• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی؟/پروفیسر رفعت مظہر

اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی؟/پروفیسر رفعت مظہر

کسی قوم کی اجتماعی دانش اور شعور کو جانچنا ہو تو اُس کے اہلِ قلم اور اہلِ فکر کا مطالعہ کریں۔ اگر دینی معاملات کی پرکھ مقصوود ہو تو علماء کے رویوں کو مدِنظر رکھیں۔ اگر حب الوطنی کا جذبہ پرکھنا ہو تو اہلِ سیاست کا وتیرہ دیکھیں اور معیارِعدل کے لیے دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی وزیرِاعظم سَرونسٹن چرچل کے یہ الفاظ یاد رکھیں ”اگر برطانیہ میں عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو پھر شکست کا کوئی خطرہ نہیں“۔ ہمارے ہاں مگر اِن میں سے کوئی ایک کَل بھی سیدھی نہیں۔ اِسی لیے نہاں خانہئ دل سے اُبھرتی اِس آواز کو دبایا نہیں جا سکتا کہ ”تَن ہما داغ داغ شُد،، پنبہ کجا کجا نہم“۔
ہماری صحافت میں کثافت کی آمیزش، ہرکسی کا اپنا اپنا قبلہ اور اپنا اپنا کعبہ۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک، صحافی یا قلمکار کانام سُنتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کون کِس کی مدح سرائی میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گا۔ کہہ نہیں سکتے کہ اِس حمام میں سبھی ننگے ہیں لیکن غالب اکثریت ایسے ہی لوگوں کی جو کھنکتے سِکوں کی جھنکار سُن کر زانوئے تلمذ تہہ کر دینے والے۔ بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اہلِ قلم ہی قوم کے اندر معاش ومعاشرت کی بہتری کا جذبہ اُبھار سکتے ہیں لیکن ہمارے اہلِ قلم اپنے اپنے ممدوح کی مدح سرائی میں مگن۔ قوم کے اندر دینی جذبہ اُبھارنے کی ذمہ داری علماء پر لیکن دینِ مبیں کو ضعف پہنچانے والے یہی علمائے سوء، علمائے حق خال خال۔ فروعی مسائل پر بحث وتمحیص اور جھگڑوں نے دین کو فرقوں میں بانٹ کے رکھ دیا۔ فرقانِ حمید میں دین کو فرقوں اور گروہوں میں بانٹنے والوں کی شدید مذمت کی گئی ہے اور متعدد آیات میں افتراق سے منع فرمایا گیا ہے لیکن ہمارے ہاں تو مساجد بھی فرقوں میں تقسیم ہو چکیں۔ ایسے میں ایک عام شخص اُلجھ کر رہ جاتا ہے اور دینِ مبیں کی اصل روح تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔
عدل دین کا حکم اور جمہوریت کا جزوِ لاینفک۔ ہمارے ہاں مگر گزشتہ سات عشروں سے ”جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس“ کا قانون رائج۔ پارلیمنٹ میں آئین سازوں کی غالب اکثریت آئین سے بے بہرہ اوراپنی ذات کے گنبد میں گُم۔ اُنہیں اپنی ذات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ طے کہ تحریکِ انصاف کے ساڑھے تین سالہ دَورِ حکومت میں ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے تک پہنچا دیا گیااور اب بھی حالات دگرگوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنی اداؤں پہ غور کرتے ہوئے چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاتے لیکن ہمارے حکمران اب بھی اِس پر غور کرنے کی بجائے قوم کو ”گھبرانا نہیں“ کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر لاڈلے کا رٹایا ہوا سبق ”گھبرانا نہیں“ ہی اتحادی حکومت کے لبوں پر آگیا ہے تو پھر کیا فرق ہے نئے اور پرانے پاکستان والوں میں؟۔ عرض ہے کہ اگر اب بھی 78 وفاقی وزراء اور 90 ہزار
سرکاری گاڑیوں جیسی عیاشی کی جا سکتی ہے تو پھر قوم کیوں نہ گھبرائے۔ بقول معروف اینکر اور لکھاری جاوید چودھری اِن 90 ہزار وفاقی سرکار کی گاڑیوں پر صرف پٹرول کی مَد میں لگ بھگ220 ارب روپے خرچ آتا ہے۔ اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لیے 78 وزراء کی فوج ظفر موج میں کئی وزراء ایسے جن کے پاس سرے سے کوئی محکمہ ہی نہیں البتہ جھنڈے والی گاڑی اور پروٹوکول موجود۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد زیادہ تر ذمہ داریاں صوبوں کے کندھوں پر، پھر یہ عیاشی کیوں؟۔ ہم وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کی زبانی یہ سُن سُن کر تھک چکے کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں لیکن نہ تو اِس کی تصدیق بین الاقوامی سرویز کرتے ہیں اور نہ ہی اہلِ فکرونظر۔
زندہ قومیں اپنے حقوق وفرائض سے آگاہ بھی ہوتی ہیں اور اُن پر مقدور بھر عمل کرنے کی سعی بھی کرتی ہیں لیکن ہم نے ایسا کوئی روگ نہیں پالا۔ قوم اپنے حقوق سے آگاہ ہے نہ فرائض سے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے بچوں کو سکولوں کی سطح پر ہی آئین سے آگاہی کا درس دیتے تاکہ اُنہیں اپنے حقوق کا علم ہوتا اور فرائض کا بھی لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ منظور تھا، ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے اُن کا حقِ حکمرانی متزلزل ہوتا ہے۔ ہم نے البتہ ایک کام ضرور کیا کہ بچوں کو پٹرول بم بنانا سکھایا، تشدد، نفرت، گالم گلوچ اور انتشار پھیلانے کا سبق ازبر کرایا۔ پولیس پر حملے، فوجی، دفاقی اور سرکاری تنصیبات کو آگ لگانا سکھائی۔ یہی نہیں بلکہ کچے ذہنوں کو یہ یقین دلایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ہاتھ اُن تک نہیں پہنچ سکتے۔ سانحہ 9 مئی کے بعد یہ ثابت بھی ہو گیا کہ ہمارے عدل کے اونچے ایوان اتنے مشفق ومہربان کہ ٹھوس ثبوتوں کے باوجود ضمانت پہ ضمانت۔ یہی نہیں بلکہ اُن مقدمات میں بھی ضمانت جو ابھی منصہئ شہود پر نہیں آئے۔ ہمارے ہاں عدل کا معیار یہ ہے کہ عدالتی فیصلوں کو دیکھ کر ہی میاں نوازشریف نے کہا کہ ہماری عدلیہ 140 ممالک کی فہرست میں 129 ویں نمبر پر ہے اور اُس کی کوشش ہے کہ وہ 140 ویں نمبر پر پہنچ جائے۔ میاں صاحب کا یہ کہنا اِس لحاظ سے بالکل بجا کہ لگ بھگ ایک سال سے عدلیہ کے ایسے فیصلے آرہے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ تاثر اظہر من الشمس کہ آئین وقانون اجازت دے یا نہ دے، لاڈلے کی حمایت کرنی ہی کرنی ہے۔ میاں صاحب کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ اور 10 سال قید آج بھی اہلِ فکر کے لیے ناقابلِ قبول۔ اب تو برطانیہ کی ہائیکورٹ کی جج کا دبنگ فیصلہ بھی سامنے آگیا۔ مسز جسٹس ہیدرولیمز نے اپنے 36 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ نوازلیگ کے رَہنماء ناصر بٹ نے جج ارشد ملک کی ویڈیو بنا کر کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جج ارشد ملک نے اِس ویڈیو میں اعتراف کیا ہے کہ اُنہوں نے نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 10 سال قید سنائی تھی کیونکہ اُنہیں 2018ء کے انتخابات سے قبل ایک ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیا گیا تھا تاکہ نوازشریف اور مریم نواز کو کسی بھی قیمت پر جیل بھیجا جا سکے۔نوازلیگ کے ناصر بٹ نے عدالت کو بتایا ”میں نے سوچا کہ نوازشریف کی بے گناہی کو سامنے لانا اور ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور حکام کے اندر موجود بَدعنوانی کے عدالتی نظام پر اُن کے اثرات کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ جج ارشد ملک کے اعتراف کی ویڈیو بنانا عوام اور انصاف کے مفاد میں تھا۔ میں ناانصافی اور قانونی نظام کی ناکامی کی سب سے بڑی داستانوں میں سے ایک کو بے نقاب کر رہا تھا“۔ برطانوی عدالت کا فیصلہ جہاں میاں نوازشریف کی بے گناہی کا ایک اور ثبوت سامنے لے آیاوہیں ہمارے عدالتی نظام پر بھی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔
نظامِ عدل ہی کے حوالے سے اب شوربپا کہ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں کیوں؟۔ سوال یہ ہے کہ اگر جناح ہاؤس (جو کورکمانڈر لاہور کی رہائش گاہ ہے) کو جلایا جائے گا، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کی جائے گی، جی ایچ کیو راولپنڈی اور گوجرانوالہ کینٹ پر حملہ کیا جائے گا، عسکری ٹاور لاہور کو نذرِآتش کیا جائے گا، میانوالی ایئر بیس پر کھڑے 80 لڑاکا طیاروں کو جلانے کی کوشش کی جائے گی، 1965ء کی جنگ کی یادگار ایم ایم عالم کے جہاز کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنایا جائے گا، لاہور کینٹ میں موجود سی ایس ڈی کو لوٹ لیا جائے گا اور دفاعی تنصیبات پر تاک تاک کر حملے کیے جائیں گے تو پھر ایسے شَرپسندوں پر آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کیوں نہ چلائے جائیں؟۔ اطلاعاََ عرض ہے کہ آرمی ایکٹ آئین کا حصّہ ہے، توڑ پھوڑ اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے سویلینز کو بھی اِس کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔ 2015ء میں اکیسویں آئینی ترمیم میں آرمی ایکٹ کے تحت وطن کے خلاف جنگ کرنے والے، قومی اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے یا پھر دہشت گردی کی فضا پیدا کرنے والے افراد کو بھی آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اِسی لیے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں اِس عزم کا اظہار کیا گیا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں، منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائینڈزکو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور مخالف قوتوں کے ناپاک عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنانے کی راہ میں کسی بھی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ابہام پیدا کرنے کی کوششوں کو آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے گا۔ ہم خود بھی سویلینز پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کے خلاف ہیں لیکن جہاں ٹارگٹ ہی دفاعی تنصیبات ہوں اور ہماری سول عدالتیں شَرپسندوں کو دھڑادھڑ ضمانتیں دے رہی ہوں وہاں سوائے فوجی عدالتوں کے چارہ ہی کیا ہے؟۔

Facebook Comments

پروفیسر رفعت مظہر
" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی بات قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر (کالج سیکشن)میں ملازمت کی آفر ملی تو ہم بے وطن ہو گئے۔ وطن لوٹے تو گورنمنٹ لیکچرار شپ جوائن کر لی۔ میاں بھی ایجوکیشن سے وابستہ تھے ۔ ان کی کبھی کسی پرنسپل سے بنی نہیں ۔ اس لئے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزاری ۔ مری ، کہوٹہ سے پروفیسری کا سفر شروع کیا اور پھر گوجر خان سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ لیکن “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ لایور کے تقریباََ تمام معروف کالجز میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں گزرا۔ درس و تدریس کے ساتھ کالم نویسی کا سلسلہ بھی مختلف اخبارات میں جاری ہے۔ . درس و تدریس تو فرضِ منصبی تھا لیکن لکھنے لکھانے کا جنون ہم نے زمانہ طالب علمی سے ہی پال رکھا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ پرہیز کیا لیکن شادی کے بعد میاں کی گھُٹی میں پڑی سیاست کا کچھ کچھ اثر قبول کرتے ہوئے “روزنامہ انصاف“ میں ریگولر کالم نگاری شروع کی اور آجکل “روزنامہ نئی بات“ میں ریگولر دو کالم “قلم درازیاں“ بروز “بدھ “ اور “اتوار“ چھپتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply