کم عمری کی شادیاں/مہ ناز رحمان

کم عمری یا بچپن کی شادیوں کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر سول سوسائٹی اس کی مخالفت کیوں کرتی ہے۔ ؟

اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یوں ہم ایک بچی سے اس کا بچپن چھین لیتے ہیں۔ ابھی اس کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں، اور ہم اس پر خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ماہرین امراض نسواں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نو عمر دلہنیں جسمانی نشوونما کے اس مرحلے پر نہیں پہنچی ہوتیں کہ ماں بننے کی ذمہ داری اٹھا سکیں مگر شادی کے نتیجے میں انہیں اس مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں تولیدی صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں  اور زچگی کے دوران اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔کم عمری کی شادی کے ساتھ غربت اور طبی سہولتوں کا فقدان بھی زچہ و بچہ کی موت کا سبب بنتا ہے۔ کم عمری کی شادی کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں۔اس کا نقصان صرف انہیں نہیں بلکہ ملک و قوم کو بھی ہوتا ہے ۔ جب سول سوسائٹی سندھ میں شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کی مہم چلا رہی تھی تو یہی دلیل دی جاتی تھی کہ جب اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے کسی بچے کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں بن سکتا،اسے ووٹ کا حق نہیں دیا جاتا تو پھر اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے شادی کرنے کا حق کیسے مل سکتا ہے۔

دنیا بھر میں کم سنی کی شادیوں کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس حوالے سے ہر ملک میں صورت حال یکساں نہیں ہے۔ بچپن کی شادیوں اور جبری شادیوں میں سب سے بڑا کردار غربت کا ہے۔ دیہی برادریوں میں عام طور پر لڑکیوں کو تعلیم نہیں دلائی جاتی یا دو چار جماعتیں پڑھانے کے بعد گھر بٹھا لیا جاتا ہے اور ان کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد ان کی بچی کا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے اور کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے سر سے ذمہ داری کا بوجھ اتر گیا۔کچھ لوگ کسی کا قرضہ واپس نہ کر سکنے کی صورت میں اس شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کر کے قرضہ معاف کروا لیتے ہیں اور بعض دفعہ خاندانی اور قبائلی جھگڑے ختم کروانے کے لئے بھی لڑکی کا رشتہ اس خاندان یا قبیلے میں کر دیا جاتا ہے، قدرتی آفات جیسے سیلاب کی صورت میں بھی جب لوگ گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہ رہے ہوتے ہیں تو چھوٹی عمر کی لڑکیوں کی شادی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے،وجہ وہی والدین کا عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے ،انہیں لگتا ہے کہ شادی کے بعد ان کی لڑکی محفوظ رہے گی۔ حالانکہ کم سنی کی شادیوں کی وجہ سے لڑکیوں کے لئے ایک صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام میں خاص طور پر بہو سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ گھر کی ساری ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ ظاہر ہے کہ ایک کم عمر بچی جو اپنے گھر میں گڑیوں سے کھیلتی ہوئی آئی ہو، بھرے پڑے کنبے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہل نہیں ہوتی اور یوں ساس بہو کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ۔ آئے دن کی چخ چخ سے سے شوہر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور بیوی پر ہاتھ اٹھانے لگتا ہے اور پھر ہم ایکٹوسٹس گھریلو تشدد کے خلاف قانون بنواتے ہیں۔لیکن پھر وہی مسئلہ آ کھڑا ہوتا ہے کہ قانون تو بن جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔

زچگی کے دوران اموات کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں ایک اور پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔اسے آپ صنفی امتیاز اور بیٹوں کو ترجیح دینے کا رویہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ہمارے گھرانوں خاص طور پر دیہی گھرانوں یا غریب اور کم پڑھے لکھے گھرانوں میں لڑکوں کی خوراک اور تعلیم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ گھر کے مردوں اور لڑکوں کو پہلے کھانا کھلایا جاتا ہے اور بچا کھچا کھانا عورتوں اور لڑکیوں کے حصے میں آتا ہے۔بیماری کی صورت میں لڑکے کو ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ہے جب کہ لڑکی کے لئے گھریلو ٹوٹکوں سے کام چلایا جاتا ہے۔اس لئے زیادہ تر لڑکیاں شادی سے پہلے بھی خون کی کمی اور کمزوری کا شکار ہوتی ہیں اور کم عمری میں ہی جب انہیں ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ایک لاکھ میں سے 250 عورتیں موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں نو زائیدہ بچوں کی اموات کی وجہ بھی کم عمری کی شادی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

یونیسف کے مطابق 18 سال سے بڑی عمر کی ماءوں کے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ماں کمزور ہے تو بچہ بھی کمزور پیدا ہو گا اور زچگی کے دوران زچہ اور بچہ دونوں کی موت کا امکان زیادہ ہو گا۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جتنی جلدی شادی ہو گی ،اتنی ہی جلدی بچے بھی پیدا ہوں گے۔18 سال کی عمر کے بعد شادی ہو گی تو بچے بھی دیر سے پیدا ہوں گے۔پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بچپن کی شادیوں کی وجہ سے پدر سری نظام کو بھی تقویت ملتی ہے کیونکہ عام طور پر بچیوں کی شادی بڑی عمر کے مردوں سے ہوتی ہے اور گھریلو امور اور زندگی کے دیگر فیصلے مرد خود ہی کرتا ہے۔ پاکستان کی ترقی کے لئے مرد اور عورت دونوں کو مل کے کام کرنا ہو گا اور اس کے لئے دونوں کو تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply