ذہانت (23) ۔ دیکھنے والی مشین/وہاراامباکر

ایسے الگورتھم بنانا جو کہ دیکھ سکیں، آسان کام نہیں۔ ہمیں ایک منظر کو سمجھنا آسان لگتا ہے لیکن اس کی وضاحت دینا کہ ہم یہ کر کیسے رہے ہیں۔۔۔ یہ آسان نہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

 

 

 

 

فرض کیجئے کہ آپ کو یہ کام دیا گیا ہے کہ ایسی ہدایات لکھیں جن کی مدد سے یہ بتایا جا سکے کہ تصویر میں بلی ہے یا نہیں۔ آپ شاید شروع کریں کہ اس کی چار ٹانگیں ہوں گی، دو کان ہوں گے، بالوں والی کھال ہو گی۔۔۔۔ لیکن اگر تصویر میں بلی بیٹھی ہوئی ہو؟ جس میں کوئی ٹانگ نظر نہ آ رہی ہو؟ یا ایک کان نظر آ رہا ہو؟ یا پھر بالوں والی کھال اور قالین میں فرق کیسے کیا جائے گا؟ یا پھر بھیڑ کی کھال سے؟ یا گھاس سے؟
آپ ان سب کے لئے اضافی ہدایات لکھ سکتے ہیں۔ ہر قسم کے کان، کھال، بیٹھنے کے انداز کو شامل کر سکتے ہیں۔ لیکن بہت جلد آپ کی ہدایات اس قدر بڑی ہو جائیں گی کہ ان پر عمل کرنا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ کوئی اور طریقہ چاہیے۔ اور یہاں پر حربہ یہ ہے کہ ہدایات کی بنیاد پر بنے سسٹم سے ہٹا جائےاور ایک اور تکنیک اختیار کی جائے جو کہ نیورل نیٹورک ہے۔
نیورل نیٹورک کو ریاضی کے بڑے سٹرکچر کے طور پر تصور کر سکتے ہیں جس میں کئی ناب اور ڈائل لگے ہیں۔ ایک طرف سے تصویر ڈالی جو کہ اس سٹرکچر نے پراسس کی اور اپنا اندازہ لگایا کہ اس میں بلی ہے یا نہیں۔
شروع میں اس نیٹورک کو کچھ علم نہیں ہو گا کہ بلی کو پہچانا کیسے جائے۔ تمام ناب اور ڈائل رینڈم جگہ پر ہوں گے۔ جیسے اس میں تصاویر ڈالتے جائیں گے اور اس کو بتائیں گے کہ یہ بلی والی تصویر ہے یا نہیں، یہ ناب اور ڈائل ہلاتا جائے گا۔ آہستہ آہستہ، اس کی ٹریننگ ہو رہی ہے۔
اس کو ایک تصویر دی۔ اس نے اپنا اندازہ لگایا اور اپنے ناب ایڈجسٹ کئے تا کہ اندازہ درست جواب کے قریب ہو۔ ایک کے بعد دوسری تصویر ڈالتے گئے۔ جہاں پر کامیابی زیادہ رہی، اس حساب سے ناب کے راستے بنتے گئے۔ ہزاروں تصاویر دکھانے کے بعد یہ ایڈجسٹ ہو گیا۔
اب جب اسے ایسی نئی تصویر دکھائی جائے جو اس نے پہلے نہیں دیکھی تو یہ اچھی ایکوریسی سے بتا دے گا کہ اس میں بلی ہے یا نہیں۔
نیورل نیٹورک کے بارے میں جو چیز دلچسپ ہے، وہ یہ کہ ان کو بنانے والے عام طور پ یہ نہیں سمجھتے کہ الگورتھم نے نتیجہ کیا نکالا ہے۔ کیا اس نے وہی خاصیتیں اٹھائی ہیں جن کی مدد سے میں اور آپ کسی بلی کی پہچان کرتے ہیں یا بالکل ہی کچھ الگ۔ اور چونکہ اس پراسس کا نتیجہ اس کے آپریٹر کے لئے غیرشفاف ہے، اس لئے انہیں صرف یہ معلوم ہو پاتا ہے کہ الگورتھم جواب دینے میں کتنا اچھا ہے۔
یہ مشین کے سیکھنے کا طریقہ ہے۔ چونکہ یہ پروگرام کرنے والے کی ہدایات پر نہیں بلکہ تصاویر دیکھ کر سیکھتا ہے تو ریاضی کے اس طریقے کو “مصنوعی ذہانت” کہہ دیا جاتاہے۔ اس میں ناب اور ڈائل کی تہیں اس کو گہرا سٹرکچر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ڈیپ لرننگ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
نیورل نیٹورک نیا تصور نہیں۔ یہ بیسویں صدی کے وسط سے ہیں۔ لیکن کمپیوٹروں کے طاقتور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے موثر طور پر کام لیا جا سکتا ہے۔
جب 2012 میں جیفری ہنٹن کی ٹیم نے ایک نئی طرز کے نیورل نیٹورک کو تصاویر پہچاننے کے لئے استعمال کیا تو یہ ایک اہم سنگِ میل تھا۔
ایسا الگورتھم جو ہمارے جانے بغیر خود فیصلے لے سکتا ہو، جادو لگے لیکن ہم خود بھی ایسا ہی سیکھتے ہیں۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply