سراج الحق سے چند سوالات/محمد اسد شاہ

جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی بنائی ہوئی ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے جو انھی کے افکار و نظریات کی وارث بھی ہے۔ اس جماعت کا اندرونی نظم اور روایات اتنی مضبوط و مربوط ہیں کہ ان کے ساتھ ساتھ مسلسل چلنے رہنا اور ہر قدم پر ان کی پاس داری کرنا عام لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ اس مقصد کے لیے جماعت کے اندر ایک زبردست تربیتی نظام موجود ہے جو عام لوگوں کو جماعت میں شامل ہونے کے بعد بتدریج اس قابل بناتا چلا جاتا ہے کہ وہ خود کار طریقے سے جماعت کے ساتھ یک جان ہو جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جماعت کے اندر سے جو لوگ نکل جائیں، جماعت ان کے اندر سے نہیں نکلتی۔ عالمی سطح پر معروف دینی مفکر و مبلغ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی تنظیمی تربیت بھی جماعت اسلامی نے ہی کی تھی۔ سید منور حسن مرحوم جیسے متقی بزرگ کی طرف دوسری بار جماعت اسلامی کی امارت قبول کرنے سے معذرت، اور سراج الحق کو امیر منتخب کیے جانے پر اہل صحافت سمیت بہت سے حلقوں میں کچھ چہ میگوئیاں ہوئیں۔ وقت کے ساتھ وہ باتیں بہت پیچھے رہ گئیں لیکن نابود نہیں ہوئیں۔ ذہنوں اور تاریخ کے اوراق میں وہ باتیں محفوظ ہیں اور وقتاً فوقتاً سطح آب پر بھی آتی رہیں گی۔ سراج الحق حالیہ عام انتخابات میں خود اپنی ہی نشست بری طرح ہار گئے اور جماعت بھی ملک بھر میں شاید کوئی ایک آدھ نشست ہی حاصل کر سکی ہو گی۔ اس افسوس ناک ذاتی و جماعتی شکست کے بعد سراج الحق نے جماعت کی امارت سے استعفیٰ دے دیا ۔ میرے علم میں نہیں کہ رخصت ہونے والے کسی امیر کے دور کا سخت تجزیہ کرنے کا رواج جماعت اسلامی میں ہے یا نہیں، لیکن امید ہے کہ سراج الحق اب فرصت میں اپنے دور امارت کا محاسبہ خود ضرور کریں گے۔ بطور ایک عام پاکستانی اور لکھاری کے، رفقائے کار اور احباب کے ساتھ گفت و شنید کی کئی نشستوں کے بعد چند سوالات ایسے سامنے آئے جو اس کالم کے ذریعے میں سراج الحق اور ان کے خیر خواہوں کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ان سوالات کا تعلق جماعت اسلامی کے اندرونی معاملات سے نہیں، بل کہ سراج الحق کے اس سیاسی روپ سے ہے جو عام پاکستانیوں کے سامنے آیا۔ چنانچہ ان سوالات کے مخاطب جناب سراج الحق ہیں؛

1: 2016 میں آپ پانامہ لیکس کے معاملے پر شیخ رشید اور عمران خان نامی دو سیاسی شخصیات کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے۔ پانامہ لیکس میں بے نظیر بھٹو، ترہ کئی خاندان اور بعض ریٹائرڈ جرنیلوں سمیت 436 پاکستانی شخصیات کے نام تھے۔ ان میں سے کسی ایک کے خلاف بھی آج تک کوئی تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی کبھی کسی کو طلب کیا گیا۔ 8 سال گزر چکے ہیں۔ آپ نے آج تک اس معاملے میں خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟

2: آپ 2013 سے 2018 تک خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت میں سینئر صوبائی وزیر رہے۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے نظریات، روایات، اقدار، کردار اور شفافیت ایک جیسی ہے اور جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کا پی ٹی آئی جیسے ایک انتہائی شخصیت پرست، سیکولر اور لبرل گروہ کے ماتحت کام کرنا جماعت اسلامی کی عزت اور نیک نامی میں کسی اضافے کا باعث بنا ؟

3: 2013 سے 2018 تک خیبرپختونخوا میں وزارت خزانہ جماعت اسلامی کے پاس تھی اور آپ اس حکومت میں سینئر وزیر بھی تھے۔ آپ کے وزیر خزانہ کے سنگین کرپشن معاملات سامنے آئے۔ بنک آف خیبر کے صدر نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے جماعت اسلامی کے اس راہ نما کی کرپشن کے معاملات عوام کو بتائے۔ آپ نے اپنی جماعت کے اس راہ نما کے خلاف کون سا قدم اٹھایا؟ اپ جماعت اسلامی کے اس وزیر خزانہ کے خلاف تحقیقات کے لیے کسی عدالت میں کیوں نہیں گئے؟

4: آپ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سینیٹر بنے ۔ جب پی ٹی آئی وفاقی حکومت پر قابض تھی، بطورِ سینیٹر آپ نے پی ٹی آئی حکومت کی بدعنوانیوں پر پریس کانفرنسز میں چند ایک بار آواز اٹھائی۔ لیکن آپ تو سینیٹر تھے اور قوم کے خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے۔ ان تنخواہوں اور مراعات کا لازمی تقاضا تھا کہ آپ ان سنگین بدعنوانیوں پر سینیٹ میں آواز بلند کرتے۔ لیکن آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ کیا آپ کا یہ عمل درست تھا اور کیا جان بوجھ کر پانچ سال تک اس مجرمانہ خاموشی کے باوجود آپ کی تنخواہوں اور مراعات کو حلال سمجھا جائے؟

5: 2018 کی انتخابی مہم کے دوران آپ نے کراچی میں عمران خان کے ساتھ مل کر جلوس نکالا۔ عمران خان کی طرف آپ کے مسلسل اور مستقل جھکاؤ نے جماعت اسلامی اور اس کے تمام کارکنان کو ذہنی و نفسیاتی طور پر عمران خان کا مرعوب اور ماتحت بنا دیا اور حقیقتاً ایسا ہی ہے۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان عمران اور پی ٹی آئی کا دفاع کرتے اور ان کی خاطر اپنے ذاتی تعلقات تک کو خراب کرتے پائے گئے۔ عمران خان کے ذاتی اور سیاسی کردار، عادات و اطوار، مشاغل اور پسند و ناپسند کو آپ بہت اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ آپ جس جماعت کے امیر تھے اس کی بنیاد عظیم نابغہ اور مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی جن کے افکار کی اہمیت، ذاتی کردار کی شفافیت اور عظمت کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بطورِ امیر جماعت اسلامی، آپ سید مودودی کے جانشین تھے۔ کیا آپ کا ضمیر مطمئن ہے کہ سید مودودی کی نشست پر بیٹھ کر عمران خان کی ماتحتی اختیار کرنا آپ کے، جماعت اسلامی کے اور سید مودودی کی نشست کے شایانِ شان تھا؟

6: پانامہ لیکس پر آپ جس پھرتی سے شیخ رشید اور عمران خان کے دست و بازو بن کر سپریم کورٹ کی طرف بھاگے، اس کے بعد توقع تھی کہ آپ قومی سطح پر ہر قسم کے مشکوک مالی معاملات اسی طرح عدالتوں کے سامنے لائیں گے۔ پی ٹی آئی کے پونے چار سالہ دور حکومت میں کرپشن کے بے شمار سنگین معاملات سامنے آئے۔ حتیٰ کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سرٹیفکیٹ جاری کر دیا کہ پاکستان پوری کی تاریخ میں سب سے زیادہ کرپشن عمران حکومت کے دوران ہوتی رہی اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ یہ بہت بڑی اور خطرناک بات تھی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل وہی ادارہ ہے جس کے کاغذات دکھا دکھا کر خود عمران خان پریس کانفرنسز اور جلسے کیا کرتا تھا اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی غیر جانب داری، اور سچائی کی قسمیں کھایا کرتا تھا۔ عمران حکومت نے کرونا فنڈز اور عالمی امداد کو جس طرح لوٹا اس کی داستانیں عالمی اخبارات جرائد میں شائع ہوتی رہیں۔ عمران پارٹی نے کرونا بحران کو مال بنانے کا ذریعہ بنایا۔ حتیٰ کہ جان بچانے والی ادویات اور منھ پر لگائے جانے والے ماسک تک لوٹ لیے گئے اور اربوں روپے بنائے گئے۔ عوام کو خاموش کرنے کے لیے عمران نے اپنے وزیر صحت کو برطرف کیا، لیکن بعد میں خاموشی سے اسی کرپٹ شخص کو پی ٹی آئی میں اہم ترین عہدہ دے دیا۔ یعنی دراصل اسے احتساب اور عوامی غصے سے بچایا اور اس کی کرپشن کو بھی تحفظ فراہم کر دیا۔ عمران کے قریبی ساتھیوں کے گھروں سے بہت سا مال برآمد بھی ہوتا رہا۔ 190 ملین پاؤنڈز کرپشن، القادر ٹرسٹ کرپشن، بلین ٹری کرپشن سونامی، بی آر ٹی پشاور کرپشن اور پشاور میٹرو ٹرین کرپشن کے علاوہ پنجاب میں “پنکی گوگی بزدار گینگ” کے ذریعے لوٹ مار کے جو عالمی ریکارڈز قائم ہوئے، 17 ویں سکیل سے اوپر کے ہر تبادلے اور تعیناتی کو جس طرح مال بنانے کا ذریعہ بنایا گیا، اور مال کمانے کی ہی خاطر جس طرح سرکاری افسران کو مسلسل تبادلوں کی زد میں رکھا گیا، اس پر پوری دنیا کا میڈیا بول اٹھا۔ لیکن آپ خاموش رہے اور کبھی کسی عدالت میں نہیں گئے؟ اس طویل اور معنی خیز خاموشی کی کیا وجہ تھی؟ کیا آپ کو کہیں سے حکم کا انتظار تھا یا شیخ رشید اور عمران خان کے بغیر عدالت کے دروازے پر جانا آپ کو پسند نہیں تھا؟

Advertisements
julia rana solicitors

7: دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس، جماعت اسلامی ایک مکمل نظریاتی جماعت ہے جس کا اندرونی نظم ضبط، تعمیر سیرت کا نظام، تربیتی نشستوں کی روایت، دینی تعلیم کا سلسلہ، کتب لکھنے اور پڑھنے کا باقاعدہ اہتمام اور خالص شورائی نظام شان دار اور مثالی ہے۔ شخصیت پرستی کا اس جماعت کے ساتھ کہیں دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ جماعت اسلامی کا حامی کسی شخص کی تصویر دیکھ کر نہیں، بل کہ جماعت کے اصول و ضوابط اور نظریات سے مکمل متفق ہو کر اسے ووٹ دیتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی امارت کے دوران 2015 کے بلدیاتی انتخابات، اور 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدواران کے اشتہارات و فلیکسز پر ہر امیدوار کی تصویر سے اوپر آپ کی تصویر لازمی سمجھی جاتی رہی۔ اگر تصویر کی بنیاد پر ووٹ لینا ہوتا تو جماعت کے اشتہارات پر سید مودودی کی تصویر کیوں نہیں تھی؟ میں یقین سے کہتا ہوں کہ مذکورہ بالا تینوں انتخابات میں جماعت اسلامی پاکستان کے کسی بھی امیدوار کے اشتہارات اور فلیکسز پر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصویر کبھی نہیں لگائی گئی۔ البتہ آپ کی تصویر شائع ہوتی رہی۔ ایسا کیوں؟ ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ کی خواہش پر نہ ہوتا ہو، لیکن جماعت کے باقاعدہ امیدواران کی طرف سے اپنائی گئی اس روایت بد کو روکنا اور ختم کرنا کیا آپ کی ذمہ داری نہیں تھی؟

Facebook Comments

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply