پینک اٹیک/ڈاکٹر شاہد عرفان

پینک اٹیک ایک ایسی صورت ہے جس میں بغیر کسی حقیقی خطرے یا ظاہری وجہ کے جسم فائٹ یا فلائٹ رسپانس کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں فرد شدید قسم کے خوف کے ساتھ کچھ جسمانی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ اٹیک کچھ منٹوں سے آدھے گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔

اگر کسی شخص کو بار بار اچانک پینک اٹیک ہو اور وہ ہر وقت اس خوف میں رہے کہ دوبارہ بھی یہ ہوسکتا ہے تو اس کیفیت کو ’’پینک ڈس آرڈر ‘‘ Panic Disorder کہتے ہیں۔

پینک اٹیک کی دیگر علامات …
٭ایسے لگتا ہے کہ آپ مرنے یا بے ہوش ہونے والے ہیں۔

٭بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ انہیں دل کو دورہ پڑ رہا ہے۔

٭دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔

ٔ٭پسینہ آتا ہے‘ کپکپاہٹ طار ی ہوجاتی ہے۔

٭سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے ‘دم گھٹتا ہے۔

٭بہت زیادہ گرمی یا ٹھنڈ لگتی ہے۔

٭سر چکرانے لگتا ہے یا سر درد ہوسکتا ہے۔

٭سینے یا پیٹ میں درد ہوتا ہے۔

٭اپنے ارد گرد کی چیزوں سے منقطع ہوجاتے ہیں۔ انہیں یوں لگتا ہے کہ وہ غیر حقیقی ہیں۔

٭اٹیک ختم ہونے کے بعد جسم تھکا تھکا سا محسوس ہوتا ہے۔

سبب کیا ہے…
Causes of Panic Attacks….
پینک اٹیک کی حتمی وجہ تو معلوم نہیں تاہم اس کے امکانات میں اضافہ کرنے والے کچھ عوامل میں کسی قریبی عزیز کی بیماری یا موت کے باعث شدید ذہنی تناؤ رہنا اور فیملی میں یہ مسئلہ ہونا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسی ٹراما سے گزرنا، مثلاً جنسی زیادتی یا کوئی بڑا حادثہ وغیرہ، زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی آنا مثلاً ہم سفر سے علیحدگی یا بچے کی پیدائش اور تمباکونوشی یا کیفین کا غیر معمولی استعمال کرنا بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاج کے طریقے…
Treatment….
علاج کے ذریعے پینک اٹیک کی شدت اور اس کے بار بار ہونے کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ مریض کی ترجیح، مسئلے کی نوعیت اور دیگر کچھ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب طریقۂ علاج تجویز کیا جاتا ہے۔

سائیکو تھیراپی…
Psychotherapy….
اس میں مریض سے بات چیت کر کے اس کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر اس سے نپٹنے کے طریقوں پر کام کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک قسم سی بی ٹی (Cognitive Behavioral Therapy)ہے۔ اس میں مریض کے سوچنے کا انداز تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً اسے یہ احساس دلایاجاتا ہے کہ جو کچھ وہ سوچ رہا ہے وہ غیر حقیقی ہے۔

اس دوران اسے ایک محفوظ ماحول میں زیر نگرانی رکھتے ہوئے ان علامات کا بار بار سامنا کروایا جاتا ہے جو پینک اٹیک کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جب یہ اسے خطرناک لگنا بند ہوجاتی ہیں تو اٹیک خود بخود ٹھیک ہونے لگتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج مؤثر ہے مگر اس کے نتائج ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ادویات…
Mediation….
مختلف قسم کی ادویات بھی اس ضمن میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم ہر دوا کے سائیڈ افیکٹس ہوتے ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اور ہر مریض کو اس کی علامات کے مطابق ادویات تجویز کی جاتی ہے۔۔

علامات کو کم کرنے یا روکنے کے لئے ٹِپس۔۔۔
Some Tips For Overcome on panic Attacks…
اگرچہ اس مسئلے کا باقاعدہ علاج پیشہ ورانہ مدد سے ہی ہوسکتا ہے تاہم یہ ہدایات اس صورت میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں:

٭علاج کو ادھورا نہ چھوڑیں۔

٭ان لوگوں سے رابطہ کریں جو اس مسئلے سے صحت یاب ہوچکے ہیں یا علاج کروا رہے ہیں۔ ڈاکٹر اس میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔

٭الکوحل، کیفین، تمباکونوشی اور منشیات کا استعمال نہ کریں۔ ی

٭نیند پوری کریں۔ اس کے علاوہ ذہن کو پرسکون کر نے کے لئے یوگا یا ایسی دیگر سرگرمیاں کریں۔

٭پٹھوں کو ریلیکس کرنے والی ورزشیں کریں۔

٭پینک اٹیک کے دوران اور عام حالات میں بھی سانس کی ورزشیں کریں۔ اس کے لئے ناک سے آہستہ آہستہ گہری سانس لیں، پھر منہ کے ذریعے اسے آہستہ آہستہ خارج کریں۔ اس دوران آنکھیں بند کر لیں اور سانس لینے پر توجہ دیں۔

٭توجہ ہٹانے کے بجائے خوف کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔ یہ اگرچہ مشکل ہے مگر اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ جو بھی سوچ رہے تھے ویسا کچھ نہیں ہوا۔

پیچیدگیاں…
Complications…
پینک اٹیک کا علاج نہ کیا جائے تو مریض ایک دوسری کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے جسے پینک ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی چلانے، گھر سے نکلنے کا بے جا خوف (phobia)، دیگر فوبیاز، ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

بعض افراد ایسی جگہوں یا صورت حال کا سامنا کرنا چھوڑ دیتے ہیں جن سے انہیں اینگزائٹی ہوتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس کے باعث انہیں خوف کا دورہ پڑ سکتا ہے اور وہ حالات کو قابو نہیں کر پائیں گے۔ اس کے علاوہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا سماجی زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

پینک اٹیک کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اس کی علامات دیگر پیچیدہ مسائل سے بھی ملتی جلتی ہیں لہٰذا مشاورت سے ان کی تشخیص بھی ہو پائے گی..

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply