلبہ کو امریکہ کی تقریبا پندرہ یونیورسٹیوں سے گرفتار کیا گيا ہے–

احتجاجی طلبہ کی تعداد میں اضافے اور ان کے احتجاج میں شدت آنے کے بعد، یونیورسٹی انتظامیہ نے غیرمعمولی طریقوں سے ان طلبہ کو زدوکوب کیا ہے۔ زیادہ تر گرفتاریاں کیمپوں اور دھرنے کے دوران انجام پائی ہیں- اس امریکی میڈیا کے مطابق کیمپس میں چھوٹے پیمانے کے درجنوں مظاہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں نہیں ہوئیں۔

احتجاجی طلبہ اپنی یونیورسٹیوں سے مطالبہ کر رہے ہيں کہ وہ اسرائیل اور غزہ جنگ میں مالی حمایت کرنے والوں کے ساتھ اپنے روابط منقطع کرلیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کی ایک طلبہ تنظیم اپرتھائيڈ ڈائیوسٹ نے بھی یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس یونیورسٹی کے کیمپس میں پولیس کی موجودگی کا خاتمہ کرائے اور اسرائیل کے تعلیمی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرلے-

فلسطینیوں کی حمایت میں امریکی طلبہ کی تحریک کینیڈا تک پہنچ گئی ہے اور اب مونٹریال کی میک گیل یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے-

سٹی نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ کینیڈا کی میک گیل یونیورسٹی کے طلبہ نے سنیچر سے فلسطین کی حمایت میں اور اسرائیل کے جارحانہ حملوں کے خلاف احتجاجی کیمپ لگانا شروع کردیا ہے- سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین، اپنے ہاتھوں میں فلسطین کا پرچم لہراتے ہوئے فلسطین کو آزاد کرو کے نعرے لگا رہے ہیں اور انھوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر تشکیل دے رکھی ہے–

ادھر برطانیہ میں فلسطین کے ہزاروں حامیوں نے غزہ کی پٹی میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کی مذمت اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مسلسل اٹھائیسویں ہفتے بھی وسطی لندن کی سڑکوں پر اجتماع کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

برطانیہ کے مختلف شہروں سے مظاہرے کے شرکاء، ایک بار پھر غزہ میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم پر اپنے شدید غصے اور بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے لندن پہنچے۔ اس احتجاجی تحریک میں برطانوی شہریوں کا بنیادی پیغام غزہ میں جنگ کا فوری خاتمہ، اسرائیلی حکومت کے لئے اسلحے کی ترسیل پر پابندی اور غزہ کے مکینوں کو امداد کی فراہمی ہے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply