چاند پر جائے بغیر چارہ نہیں /ضیغم قدیر

چاند کو آپ آسمان پر دیکھتے ہونگے، کئی بار تو اس کے ساتھ اپنے محبوب کا بھی موازنہ کرتے ہونگے لیکن زیادہ تر اوقات آپ چاند کو فقط آسمان پر موجود ایک آبجیکٹ سمجھ کر کچھ مزید نہیں سوچتے ہونگے وہیں پر جب آپ یہ سنتے ہونگے کہ دنیا کے کسی مخصوص ملک سے کروڑوں روپوں کی لاگت سے چاند پر مشن بھیجا گیا ہے تو آپ یہ ضرور سوچتے ہونگے کہ آخر کار چاند پر جانا اتنا ضروری کیوں ہے؟ اور کیوں دنیا کا ہر دوسرا امیر ملک چاند پر جانا چاہتا ہے؟

ساٹھ کی دہائی میں چاند کی سطح پر مختلف مشن بھیجنے کی شروعات ہو چکی تھی، ان مشنز میں امریکی سب سے آگے تھے۔ امریکہ نے چاند پر رینجر نامی سیریز کے خلائی جہاز چاند کی سطح پر کریش لینڈ کروائے تھے۔ ان سے ملنے والی معلومات خاص کر ان کی طرف سے بھیجی گئی 15 ہزار سے اوپر تصاویر کی مدد سے انہوں نے چاند پر لینڈ کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کی۔

وہیں پر اس دوران روسیوں کی طرف سے چاند پر بھیجے گئے Luna 10 مشن نے ہمیں یہ بتایا کہ چاند کی کشش ثقل سیدھی سادی نہیں ہے بلکہ اس میں حد سے زیادہ اتار چڑھاؤ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاند پر بھیجا جانے والا ہر دوسرا مشن کریش ہو جاتا ہے۔

اس سب ڈاٹا کے ملنے کے بعد ہماراعلم چاند کے بارے میں وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا تھا اور ہم نے مزید مشنز بھیج کر چاند کی سطح اور کشش ثقل کے بارے میں حد سے زیادہ معلومات لے لی تھی۔ ان معلومات کی بنیاد پر پھر اپالو مشنز کو چاند کی طرف بھیجا گیا۔ یہ مشن باقی سب مشنز کے برعکس چاند پر اکیلی مشین کی بجائے انسانی عملے کے ساتھ گئے تھے۔

ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپالو مشن کو صرف اپالو 11 کے تعارف سے جانتے ہیں اور اپالو 11 کو بھی ہم نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر رکھے گئے مشہور زمانہ قدموں کے نام سے جانتے ہیں۔ وہیں پر بہت سے لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ چاند پر نیل آرمسٹرانگ والے مشن سے ہٹ کر کوئی اور چاند پر کیوں نہیں گیا ہے؟ اس سوال کا جواب میڈیا کی توجہ پر ہے۔ ہم میڈیا پر نیل آرمسٹرانگ کے علاوہ کسی اور نام اور اپالو 11 کے علاوہ باقی اپالو مشنز کا نام نہیں سنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ یہ بات بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ اب تک چاند پر بھیجے گئے پہلے اپالو 11 مشن سے ہٹ کر چھ اور مشن بھی انسانوں کو اس کے بعد چاند پر لیجا چکے ہیں اور ان چھ مشنز کے ذریعہ سے 12 لوگ چاند کی سطح سے ہو کر آئے ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ چاند پر چل کر آئے ہیں۔

ان مشنز کے علاوہ چین اور بھارت کے مشن بھی قابل ذکر ہیں۔ چین چاند پر تین خلائی جہاز لینڈ کروا چکا ہے جن میں Change 3 سے لیکر Change 5 تک کے چاند پر بھیج شکا ہے۔ اور حالیہ چندریان 3 کے لینڈ ہونے سے پہلے چین اس صدی کا واحد ملک تھا جس نے چاند پر اپنا کوئی مشن لینڈ کروایا تھا۔ چین کا آخری بھیجا گیا Change 5 مشن وہاں سے مٹی کے نمونے زمین پر لیکر آیا تھا اور Change 4 نامی مشن دنیا کا واحد مشن ہے جو چاند کی دور والی سائیڈ پر لینڈ ہو چکا ہے اور اس سائیڈ سے ہماری زمین سے دوری والی سائیڈ پہ ہونے کی وجہ سے زمین کی مداخلت سے بچا ہوا ہے اور ہم یہاں سے ریڈیو آسٹرانومی کر سکتے ہیں جو کہ زمین سے ممکن نہیں ہے۔

یہاں تک تو چاند پر جانے والے مشنز کا تعارف ہو جاتا ہے وہیں پر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ چاند پر بھیجے جانے والے ان مشنز کا انسانوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور آخر کیوں ہم اتنا سرمایہ چاند پر لگانے کا سوچ سکتے ہیں؟

آج سے تقریبا چار ارب سال پہلے جب ہمارا سولر سسٹم جنم لے رہا تھا تو ان ابتدائی سالوں میں یہاں ہر سیارے اور اس کے چاند پر شہابیوں کی بارش ہو رہی تھی، یہ وہی شہابیے ہیں جن کی وجہ سے زمین پر زندگی نے جنم لیا تھا اور اب ان میں سے زیادہ تر شہابیوں کے شواہد زمین پر ہونے والی آکسیڈیشن، ہوا اور پانی کے تعامل سے ہونے والے عمل، کی وجہ سے اب مٹ چکے ہیں وہیں پر چاند پر کسی قسم کی ہوا موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ شواہد مٹ سکیں اس لئے چاند پر موجود دھبے نما گڑھے سولر سسٹم کے آغاز کی کہانی ان اربوں سالوں کے گزر جانے کے باوجود سنا سکتے ہیں اور اس کہانی کی مدد سے ہم زندگی کے آغاز جیسے بنیادی سوال سے لیکر سولر سسٹم کے ابتدائی واقعات تک کی کھوج لگا سکتے ہیں۔ چاند پر موجود شہابیوں کے گڑھے اتنے پرانے ہیں کہ کچھ تو ابتدائی سالوں مطلب آج سے چار ارب سال پرانی کہانی بتانے کے لئے بیتاب وہیں پر پڑے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ چاند پرموجود کچھ شواہد کو سائنسدان بطور کسوٹی استعمال کرکے دوسرے سیاروں جیسا کہ مرکری، مریخ اور دوسرے سیاروں کے چاند کے مطالعے میں استعمال کرتے ہیں۔

آپ زمین پر آنے والے زلزلوں سے کافی پریشان ہوتے ہونگے بلکہ آپ میں سے کئی لوگوں کا ان میں سے کسی نا کسی زلزلے میں نقصان بھی ہوا ہگا وہیں پر آپ کے لئے یہ بات جاننا حیران کن ہوگی کہ چاند کی سطح پر کسی قسم کے بھی زلزلے نہیں آتے ہیں اور یہ سطح بالکل ویسی کی ویسی رہتی ہے۔ اس بات کا سائنسدانوں کو حد سے زیادہ فائدہ ہے اور وہ اس فائدے سے مستفید ہو کر ایک نئی چیز جاننے کے لئے بیتاب ہیں اور وہ چیز ہے چاند کے مینٹل یا پھر اندرونی سطح کا مطالعہ۔ چونکہ چاند کی سطح پر موجود تمام پہاڑیاں ابتدائی شہابیوں کے ٹکراؤ کےساتھ ہی بن چکی تھی اس لئے ان کی اندرونی سطح کے مطالعے سے سائنسدان کسی بھی بڑے جسم خاص کر سیارے کی سطح کے بننے کے عمل کو آسانی سے جان سکتے ہیں۔ یہ بات جاننا بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک ویڈیو 0 اعشاریہ 1 سیکنڈ پر روک دیں اور اس ویڈیو کو چار ارب سیکنڈ گزرنے کے بعد دیکھنا شروع کریں تو آپ کو 0 اعشاریہ 1 سیکنڈ سے ہی مواد دیکھنے کو ملے گا۔

یہ بات جاننا بہت حیران کن تھی جب بھارت کے بھیجے گئے چندریان اول مشن نے چاند کی سطح پر پانی کے ٹھوس شواہد ڈھونڈ لئے تھے۔ وہ دن سائنسدانوں کے لئے عید کا دن تھا کیونکہ ان کی صدیوں سے کی جانے والی پیشن گوئیوں میں سے ایک درست ثابت ہو رہی تھی۔

چاند کی سطح سے پانی کا ملنا خلانوردوں کے لئے ایک معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ چاند پر اپنا بیس اسٹیشن بنانا چاہتے ہیں اور اس اسٹیشن پر پانی کی رسد اس میں موجود انسانی عملے کی زندگی کے لئے ایک گارنٹی ہوگا جو کہ نا صرف پینے میں استعمال ہو سکے گا بلکہ آکسیجن کی ضرورت بھی پوری کر سکتا ہوگا۔

چندریان اول نے اپنے اندر موجود ریڈاروں کی مدد سے چاند کے مدار میں ہوتے ہوئے یہ بات مشاہدے میں لائی کہ چاند کی تاریک سائیڈ پر 600 ارب کلو تک پانی موجود ہے اس کے ساتھ ہی ناسا کی طرف سے بھیجے گئے مشنز نے بھی اسی بات کا اشارہ دیا اوربتایا کہ چاند کے پولز برفے سے ڈحکے ہوئے ہوسکتے ہیں اور ہمیں وہاں سے پانی مل سکتا ہے۔

لیکن ابھی تک سائنسدان اس بات سے ہرگز متفق نہیں ہیں کہ ہم اس پانی کو زیر استعمال لا سکتے ہیں اور اس کی مدد سے اسپیس سٹیشن کو رسد فراہم کر سکتے ہیں سو اس بات کی تصدیق کے لئے چاند پر ایسے مشن بھیجنا ضروری ہیں جن کی مدد سے ہم چاند پر موجود اس پانی کا تجزیہ کر سکیں اور اس کے لئے امریکہ طرف سے وائپر نامی مشن اسی مقصد کے لئے وہاں جا رہا ہے۔

یہ سوال ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا ہے کہ چاند کیسے بنا تھا؟ اس کے بارے میں مختلف تھیوریز ہیں جن میں سے سب سے زیادہ کامیاب تھیوری یہ ہے کہ چاند کبھی زمین کا حصہ ہوا کرتا تھا اور پھر یہ ہم سے الگ ہوگیا اور ایک نئے مدار میں گردش کرنے لگ پڑا تھا۔ وہیں پر اس بات کی تصدیق کے لئے ہمیں چاند کی سطح کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لئے اپالو مشنز نے ابھی تک چاند کی سطح سے 382 کلو گرام مٹی، پتھر اور سطح کےنمونے زمین پر لائے ہیں۔ اسی طرح 1970 سے 1976 تک سوویت یونین کی طرف سے چاند پر بھیجے گئے مشنز کی طرف سے بھی چاند سے 300 گرام میٹیریل زمین پر لایا گیا ہےا ور آج تک اس میٹیریل کا مطالعہ جاری ہے۔

آج ناسا چاند سے آرٹیمس مشن کی مدد مزید ایسے نمونے تجزئیے کے لئے لینے جا رہا ہے اور آرٹیمس گرد، پتھر اور سطح سے ہٹ کر اس بار چاند سے پانی کے نمونے بھی لانے جا رہا ہے اسی طرح چین کا Change 6 مشن بھی چاند کے جنوبی کرے سے پانی ایسے نمونے لانے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ ان کی مدد سے ہم اس کا تجزیہ کر سکیں اور اس کے ہمارےزیر استعمال آنے کی بات کو پرکھ سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ چاند کے آغاز جیسے سوال کی گتھی بھی سلجھانے کی کوشش کریں۔

ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ چاند پر جانے کا سب سے بڑا مقصد بغیر کسی زمین مداخلت کے، جیسا کہ زمینی کرہ ہوائی کی مداخلت کے صاف شفاف آسمان کا مطالعہ بھی ہے۔ چاند کی سطح ہمیں کائنات کو بغیر کسی کرہ ہوائی کی مداخلت کے کائنات کو پڑھنے کا موقع دے سکتی ہے جس کی مدد سے ہم کائنات کو بہتر سے بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

وہیں پر اس ساری ریس اور اس کو قابل عمل بنانے پر پیسہ لگ رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجی بن رہی ہے جو کہ ان ممالک کے دفاع کو بھی ناقابل تسخیر بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرا امیر ملک خلا میں اور خصوصا چاند پہ اپنے مشن بھیج رہا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply