فیصل مورز کا بائیکاٹ بنتا ہے صاحب /محمد وقاص رشید

“سجدہ” اپنی فلاسفی میں یہ کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ ابلیس کے آدم کو سجدے سے انکار ، اور پھر فرشتوں کے مسجود آدم کے “ربنا ظلمنا” کے ساتھ سجدہِ پروردگار میں اس سارے نظامِ حیات کا راز مضمر ہے۔

نماز کیا ہے۔ بارگاہِ خداوندی میں وہی سجدہ ہے۔ یہ اظہارِ عبودیت ہے۔ خدا نے اسے پانچ متعین اوقات میں انسان پر فرض کیا ہے۔ خطا ہماری سرشت میں ہے۔ مگر انسانیت کا سب سے ارفع مقام پیشانی خدا کی تعظیم میں جھکا کر ہم ایک ہی وقت میں ابلیس کی سنت کی نفی اور جناب آدم کی سنت کی توثیق کرتے ہیں۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ہمارا پروردگار حساس ہے۔ اس نے عبد پر عبادت فرض کی تو اسکی مجبوریوں کا احساس رکھا۔ انسان صدا کا مسافر، کہیں بہشت کے کسی باغ سے زمین تلک عازمِ سفر ہوا۔ یہاں سے اسے واپس جانا ہے۔ رزق کے جس دانے کی وجہ سے یہاں آیا تھا اسی کے باعث واپسی ہو گی۔

سجدہ غلام کا فرض ہے ہی اس لیے کہ مالک کا حق ہے۔ مگر مالک بڑا اعلی ظرف ہے ، کہتا ہے مجھے احساس ہے کہ روزگار ، کاروبار یا دیگر امور کی وجہ سے ازل کا تو مسافر ، سفر میں ہو گا۔ استثنیٰ نہیں ہے مگر جب تو مسافت میں ہو گا اس میں آسانی کر دوں گا۔ تعداد گھٹا دوں گا۔ وضو کا پانی نہیں تو تیمم کر لے۔ چلتے پھرتے مجھے یاد کر لے ، سواری پر سوار ہی میرے سامنے جھک جائے گا تو بھی قبول۔ تیرے وقت اور مصروفیت کا پاس رکھتا ہوں آخر تیرا خدا ہوں۔

رسول اللہ ص نے اونٹ پر سوار بھی اپنے پروردگار کو سجدہ کیا اور قرآن نے اس طریقت کو کائنات کے آخری سجدے تک “اسوہِ حسنہ ” قرار دیا۔ تو پھر یہ طریقت کس کی ہے ؟

کہیں پڑھا تھا حضرت عمر ایک قافلے کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے تو کہیں قریب پہنچ کر راستے میں نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت عمر رض نے کسر نماز پڑھی۔ پوچھا گیا ہم تو اتنے نزدیک ہیں کہ مسجدِ نبوی کے مینار دیکھ سکتے ہیں۔ تو حضرت عمر نے کہا جس کا مفہوم ہی یاد ہے کہ خدا کی نعمت سے انکار کیوں کرتے ہو؟۔

ہم نے کرنا صرف یہ تھا کہ اپنے سجدے سے متعلق خدا کی طرف سے دی گئی اس نعمت پر ایک سجدہِ شکر ادا کرنا تھا کہ ہمارے خدا نے ہمیں ہماری “استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھوایا” مگر ہم تو “اللہ کی نعمت کا انکار کرنے لگے”۔ اس انکار کے پیچھے محرک کیا ہے ؟ وہی ایک۔ بس وہی ایک۔

پچھلے دنوں ایک لمبے سفر سے گھر واپسی پر سفر میں دو حصوں میں کٹنا تھا۔ میں اپنی طرف سے جلدی دن بارہ بجے والے ٹائم پر اس لیے نکلا تھا کہ آگے کی آخری گاڑی پکڑ سکوں ۔ راستے میں دو دفعہ خدا کی طرف سے دی گئی سہولت کا انکار کرنے والوں نے آدھا آدھا گھنٹہ گاڑی رکوائی اور نتیجہ یہ نکلا کہ میں اپنی منزل کی طرف جانے والی آخری گاڑی نہ پکڑ سکا۔ پر کسی کی بلا سے کہ منزل کی طرف آخری گاڑی چھوٹ جانے کا کرب کیا ہوتا ہے۔ اسکی وجہ سے جسمانی تکلیف کے ساتھ مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑا۔ میں تو خوش قسمتی سے اکیلا تھا مگر ساتھ ایک اور فیملی تھی جنہیں دقت میں دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ وہ مُلاں صاحبان تو یہیں کے تھے مگر انہوں نے ہمارے بارے میں خصوصا آگے جانے والے ان چھوٹے چھوٹے بچوں اور خواتین کے متعلق کیوں نہیں سوچا۔ ہمارے ہاں تو ایک مقولہ عام ہے کہ حقوق اللہ تو معاف ہو جائیں گے کہ وہ عالی ظرف شہنشاہ غفور الرحیم ہے لیکن حقوق العباد تو قطعاً معاف نہیں ہونگے۔ تو ؟

سوال یہ ہے کہ نماز خدا کی عائد کردہ ہے خدا نے سفر میں سہولت دی اس سہولت کو محمد رسول اللہ ص نے مشق کر کے دکھایا خدا نے انکے طریقے کو نمونہ قرار دیا تو پھر یہ لوگ وضو کر کے گاڑی میں سوار ہو کر دو نمازیں اکٹھی کر کے کسر رکعات کے ساتھ بسوں کی سیٹوں پر کیوں نہیں پڑھ سکتے۔ جس دقت سے خدا نے بچایا ہے اس میں خود تو کجا دوسروں کو کیوں مبتلا کرتے ہیں ؟۔

طالبعلم نے سر کی سیاہی میں سوال کیا تھا بالوں میں سپیدیِ سحر پھوٹی تو جواب ملا۔

کبھی آپ نے دیکھا کہ جہاں لکھا ہوتا ہے آگے سپیڈ چیکنگ کیمرہ لگا ہے وہاں پاؤں ایکسلریٹر کی بجائے بریک کی طرف جاتا ہے۔ پرینک کرتے ہوئے آخر پر جب کوئی کہتا ہے وہ سامنے کیمرہ لگا ہے ہاتھ ہلا دیں تو چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ جہاں لکھا ہو خبردار کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے وہاں ہمارے اطوار بدل جاتے ہیں۔

خدا واقعی علیم و حکیم ہے انسان کو خبردار کیا کہ “خبردار کیمرے کی آنکھ تیری نیت کو دیکھ رہی ہے “۔ یہ اطلاع خدا پر یقین رکھنے والوں کے لیے ایک ہمہ وقت جاری رہنے والی باطنی تطہیر کی نوید تھی۔ خدا جانتا تھا اس لیے ریاکاری سے بچنے کے لیے اس درجہ شدید تلقین کی کہ خدا کے نیت پر موجود کیمرے پر انسانی آنکھ کے کیمرے کو فوقیت دی تو شرک۔ دکھاوے کی خاطر سجدہ ، روزہ ، صدقہ شرک قرار دیا۔ یہاں تلک کہ کسی کے دیکھنے کے زیرِ اثر سجدہ لمحاتی طور پر طویل کر دیا تو بھی شرک۔

لیکن بد قسمتی سے یہاں انسانی مزاج پر جغرافیائی اثرات کی وجہ سے مذہب کی تعریف یہ بن گئی کہ حج کرنے والا نام گھر کی تختی پر حاجی لکھوا کر باقی عمر “حاجی صاحب ” کی بازگشت میں گزار کر حضرت ابراہیم کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھولتا اور کھکواتا رہتا ہے۔ صدقہ کرنے والا برائے ایصال ِثواب یوں لکھتا ہے جیسے فرشتوں کے لکھنے پر یقین نہ ہو۔ روزہ دار ہر کسی کو بتاتا رہتا ہے کہ آج بڑا روزہ لگ رہا ہے ، کبھی یہ کہ میرے سامنے کھا رہے ہو میرا روزہ ہے۔ اور سب چھوڑیے۔۔۔ایک پلاسٹک سرجن کے مطابق ماتھے پر مہراب بنوانے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

سو سجدے میں چھپے رازِ حیات کو ابلیس نے بھلایا تھا اسکے مسجود انسان نے بھی بھلا دیا۔  اس نے کہا میں آگ کا آدم مٹی کا سجدہ نہیں بنتا۔ سو وہ بھی اپنی ذات کا اسیر ٹھہرا ہم بھی اسی نفس کے غلام ہوئے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مذہب جب خدا اور بندے کے درمیان تعلق کی بجائے ایک ریا کی خو بن جاتا ہے تو انسان کی نفسیات کو مکمل طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔ اب مخفی نیکی اس نفسیاتی خو کی تسکین نہیں کرتی۔ حج کیا اور حاجی صاحب نہ کہلایا تو فائدہ کیا۔ صدقہ خیرات کر کے لوگوں میں سخی و غنی مشہور نہ ہوا تو بے سود۔ الغرض سفر میں خدا کی دی ہوئی  سہولت و نعمت کا فائدہ خود بھی اٹھایا اور دوسروں کو بھی اٹھانے دیا تو اس خواہش کی تکمیل تو نہ ہوئی۔ اب اس خواہش کی تکمیل میں فیصل مورز رکاوٹ ڈالے تو بائیکاٹ تو بنتا ہے صاحب۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply