میری ماں میری جنت۔۔۔صاحبزادہ عتیق الرحمن

اللہ تعالٰی فرماتے ہیں “تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی اور پرہیزگار ہے۔”یعنی بہترین ہونے کے لئے صرف مسلمان ہونا کافی نہیں ہے بلکہ بہترین وہ ہے جس میں اضافی خوبیاں ہوں،متقی بھی ہو اور پرہیزگار بھی۔ ایک اور جگہ فرمایا۔

“اللہ تعالی  ماں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے۔”یعنی جب بندے سے اپنی محبت کی مثال دی تو کسی اضافی خوبی کا ذکر نہیں کیا صرف ایک لفظ “ ماں “ کہا!

ماں ، امی ، بے بے، اماں جی ، بے جی غرضیکہ دنیا میں بے غرض رشتے کا استخارہ ہیں یہ الفاظ۔نثر نگاروں اور شاعروں نے لاکھوں صفحات اور کروڑوں اشعار محبوب کی تعریف ، حُسن ، وفا ، بے رخی ، نخروں اور بے وفائی پر لکھ دئیے اور یہ عمل جاری و ساری ہے۔ کسی کا محبوب مہربان تو کسی کا سنگدل ، کسی کا محبوب چاند کا ٹکڑا تو کسی کا ۔۔ جانے کیا۔ لیکن ہر شاعر، نثر نگار ، مصنف ، لکھاری ، کالم نگار ، فلسفی ، دانشور نے جب بھی “ ماں “ کے بارے میں لکھا تو صرف تعریف ہی لکھی۔ بڑے سے بڑا لکھاری ، دانشور ، پروفیسر ،  سکالر ، شاعر، عالم ، مفتی جب بھی اپنی ماں کے بارے میں کچھ کہتا ہے یا لکھتا ہے تو  تعریفوں اور صفات کے ڈھیر لگا دیتا ہے۔

دنیا کی تمام عورتوں میں جو خوبیاں ہوسکتی ہیں۔ وہ تمام خوبیاں اس مصنف ، شاعر ، فلسفی ، اسکالر، دانشور ، اور لکھاری کی ماں میں بدرجہ  اتم موجود ہوتی ہیں۔جب بھی کسی بہت بڑے یا کسی عام آدمی نے اپنی ماں کے بارے میں کچھ کہا یا لکھا تو اس کی خوبیوں، صلاحیتوں ، کارناموں ، خدمت خلق کے واقعات کے ساتھ ساتھ ، ہمسایوں کے حقوق ، خاندان اور رشتہ داروں سے حسن اخلاق کے سینکڑوں قصے بھی لکھ دیتے ہیں ۔ ماں کی مزید عظمت بیان کرتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ ان کی ماں پانچ وقت کی نمازی ،تہجد گزار ، پرہیزگار بھی تھیں اور صدقہ خیرات کے معاملے میں بھی نہایت سخی تھیں۔

شاید تمام ادیب ، عالم ، پروفیسر ، دانشور ، لکھاری اپنی اپنی ماؤں کی اتنی تعریفیں اس لئے لکھتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کی اہمیت ، مقام اور مرتبہ کو بڑھا سکیں ۔ ایسے تمام قابل لوگوں کو ایک “ ماں “ کا یہ نکما سا بیٹا صرف یہ کہنا چاہتا ہے کہ اے جھلے  دانشورو ں! کبھی ماں کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کرنا، کبھی ماں کے پاؤں کو اپنے ہاتھوں سے سہلانا،جنت تمہیں آنکھوں کے سامنے نظر آجائے گی۔

اوپر بیان کی گئیں تمام خوبیاں محتاج ہیں ایک ماں کے وجود کی۔ ایک ماں کی عظمت ان خوبیوں کی محتاج نہیں ہے۔ ماں تو وہ چشمہ ہے کہ انسانوں میں پائی جانے والی تمام خوبیاں اس چشمہ کی مرہون منت ہیں ۔

رمضان کے اس بابرکت مہینے میں عبادات سے اپنے خالق کو راضی کرلیں اور جن والدین کی بدولت آپ کسی قابل ہوئے ہیں انہیں بھی۔ آسمان و زمین کے شہنشاہ خالق و مالک سے اپنے والدین خصوصاً  اپنی جنت کی درازئ عمر ، صحت و سلامتی کی بھیک ضرور مانگیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *