آرمی پبلک سکول کا نوحہ۔عثمان گُل

16 دسمبر 2014 کو میں مکہ میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا کہ تیز آواز میں لگی خبروں  اور میرے روم میٹ کی ہچکیوں کی آواز نے مجھے جگا دیا۔ آنکھیں      ملتے  ہوئے آٹھ کر روم میٹ سے پوچھا سہ اوشو ( کیا ہوا ؟ ) ۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پایا ۔۔۔ ٹی وی اوگورا ( ٹی وی دیکھو ) ۔۔۔۔ اور میں چندھیائی آنکھوں سے ٹی وی پر وہ سکول خون میں نہایا دیکھ رہا تھا جس کی ایک ایک در و دیوار مجھے آج بھی ایسے یاد ہے جیسے میرا اپنا گھر ۔

سنہرے 8 سال اسکول و کالج کا زمانہ میری زندگی کا وہ قیمتی اثاثہ ہیں جس کی وجہ سے میں جو آج دو لفظ بولنا یا لکھنا جانتا ہوں، وہ انہی   ٹیچرز کی ان تھک محنت کا نتیجہ ہے جو اس دن بےرحمی سے فاسق، فاجر، اور قابل قتل قرار دے کر شہید کر دیے گئے۔

آرمی پبلک اسکول کے بارے میں بہت لکھا جا چکا ہے، کتابیں چھپ چکی، ڈوکیومینٹریز بن چکیں، نغمے گائے جا چکے، لیکن کوئی بھی اس درد کو بیان کرنے سے قاصر ہے جو ان لوگوں سمیت اہل پشاور نے سہا۔میں صرف نیچے دی گئی دو تصاویر کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا۔

پہلی تصویر میں موجود میڈم شہناز نامی کمپیوٹر ٹیچر ۔ جنہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ کمپیوٹر ہوتا کیا ہے جب ہمیں اس ڈبے جیسی  مشین کے پرزوں کے نام بھی معلوم نہ  تھے۔ میں آج بھی ان کا احسان مند ہوں۔جس اسلام کے نام پر حملہ کیا گیا، اسی اسلام میں خواتین، بچے، بوڑھوں کو کچھ نہ  کہنے کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈم شہناز کو آگ لگا کر زندہ جلا کر شہید کر دیا گیا!

دوسری تصویر اس بچی کی ہے جو آرمی پبلک اسکول کے اندر موجود Toddlers academy میں اسی دن داخل ہوئی تھی۔ 5 سال کی خولہ آصف کو ماں نے کس ارمان کے ساتھ نئے کپڑوں، جوتوں، بیگ اور کتابوں کے ساتھ پڑھنے بھیجا تھا۔ لیکن اسلام کے فدائین نے ننھی بچی جو کسی کے چیخنے پر بھی سہم جاتی ہو گی، اس کو گولیوں کے برسٹ مار کر اپنی جنت اور حوروں کے حصول کی راہ ہموار کر لی۔

میں آج 136 شہید بچوں، ٹیچرز اور پرنسپل کی شہادت پر بھی بات نہیں کرتا۔ میں صرف ایک سوال کرتا ہوں ۔ اسلام میں معلم / معلمہ کا مقام کیا اتنا ہی ہے کہ اپنی جنت کے لالچ میں خاتون ٹیچر کو زندہ آگ لگاتے ان مومنوں کے ہاتھ بھی نہ  کانپے؟؟؟ اسے اپنی ماں تک یاد نہ  آئی ؟

آپ صرف ایک لمحے کو تصور کیجیے کہ پھول سی معصوم بچی سہمی ہوئی منتیں کر رہی ہے کہ انکل مجھے مت مارو ۔لیکن پتھر دل ‘حوروں کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہے کہ دل میں رحم کی معمولی سی رمق بھی محسوس نہیں  کی اور اس نے 5 سال کی خولہ آصف کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔ صرف ایک لمحے کا تصور۔۔

مجھے نہیں پتا یہ حملہ را نے کیا یا طالبان نے کیا، مجھے پتا ہے  تو صرف اتنا کہ کلمہ پڑھتے ہوئے  کچھ لوگ آئے۔ میرے شہر کے میرے  سکول کے معصوم بچوں اور اساتذہ کو کافر قرار دیکر اس بیدردی سے مارا کہ آج اگر ہندہ  بھی زندہ ہوتیں تو رو پڑتیں۔ جانور بھی بلا ضرورت شکار نہیں کرتا، جانور بھی شکار کے بچوں کو چھوڑ دیتا ہے، لیکن تم لوگوں نے تو ۔۔

وقت تھا گزر گیا!لیکن اہل پشاور کے دلوں کو جو زخم دے کر گیا ہے وہ آج بھی نہیں بھرا  اور شاید کبھی بھرے گا بھی نہیں!ایک ذات اوپر ہے جو عدالت لگائے گی۔ انصاف کرے گی۔ ہمیں انتظار ہے اس دن کا۔ اہل پشاور تم لوگوں کا عذاب دیکھنا ضرور چاہیں گے کہ جن کے بچے مریں ہیں ان کی مائیں آج بھی نفسیاتی مریضہ بنی پھر رہی ہیں۔

میں اپنا حساب دے کر بھی جنت یا جہنم جانے سے پہلے تم لوگوں کا حساب دیکھ کر جانا چاہوں گا ۔۔۔۔انصاف ہو گا۔

یہاں نہیں تو وہاں!!

Save

Save

Save

Avatar
عثمان گل
پیشے کے لحاظ سے اِنجینیئر۔ معاشرے میں رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے لحاظ سے مثبت تبدیلی کا خواہاں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *