تاریخ بدلی نہیں جا سکتی۔ہارون الرشید

16 دسمبر، یومِ سقوطِ ڈھاکہ، ہماری تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے اور 16 دسمبر 2014 اِس دن کو سیاہ تر کر گیا۔ وہ بدقسمت دن  کہ جس میں 150 کے لگ بھگ معصوم بچے خون میں نہلا دیے گئے، پھول چہرے مسل دیے گئے، کچل دیے گئے اور اس دن کی سیاہی کو مزید گہری کالک میں تبدیل کر گئے۔ ہم، ہمارا میڈیا اور ہمارے ریاستی ادارے کمال بے شرمی اور ڈھٹائی سے کبھی کہتے رہے کہ ‘150 بچوں کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے’ اور کبھی منہ پکا کر کے جھوٹے خراجِ تحسین پیش کرتے رہے کہ ‘ہمارے بچوں نے اپنا آج ملک کے کل پر قربان کر دیا  ہے’۔   کیسی ستم ظریفی ہے کہ جہاں  دانشور   تَھوک کے حساب سے پائے جاتے ہیں وہاں ہم قربانی کے مفہوم سے بھی آشنا نہیں ہیں۔

حیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں۔۔

قربانی تو اپنی مرضی سے اپنے حق سے دستبردار ہونے کا نام ہے، اور قربانی کی معراج یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے حق سے ہی دستبردار ہو جائے اور کسی اعلیٰ مقصد کے لیے اپنی جان قربان  کر دے جیسا کہ فوج کے سپاہی وطن کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے جانیں لُٹا دیتے ہیں، جیسے اعتزاز حسن نے قربانی دی کہ سکول کے باہر ہی خودکش حملہ آور کو دبوچ لیا اور اُس کے ساتھ اپنی جان دے کر سکول کے دیگر سینکڑوں بچوں کی جان بچا لی اور جیسے اے پی ایس کی پرنسپل طاہرہ قاضی  کی قربانی  کہ وہ اپنی جان بچا کر سکول سے نکل سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایک ماں کا کردار نبھاتے ہوئے شہادت قبول کر لی لیکن اپنے بچوں کو تنہا نہ چھوڑا۔ لیکن وہ بچے جن کے ساتھ سانحہ اے پی ایس میں خون کی ہولی کھیلی گئی، ایسا ظلم، ایسی درندگی، ایسی سفاکیت، ایسی بربریت اور قتلِ عام کہ جس کو دیکھ کر شاید فرشتوں نے بھی ایک بار بے بسی سے اللہ کی طرف نگاہ اُٹھائی ہو کہ مالک! ہم نہ کہتے تھے کہ انسان زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا۔

اُن معصوم بچوں نے کون سی قربانی دی؟ وہ بچے تو اپنے بڑوں اور ریاست کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اُن بچوں نے کوئی قربانی نہیں دی،  وہ بچے بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں مارے جانے والے دیگر پچاس ساٹھ ہزار پاکستانیوں کی طرح  ریاست کی ناکام پالیسیوں پر بَلی چڑھائے گئے۔ ریاست کہ جو اپنی غلط اور کنفیوژن سے بھرپور پالیسیوں میں گھری رہی، جس نے کبھی عوام کو اچھے اور برے طالبان کی تمیز میں الجھائے رکھا تو کبھی مذاکرات اور آپریشن کا ڈول ڈالتی رہی، کبھی بیانیہ اور جوابی بیانیہ کھیلتی رہی  تو کبھی ایسی  ہی لاحاصل بحثوں سے وقت حاصل کرتی رہی اور دشمن ہمیشہ کی طرح اپنی کارروائیوں میں کامیاب ہوتا ہوا اے پی ایس میں داخل ہو گیا۔ اُس دن بھی روز کی طرح اُن بچوں کی ماؤں نے انہیں تیار کر کے، یونیفارم پہنا کے اور کندھوں پر بستے لٹکا کے محاذِ جنگ پر قربانی دینے کے لیے نہیں بلکہ اُن کی مادرِ علمی میں علم حاصل کرنے بھیجا تھا لیکن ہم ایسے بے حس نکلے کہ ہم سب نے اُن بچوں کو اُس عینک سے دیکھا جس عینک سے ہم محاذِ جنگ پر جانے والے سپاہیوں اور مجاہدوں کو دیکھتے ہیں۔

لیکن کیا 16 دسمبر کی یہی شناخت ہے؟ آیئے آپ کو یاد دلاؤں کہ 16 دسمبر سانحہ پشاور سے پہلے بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔   گزشتہ دو سال سے 16 دسمبر کے دن ٹی وی چینلز پر ہر طرف سانحہ پشاور ہی چھایا ہوا تھا، اِس سال بھی یقیناً ایسا ہی ہو گا۔  اِس بار بھی گزشتہ دو برسیوں کی طرح آئی ایس پی آر کے بنائے ہوئے گانے اور ترانے ہی پورا دن چینلز پر گونجتے رہیں گے۔  اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ سانحہ پشاور ایک دل دہلا دینے والا سانحہ تھا، ظلم کی ایسی داستان کہ جس کی مثال ملنا بھی مشکل ہے، لیکن میں گزشتہ دو برس سارا دن ٹی وی چینلز پر 16 دسمبر کی ایک اور شناخت بھی ڈھونڈتا رہا لیکن مجھے کسی چینل پر ‘یومِ سقووطِ ڈھاکہ’ پر ایک ٹکر بھی چلتا دکھائی نہ دیا اور اگر کہیں ذکر ہوا بھی تو محض سرسری سا۔ ایسا محسوس ہوا کہ جانتے بوجھتے اِس خبر سے نظریں چرائی جا رہی ہیں۔

سانحے کی پہلی برسی پر سابق وزیرِ اعظم نوازشریف، جن کے ساتھ اب نااہل کا سابقہ بھی جُڑ چکا ہے،  نے مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ ہر سال 16 دسمبر کو “قومی عزمِ تعلیم ڈے” کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا، گویا سقوطِ ڈھاکہ ہماری تاریخ سے حذف اور ہماری یادوں سے محو کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ 150 پھول سے بچوں کا غم اپنی جگہ لیکن ایک ملک کا دولخت ہو جانا کیا کم بڑا سانحہ ہے   جس کو یوں اتنی آسانی سے نظرانداز کیا جا سکے؟ اور ملک بھی وہ جو ایک کلمے اور ایک نظریے کے نام پر حاصل کیا گیا ہو، جس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں ، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بچوں، جوانوں اور بزرگوں کا خون شامل ہو،  اُس ملک کا دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانے کا سانحہ کیا اب اتنی اہمیت بھی نہیں رکھتا کہ اُسے ایئر ٹائم ہی میسر آ سکے؟؟

یوں محسوس ہوتا ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے دن ہی سانحہ پشاور کے رونما ہونے سے ریاستی اداروں کو اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کو چھپانے کا ایک موقع نظر آیا ہے، لیکن ہم اگر 150 بچوں کی شہادت کو نہیں بھلا سکتے اور یقیناً نہیں بھلا سکتے تو ہم سقوطِ ڈھاکہ کو بھی نہیں بھلا سکتے۔ اور جب ہم خود نہیں بھولیں گے تو اپنے ریاستی اداروں کو بھی اِسے بھلانے نہیں دیں گے۔ ہم ریاست، ریاستی اداروں اور سول وملٹری کرتادھرتاؤں کو سانحہ پشاور کی آڑ لے کر سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے ان کی کوتاہیوں کو چھپانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔  مشیر کاظمی نے کہا تھا کہ

پھول لے کر گیا آیا روتا ہوا

بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں

قبرِ اقبال سے آ رہی تھی صدا

یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں

ہم اپنی قیادتوں کو، چاہے وہ سول ہوں یا ملٹری، اُن کو بانیانِ پاکستان کی قبروں سے آنے والی صدائیں سناتے رہیں گے کیونکہ تاریخ کسی کی خواہش پر مرتب نہیں کی جا سکتی، تاریخ نہ بدلی جا سکتی ہے اور نہ بھلائی جا سکتی ہے۔

ہاں ہم سانحہ پشاور کو نہیں بھلا سکتے۔۔۔۔اور ہاں، یقیناً ہم سقوطِ ڈھاکہ کو بھی نہیں بھلا سکتے!!

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *