ہم نوٹ چھاپ کر قرض کیوں نہیں اتارتے؟ ۔۔۔ پرویز بزدار

SHOPPING

جب آپ آئے روز سنتے رہتے ہیں کہ پاکستان قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہاہے تو کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہماری حکومت نوٹ چھاپ کر وہ قرضے واپس کیوں نہیں کرتی؟
آئیں دیکھتے ہیں کہ نوٹ چھاپنا کیوں کوئی حل نہیں۔

اگر ایک لفط میں کہا جائے تو اس کی وجہ ہے انفلیشن ، مگر پھر یہ انفلیشن کیا بلا ہے؟ انفلیشن سے مراد افراط زر یعنی پیسے کی زیادتی کی وجہ سے چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
تفصیلاً  دیکھا جائے تو اکانومی کا ایک انتہائی بنیادی اصول ہے کہ جوں جوں کسی چیز کی تعداد بڑھتی جاتی ہے اس کی قیمت اسی طرح کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی بات کرنسی پر بھی اپلائی ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر فرض کیا چار دوست کسی پہاڑی علاقے میں گھومنے پھرنے نکلتے ہیں۔وہ سب طے کرتے ہیں کہ رستے میں اگر کیلے ملتے ہیں تو اس دوست کے ہیں ، سیب دوسرے کے، مالٹے تیسرے کے اور امرود چوتھے دوست کے ہونگے۔ایک دن کے سفر کے بعد وہ دیکھتے ہیں کہ ہر ایک کےپاس اس کےلیے منتخب فروٹ کا ایک درجن موجود ہے۔ اس تعداد کو دیکھتے ہوئےوہ طے کرتے ہیں کہ آپس میں ایک فروٹ کے بدلے اگلا فروٹ ایکسچینج کرتے ہیں۔آگے جا کر کیلوں کا باغ دکھائی دیتا ہے اور پہلا دوست لاتعداد کیلے اٹھاتا ہے۔ اب لامحالہ جس کے پاس کیلے ہیں اس کو ایک کیلے کے بدلےمیں کوئی بھی دوست ،سیب امرود یا مالٹا دینے کو راضی نہیں ہوگا بلکہ دس کیلے کے بدلے شاید اسے کوئی اور فروٹ ملے۔ اب ان فروٹس کی جگہ کرنسیوں کی مثال لیں۔ کیلے کے باغ کی مثال اس کرنسی کی ہے جس کو چھاپنا شروع کر لیا جائے اور دوستوں سے مراد مختلف ممالک ہیں۔

یہ صرف ایک نظریاتی بات نہیں ہے، پچھلے سال تک نوٹ چھاپنے کی وجہ سے وینیزویلا کی کرنسی اس قدر بے قیمت تھی کہ لوگ اسے کاغذ کے طور پر باہر کے ملکوں میں بیچ رہے تھے۔ اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو 2008 میں زمبابوے نے نوٹ چھاپ کر قرض اتارنے کی کوشش کی۔ اور ان کے ہاں انفلیشن ریٹ اس نمبر پر پہنچ گیا جو آپ اپنی سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔
اگر گنتی کریں تو اس نمبر میں بائیس ہندسے ہیں جبکہ اصل میں یہ شرح ایک سے تین فی صد تک رہنی چاہیے۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں یہ شرح ایک سے پانچ فی صد تک ہے۔ اگر یہ شرح پچاس فی صد سے بڑھ جائے تو یہ ہائپر ایفلیشن ریٹ کہلاتا ہے۔ زمبابوے پراس ہائپر انفلیشن ریٹ کا اثر یہ پڑا کہ اگر کل روٹی کی قیمت سو زمبابوے ڈالر تھی تو اگلے دن دو سو ہو جاتی۔ اور یوں گورنمنٹ بڑے سے بڑے نوٹ چھاپنے لگی یہاں تک کہ سو کھرب کا بھی ایک نوٹ چھاپا گیا۔ آخر کار زمبابوے کو اپنی کرنسی ختم کرنی پڑی او ر آج تک ان کی اپنی کوئی کرنسی نہیں اوروہ ڈالر اور یورو وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ نوٹ چھاپنے سے پہلے زمبابوے کا ایک ڈالر ڈیڑھ امریکی ڈالر کے برابر تھا مگر اس انفلیشن کے بعد پورے ملک کی کرنسی کی قیمت بھی ایک ڈالر سے کم تھی۔

SHOPPING

اس سے بھی بدترین انفلیشن انیس سو چھیالیس میں ہنگری میں دیکھا گیا۔ اس انفلیشن سے پہلے ایک امریکی ڈالر پانچ ہنگری پینگو کے برابر تھی مگر جب کرنسی کو ختم کیا گیاتوپورے ملک کی کرنسی نوٹوں سے بھی ایک امریکی ڈالر تو کیا ایک سینٹ بھی نہیں خریدا جا سکتا تھا۔ ا س وقت ہنگری میں چیزوں کی قیمتیں ہر اگلے دن میں تقریبا چار گنا بڑھ رہی تھی ۔ ویسے آپ کی معلومات کےلیے عرض ہے کہ اگر انفلیشن تین فی صد ہو تو تئیس سال بعد چیزوں کی قیمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔

SHOPPING

پرویز بزدار
پرویز بزدار
مضمون نگار کائسٹ جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ وہ موبائل اور کمپیوٹر کے پروسیسرز بنانے میں آرٹی فیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *