کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (آخری قسط )

ڈاکٹر قمر تبریز !

گزشتہ دنوں لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو دُجانہ کو کشمیر کے پلوامہ میں مارے جانے کے بعد ٹی وی چینلوں پر ہندوستانی فوج کے ایک میجر کے ساتھ موبائل فون پر ہوئی اس کی آخری بات چیت کو نشر کیا گیا۔ ایک ملی ٹینٹ کی ایک فوجی کے ساتھ دوستی بہت سے رازوں پر سے پردہ اٹھا گئی۔ اپنی اس بات چیت میں دونوں جس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ ادب سے پیش آ رہے ہیں اور بار بار اس بات کو دوہرا رہے ہیں کہ ’یہ سب ایک گیم ہے‘، وہ یہ بتاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کبھی حل نہیں ہوگا۔ نفع بخش ہے کشمیر کا مسئلہ، حل نہیں ہوگا دو سال قبل کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں میری ملاقات ایک کشمیری پنڈت خاتون سے ہوئی تھی۔ ان کا آبائی گھر تو اننت ناگ میں ہی ہے، لیکن اب وہ جموں میں رہتی ہیں ۔ تب وہ امرناتھ یاترا کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جموں سے وہاں آئی ہوئی تھیں اور ناگ ڈنڈی کے ایک بڑے آشرم میں ٹھہری ہوئی تھیں ۔ اس آشرم میں ایک قدیم مندر اور کئی سو ایکڑ میں پھیلے سیب اور دیگر پھلوں کے باغات آج بھی موجود ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک اور کشمیری پنڈت خاتون وہاں موجود تھیں ، جو ملی ٹنسی شروع ہونے کے بعد مہاراشٹر میں جاکر بس گئی ہیں ۔

میں نے جب اپنا تعارف پیش کیا کہ میں ایک صحافی ہوں اور دہلی سے یہاں کچھ دنوں کے لیے آیا ہوں اور ان سے تھوڑی دیر بات کرنا چاہتا ہوں ۔ تو مہاراشٹر والی خاتون نے تو بات کرنے سے منع کردیا، بلکہ وہ ڈر بھی گئیں ، لیکن جموں والی خاتون نے تقریباً تین گھنٹے تک مجھ سے تفصیلی بات کی اور سارے حالات پوری ایمانداری کے ساتھ بتائے۔ مجھ سے بات کرتے کرتے وہ اتنی جذباتی ہو گئیں کہ درمیان میں ہچکیاں لے کر رونے بھی لگیں ۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ملی ٹنسی کے بعد کشمیری پنڈتوں کو کیسے لکڑی چیرنے والی مشین سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے باوجود، انھوں نے یہ بات مانی کہ کشمیر کے مسلمان دل سے اچھے ہیں اور کسی کے بہکاوے میں یہ ساری حرکتیں کر رہے ہیں ۔ وہ موجودہ مودی حکومت سے کافی ناراض تھیں کہ کشمیری پنڈتوں کو واپس وادی بھیجنے کی اسکیم بنائی تو گئی ہے، لیکن شرط یہ رکھی گئی ہے کہ وہ کشمیری پنڈتوں کے لیے الگ سے بنائی گئی بستیوں میں رہیں گے تبھی انھیں سرکاری سہولیات اور پیسے وغیرہ دیے جائیں گے۔

ان کا ماننا تھا کہ اس سے تو وہ آسانی سے ملی ٹینٹوں کے شکار ہوتے رہیں گے، کیوں کہ فوج کب تک ان کی حفاظت کرے گی۔ کشمیری پنڈتوں کے اپنے پرانے آبائی گھر اب بھی موجود ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سرکار انھیں ان کے گھروں میں اور ملی جلی آبادی میں بسانے کی اسکیم بنائے، نہ کہ ان کے لیے الگ بستی بنائے۔ جموں میں انھیں مرکزی حکومت کے ذریعے مختص کیے گئے پیسے اور دیگر سہولیات دینے سے منع کیا جا رہا ہے۔ اس سے ایک بڑا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت نہیں چاہتی کہ کشمیری پنڈت اپنے گھروں کو واپس جائیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ وہ پورے ملک میں جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلاتی ہیں کہ کشمیری مسلمانوں نے پنڈتوں کو وادی سے مار کر بھگا دیا۔ حالانکہ، سچائی یہ ہے کہ آج بھی پورے کشمیر میں پنڈتوں کے جتنے بھی گھر ہیں ، ان کو کسی مسلمان نے نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ زیادہ دنوں تک ان مکانوں کے خالی رہنے اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ خستہ ضرور ہوگئے ہیں ، لیکن اپنی جگہ پر اب بھی کھڑے ہیں ۔ وہی حال مندروں کا بھی ہے۔ ملی ٹینٹوں کی طرف سے بھی ہمیشہ کشمیری پنڈتوں کو یہی پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ پہلے کی ہی طرح کشمیر کو اپنا گھر سمجھیں اور پوری آزادی کے ساتھ یہاں گھومیں پھریں ۔

بلکہ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ اگر کسی کشمیری پنڈت کو کسی مسلمان کی طرف سے پریشان کرنے کی خبر ملی ٹینٹوں کو ملتی ہے، تو وہ اس مسلم فیملی کو فوراً ڈرانا دھمکانا شروع کر دیتے ہیں ۔ دوسری طرف کشمیری مسلمانوں کا یہ الز ام ہے کہ سابق گورنر جگ موہن نے پنڈتوں کو کشمیر سے باہر اس لیے نکالا، تاکہ مسلمانوں کو الگ کرکے مارا جا سکے۔ اسی طرح ہمیں پورے ملک میں یہ نعرہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’دودھ مانگو کھیر دیں گے، کشمیر مانگو چیر دیں گے‘‘۔ گویا کشمیر کا مسئلہ اپنی دیش بھکتی کو جگانے کا بھی ایک بڑا ہتھیار ہے۔ یہ کچھ پارٹیوں کو سوٹ بھی کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں امرناتھ یاتریوں کی ایک بس پر اننت ناگ میں حملہ ہوا۔ ہم کو یہی بتایا گیا کہ حملہ ملی ٹینٹوں نے کیا تھا، لیکن آج تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے، جب کہ اس قسم کے ہر حملے کے بعد وہ ذمہ داری لینے میں پہل کرتے ہیں ۔ اسی طرح فوجی میجر کی لشکر کمانڈر ابودجانہ سے انکاؤنٹر میں اس کی موت سے قبل کی جو بات چیت ہم نے ٹی وی چینلوں پر سنی، اس میں جب میجر نے اس سے کہا کہ وہ سرنڈر کر دے، کیوں کہ اس کی بیوی اس کا انتظار کر رہی ہے، تو ابودجانہ نے کہا کہ ’میری کوئی بیوی نہیں ہے اور یہ سب جھوٹا پروپیگنڈہ ہے‘۔ پھر کیوں ابو دجانہ کے مرنے کے فوراً بعد ٹی وی چینلوں پر یہ خبر بار بار دکھائی گئی کہ وہ عیاش تھا اور کشمیری لڑکیوں پر بری نظر رکھتا تھا؟

اس قسم کے کئی سوالات ہیں ، جن کا جواب میں جانتے ہوئے بھی شاید نہ دے پاؤں ۔ دوسری طرف، پاکستان میں بھی وہاں کی سیاسی پارٹیوں کی جیت اور ہار میں مسئلہ کشمیر ایک بڑا رول ادا کرتا ہے۔ وہاں بھی کشمیر، پاکستانیوں کی حب الوطنی کو ثابت کرنے کا ایک بڑا ہتھیار ہے اور اسے ووٹ حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے، جب دونوں ہی ممالک کی سیاسی پارٹیوں کو اقتدار تک پہنچنے میں مسئلہ کشمیر ایک بڑا رول ادا کرتا ہے، تو پھر یہ پارٹیاں اقتدار میں آنے کے بعد اس مسئلہ کو بھلا کیسے حل کریں گی؟ یہ بات کشمیریوں کو سمجھانے والا کوئی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کا ہی ہوا ہے۔ میں نے جتنے بھی کشمیریوں سے بات کی، سب نے یہی کہا کہ بندوق کی نوک پر ملی ٹینٹ ان کے گھروں میں گھس جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے، جب کوئی آدمی آپ کے سر پر بندوق تان کر کھڑا ہو جائے، تو آپ کو وہی کرنا پڑے گا جو وہ کہے گا۔ پھر اس کے بعد اگر ہندوستانی فوجیوں کو پتہ چل گیا کہ فلاں گھر میں کسی نے کسی ملی ٹینٹ کو پناہ دی ہے، تو پھر ان کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بلکہ، انکاؤنٹر کے بعد ان کشمیریوں کے گھر تک جلا دیے جاتے ہیں ۔ تو نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ کشمیری دونوں طرف سے مارے جا رہے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ پچھلے دو سالوں سے پورے کشمیر میں پاکستان کی اس قدر حمایت کیوں ہونے لگی ہے؟ اس کی وجہ ہے ہندوستان کی موجودہ حکومت کے ذریعے کشمیریوں کو اکیلا چھوڑ دینا۔ منموہن حکومت کے دوران ڈی ڈی کاشر (دوردرشن کا کشمیری چینل) پر پاکستان کے خلاف بہت سے پروگرام چلتے تھے۔ مثال کے طور پر پی ٹی وی کا جھوٹ، سرحد کے دو رخ، کشمیر نامہ وغیرہ وغیرہ۔ اب اردو سے دشمنی ہونے کی وجہ سے مودی حکومت نے دوردرشن کے اردو کے زیادہ تر پروگرام بند کر دیے ہیں ۔ ظاہر ہے، اب کشمیر میں زیادہ تر چینل پاکستان کے ہیں ، جو وہاں سے قریب ہونے کی وجہ سے آسانی سے ہر گھر میں دستیاب ہیں ۔ حالانکہ، کچھ دنوں پہلے ان چینلوں پر پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن اس کا بہت زیادہ زمینی اثر نہیں ہوا۔ ڈِش انٹینا پر سارے پاکستانی چینل آتے ہیں ۔ پاکستان سے درجنوں ایسے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ، جن میں کشمیر کا ذکر ہوتا ہے، سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کو کشمیری عوام پر ظلم و بربریت کا سلسلہ قرار دیا جاتا ہے اور اس قسم کے سینکڑوں پروپیگنڈے پھیلائے جاتے ہیں ۔ ان سب کا اثر کشمیری عوام پر ہوتا ہے اور وہ اس سے متاثر بھی ہو رہے ہیں ۔

انھیں لگ رہا ہے کہ دنیا میں اکیلا پاکستان ہی ہے، جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی چاہتی تو ایسا کر سکتی تھی، لیکن مودی حکومت کی پالیسی نے کشمیریوں کو ہم سے دور کر دیا ہے۔ اب تو خود وزیر اعظم مودی بھی دیوالی یا عید منانے کشمیر نہیں جا رہے ہیں ۔ دوسری بات، منموہن سنگھ کے دور میں مرکزی حکومت نے کشمیر کے تعلق سے ایک نئی پالیسی بنائی۔ اس نے ملک کے تقریباً تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازے کشمیریوں کے لیے کھول دیے۔ یو پی ایس سی کے امتحان میں فیصل شاہ کو ٹاپ کراکر یہ پیغام دیا کہ ہندوستانی انتظامیہ میں اب کشمیریوں کو بھی بڑے عہدے تفویض کیے جائیں گے۔ لیکن، مودی حکومت کے شروع ہوتے ہی ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں پر حملے ہونے لگے۔ انھیں دوسری ریاستوں کو چھوڑنے کا حکم جاری کیا جانے لگا۔ ظاہر، ایسے بچے جب اپنا مستقبل لٹاکر واپس کشمیر پہنچیں گے، تو ان کے اندر انتقام کا جذبہ نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔

کشمیر میں پتھر چلاکر وہ اپنے اسی غصے کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اگر مرکزی حکومت ملک بھر میں ان کی سلامتی اور تحفظ کا پختہ انتظام کرے، تو وہ بھی ہندوستان کو اپنا ملک سمجھنے لگیں گے اور فوجیوں پر پتھر بازی چھوڑ کر ملک کی تعمیر میں ہاتھ بٹائیں گے۔ ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں ۔ کشمیر میں جب بھی سبسڈی ریٹ پر راشن بانٹے جاتے ہیں ، تو یہی کشمیری دوڑتے ہوئے وہاں پہنچتے ہیں ۔ اگر وہ چاہتے تو ہندوستان کے ذریعے بھیجے گئے راشن کو لینے سے منع کر سکتے تھے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ اس کا تو یہی مطلب ہے کہ ہندوستانی حکومت اگر عام کشمیریوں کے روزمرہ کے مسائل کو حل کرنے میں تھوڑی بھی سنجیدگی دکھائے، تو کشمیر میں پاکستان کا نام لینے والا کوئی بھی نہیں بچے گا۔ لیکن، نہ تو ریاستی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت ایسا کوئی قدم اٹھا رہی ہے، کیوں کہ انھیں کشمیر کا مسئلہ برقرار رکھنا ہے، تاکہ انھیں ووٹ ملتا رہے اور وہ کشمیری عوام کو بیوقوف بناتے رہیں ۔

پانچویں قسط کا لنک۔
https://mukaalma.com/article/guestarticle/4374

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *