ہر دن خواتین کا عالمی دن/فرزانہ افضل

اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ 8 مارچ 1975 خواتین کا عالمی دن منایا جس کے بعد سے دنیا کے تقریباً  27 ممالک میں یہ دن 8  مارچ کو باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن عورتوں کی کامیابیوں کو منانے،صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا دن ہے۔ گو کہ سال کا  ہر دن خواتین کا دن ہونا چاہیے مگر اس روز خاص طور پر خواتین کی قومی نسلی لسانی ثقافتی معاشی یا سیاسی تقسیم کی پرواہ کیے بغیر ان کی کامیابیوں کا اعتراض کیا جاتا ہے۔ ہر ملک اپنی ثقافت، ماحول اور حالات کے مطابق خواتین کی روزمرہ زندگی میں درپیش مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرکے مثبت تبدیلیوں کو فروغ دیتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر عورتوں کو مشترکہ مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مثلاً خواتین کی ملکی سیاست میں کم نمائندگی اور اقتدار کے عہدوں پر خواتین کی مسلسل کمی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر، عدالتیں، دنیا بھر کی سیاسی قیادت اور دیگر محکموں میں خواتین پاورفل اور سینئر پوزیشنز پر کم ہی دکھائی دیتی ہیں۔ لیڈرشپ کے رول میں بہت کم عورتیں ہیں۔ ہر جگہ مردوں کی اجارہ داری ہے۔ تنخواہ سے لے کر انسانی امداد تک ہر طرح کے امتیازی سلوک کا نشانہ   بنتی ہے۔ خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع بہت کم دیے جاتے ہیں یہ سارے مسائل نہ صرف عورتوں کی ترقی بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں عورت کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کا بھی اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں اس نوعیت کے مسائل شدت سے پائے جاتے ہیں جہاں عورت گھر سے نکلتے ہی غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔ ایک اور بڑا گھمبیر مسئلہ پدرانہ نظام ہے۔ جس کے تحت ہر شعبے میں خواہ وہ سیاست ہو یا بزنس، تعلیمی ادارہ ہو یا کوئی آفس، عورت کو ہر جگہ تعلیم ، صلاحیتوں یا تجربہ سے قطع نظر، مرد کی نسبت کم اہل سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین جو اپنی فیملی کے ہمراہ برطانیہ میں آ کر آباد ہوتے ہیں، انہیں یوکے کے سماجی اور سیاسی نظام کو سمجھنے اور یہاں پر رہن سہن کے طریقہ کار کو اپنانے میں کئی سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ   زبان کی رکاوٹ ہے یعنی انگریزی زبان پر عبور نہ ہونا یا اس کی سمجھ نہ رکھنا۔ اس کے علاوہ جو عورتیں شادی کے ذریعہ سے اس ملک میں آتی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا المیہ ہے ان کے سسرال والے جان بوجھ کر ان کو اجازت نہیں دیتے کہ ان کو یہاں کے سسٹم کی آگاہی حاصل ہو ،تاکہ وہ ملازموں کی طرح ان کے خاندان کی خدمت کرتی رہیں اور انہیں باہر کی ہَوا نہ لگے، یہ بد سلوکی کا ایک رویہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جوان نوجوان خواتین کی ذہنی اور معاشی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے ۔ اگر خدا نخواستہ ان کی ازدواجی تعلقات خراب ہو جائیں تو انہیں مدد کا کوئی راستہ نہیں ملتا کیونکہ ان کو ایک پابند ماحول میں رکھا جاتا ہے بس ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسی خواتین کو قانونی اور جذباتی سپورٹ کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ خواتین کو صحت کے مسائل کے حوالے سے   رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی عورتوں کے پاس جدید دور کی تعلیم نہیں ہے یعنی وہ ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور میں ملازمت کا حصول ایسی خواتین کے لئے مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ برطانیہ میں ہماری مقامی کمیونٹی کی خواتین کو یہاں پر ہر طرح کی سپورٹ اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمیونٹی کی تنظیمیں اور مقامی کونسل کو ان کی تعلیم اور مختلف کورسز سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ جس سے ان کو ملازمت کے حصول میں آسانی ہوگی اور وہ مالی طور پر خود کفیل ہو سکیں گی۔ اور نہ صرف وہ مضبوط اور مفید شہری کی حیثیت سے ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی  بلکہ اپنے بچوں کی تربیت بھی بہتر انداز میں کر سکیں گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply