پون صدی کی کہانی ۔۔آغر ندیم سحرؔ

تقسیمِ ہند وستان اور تشکیلِ پاکستان کو ۷۵ برس بیت گئے‘یہ ۷۵ برس کا سفر کٹھن بھی تھا اور حیران کن بھی۔کٹھن اس لیے کہ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے لیے ایک جنگ لڑنا پڑی‘معاشی بھی اور ثقافتی بھی۔ہم اس جنگ میں کس قدر کامیاب ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے مگر اس جنگ سے ہم نے کیا سیکھا‘یہ سوچنے کی بات ہے۔یہ سفر حیران کن اس لیے ہے کہ ۷۵ سالہ سفر میںنہ ہمارے مسائل بدلے اور نہ ہمارے دشمن۔تقسیم سے لے کر آج تک‘۷۵ برسوں پر نظر دوڑائیں تو ہم آگے بڑھنے کی بجائے مزید پیچھے کی جانب سفر کرتے رہے۔عظیم قومیں آزاد ہوتے ہی مستقبل کا سوچتی ہیں‘آنے والی نسلوں کا سوچتی ہیں مگر ہم آزادی کے بعد بھی وہیں کھڑے ہیں‘جہاں آزادی سے قبل تھے۔دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور اس کے نقصانات سے ہم نے کیا سیکھا؟شاید کچھ بھی نہیں۔آپ یہ باتیں پڑھ کر یقینا سوچتے ہوں گے کہ راقم کس قدر مایوس ہے‘حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کی تشکیل سے ہماری دنیا بدل جانی چاہیے تھی‘ہمیں مفاد‘خود غرضی اور لالچ سے باہر آ کر اپنے پرکھوں کی قربانیوں کے بارے سوچنا چاہیے تھا‘ہمیں جس غلامی سے باہر نکالا گیا تھا‘ہمیں اس غلامی سے نفرت کرنی چاہیے تھے مگر ایسانہیںہوا۔ہم قیامِ پاکستان کے بعدبھی اگلی نسلوں کا سوچنے کی بجائے اقتدار کی بھوک میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے رہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوگیا‘اس سانحے سے ہم نے کیا سیکھا؟شاید کچھ بھی نہیں۔ سیاسی حوالے سے ہم گزشتہ ۷۵ برسوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں مفاد اور اقتدار کی ہوس کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا‘ہمارے سیاست دانوں نے نہ دشمنوں سے کچھ سیکھا اور نہ ہی کسی قومی سانحے اور مارشل لاء سے۔ہم مسلسل تنزلی کی جانب محوِ سفر رہے‘اس پر بدقسمتی یہ کہ ہم نے جس بھی مسیحا پر بھروسہ کیا‘وہی ہمیں زہر کے انجکشن لگاتا رہا‘ہماری ٹیکسوں سے پلنے والے ہماری کمر میں چھرا گھونپتے رہے اور ہم چپ چاپ تماشا دیکھتے رہے۔ سیاست دان اپنی باریاں لیتے رہے اور بیوروکریسی اپنے نوکری کے دن پورے کرتی رہی‘ہم نے جس جس کو اپنا کہا‘ وہی لٹیرا نکلا۔ ہمارے تمام شعبہ جات میں ایک سا حال رہا‘سیاست تھی یا تعلیم‘مذہب تھا یا ادب،ہم ایک مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دینے کی بجائے ایک متشدد اور متکبر نسل تیار کرتے رہے‘سیاست دانوں سے تو خیر گلہ بنتا ہی نہیں‘انھیں ہمارے مستقبل اور اگلی نسلوں سے کیا مطلب،وہ تو پانچ سال پورے کرنے‘ اگلا الیکشن پکا کرنے اور اپنی اولادوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانے آتے ہیں۔۷۵ برسوں میں ہمارے سیاست دان یہ تک نہیں سمجھ سکے کہ اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں سے کیسے نمٹا ہے‘۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تما م سیاست دان ایک پولیٹیکل چارٹر سائن کرتے اور ہمیشہ کے لیے ایک قانون بن جاتا کہ انھیں کیسے چلنا ہے اور اداروں کی حدود کا تعین ہو جاتا‘اگر ایسا ہو جاتا تو یقینا حالات بہت مختلف ہوتے مگر یہ بھی سچ ہے کہ سیاست دان صرف مہرہ رہے‘اس وطنِ عزیز میں جمہوریت کے نام پر حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر جمہوریت کبھی نہیں آئی۔ تعلیمی میدان میں ہم نے ۷۵ برسوں میں کیا کیا؟ہمارے تعلیمی اداروں اور مدارس نے صرف ایک متشدد اور متعصب نسل تیارکی‘اداروں سے فارغ التحصیل طلباء نے کوئی نیا کارنامہ سرانجام دیا اور نہ ہی کوئی نئی تحقیق سامنے لائے‘منوں کے حساب سے لکھے جانے والے تحقیقی مقالات بھوسے کے سوا کچھ نہیں۔روشن خیالی کے داعی لنڈے کے لبرلز پیدا کرتے رہے‘کبھی حقوقِ نسواں کی بتی جلائی اور کبھی حقوقِ مرداں لہٰذا’یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا‘۔قلم کاروں نے بھی قلم کی حرمت کا پاس رکھنے کی بجائے ایوانوں سے اپنے تعلقات مضوط کیے‘حق کی بات کرنے کی بجائے اپنی تحاریر میں ظالموں اور جاگیرداروں کا دفاع کرتے رہے۔ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہمارا ۷۵ برس کا سفر ترقی کی جانب کم اور تنزلی کی جانب زیادہ رہا۔آپ کسی بھی شعبے کو اٹھا کر دیکھ لیں‘ایک تکلیف دہ کہانی ہے۔ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے کہاں پہنچ گئے اور ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اداروں اور سیاست دانوں کو کیسے چلنا چاہیے‘ہم آج تک اپنے کسی شعبے میں کوئی قابل قدر کام نہیں کر سکے‘ہم آج تک قانون توڑنے والوں کو سزا نہیں دے سکے اور ہم آج تک غداروں کا تعین نہیں کر سکے۔ہمیں عجیب الجھن کا شکار کر دیا گیا ہے‘رات کو جنھیں غدار کہا جاتا ہے،آنکھ کھلتے وہ برسرا اقتدار ہوتے ہیں‘رات ہم جنھیں محب وطن مان کر سوتے ہیں‘علی الصبح غدار قرار دے دیے جاتے ہیں، پچھلے ۷۵ برسوں میں کیا تبدیلی آئی‘کیلنڈر بدلتے رہے ‘ ہم نہ بدل سکے۔ دوستو!کبھی وقت ملے تو ضرور سوچیے گا کہ ہم اپنی اگلی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟صرف اور صرف مایوسی اور غلامی۔آج سے ۷۵ برس قبل ہمارے بزرگوں نے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی‘اپنا سب کچھ اس ہجرت میں گنوا دیا ‘لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے مگر کسی کو دکھ نہیں تھا‘کوئی مایوس نہیں تھا ۔کیوںکہ ہمارے آبائو اجداد یہی سوچ کر سرحد پار کر آئے تھے کہ جس ملک میں جا رہے ہیں‘وہاں کم سے کم ہماری نسلیں تومحفوظ ہوں گی‘ہم آزادی سے سانس لے سکیں گے اور سب سے اہم بات کہ ہمارے فیصلے ہمارے اپنے اختیار میںہوں گے۔کون جانتا تھا کہ ۷۵ برس گزرنے کے بعد بھی ہم دوسروں کے اشاروں پہ ناچ رہے ہوں گے،کل برطانوی سامراج مسلط تھا اور آج امریکی سامراج‘کیا بدلائو آیا؟یہ ۷۵ برس کا سفر ندامت اور اذیت کے سوا کچھ نہیں۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply