مکمل لاک ڈاؤن کرو۔۔احمد صہیب اسلم

یہ  آج کل کا کامن اور پاپولر سلو گن ہے مگر اس فیصلے تک پہنچنے کے لئے کچھ پُلوں کا عبور کیا جانا بھی ضروری ہے ، حالیہ دنوں اور کرونا کی عالمی وباء میں شاید” تقسیم کرو اور حکومت کرو “کی ایک نئی تعریف “تقسیم کرو اور بہتر نتائج پر پہنچو” کی صورت میں سمجھ میں آتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ بہت سے ممالک کی طرح نیدر لینڈ اورپاکستان بھی کرونا کے ہیلتھ اوراکنامک پہلو دیکھ رہے ہیں اور اس کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر پالیسی اور  سٹریٹیجی  کوبہتری کے لئے بدل رہے ہیں ۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس ستر فیصد تک انسانی آبادی کو اِنفیکٹ کرے گا اور پچاسی فیصد کیسوں میں اس کی علامات بہت معمولی یا نہ ہونے کے برابر ہوں گی جبکہ پندرہ فیصد میں یہ علامات سنجیدہ نوعیت کی ہوں گی تو کیا لوگوں کی بڑی آبادی کو کچھ حفاظتی تدابیر بتا کر معاملات لوگوں پر چھوڑنا ہی بہتر ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ جو کیسز ریکارڈ پر آرہے ہیں، یہ صرف آئس کریم کی کون کا اوپر والا حصہ ہے۔

پندرہ فیصد کہنے اور لکھنے میں آسان اور ہلکا لگتا ہے لیکن جب زمینی صورتحال اورنتائج دیکھے جاتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اور سوچنا پڑتا ہے کہ “تقسیم کرو اور حکومت کرو” والی پالیسی سے ہیلتھ کئیر سسٹم پر پریشر کم ہوگا۔ لوگوں کی تقسیم میں ، جو لوگ کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیراز خود اختیار کر رہے ہیں  اور ہاتھ صابن کے ساتھ دھونے کےساتھ ساتھ، لوگوں سے غیر ضروری میل جول نہیں رکھ رہے، وہ انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے ،اپنے آپ کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ وباء کے دنوں میں ہیلتھ کیئر پر بوجھ کم کر رہے ہیں۔

لوگوں کی تقسیم میں ،دوسری طرف ، کچھ لوگ مکمل احتیاط نہیں کر رہے ، وہ بغیر کسی علامت کے اِمینو یا کرونا کے مقابلے میں بہتر مدافعاتی نظام کے حامل ہو سکتے ہیں اور سنجیدہ علامات تک بھی پہنچ سکتے ہیں جب ایک خاص آبادی میں وینٹی لیٹر (مصنوعی سانس دینے کے لئے آلات) والے کیسز کے امکانات زیادہ بڑھ جائیں گے تو اُن پر لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا کر ایک تقسیم علاقائی  بنیاد پر کرنی پڑ جائے گی اور یوں آہستہ آہستہ انفیکشن سے امیون ،انفیکشن ہوئے اور انفیکشن نہ ہوئے لوگوں کی آبادی بتدریج تقسیم در تقسیم ہوتی جائے گی ۔

لوگوں کی اس تقسیم سے ہیلتھ کیئر پر دباؤ ایک ساتھ اور یک دم بہت زیادہ نہیں آئے گا۔یہ پالیسی ایک جواء اور میسر آپشنز میں سے نتائج کے حوالے سے ، کرونا سے نمٹنے کے لئے ایک بہتر چوائس بھی ہو سکتی ہے مگر کیا ایک نفس واحد کے لئے صرف حکومتوں پر تکیہ کیے رکھنا، خود کو کچھ ہفتوں کے لئے بامجبوری نہ بدلنا، اس شخص کی مانند نہیں جو کیلےکے چھلکے دیکھ کر بھی اس وقت پھسلتا ہے کہ کہ جب ایمبولینس اور ڈاکٹر میسر نہ ہو ں۔؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *