ملکی سیاست خطرناک موڑ پر۔۔پروفیسر رفعت مظہر

آج پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ اِن انتخابات کے نتائج فیصلہ کریں گے کہ اتحادی حکومت اگست 23ء تک برقرار رہتی ہے یا اِسی سال عام انتخابات کا ڈول ڈالا جائے گا۔ اگر موجودہ ضمنی انتخابات کے نتیجے میں پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت قائم نہیں رہتی تو مرکز کی حکومت نئے انتخابات کی طرف چل نکلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ نوازلیگ اور تحریکِ انصاف اپنا پورا زور صرف کر رہی ہے۔ ایک طرف “شیرنی” دھاڑ رہی ہے تو دوسری طرف عمران خاں اپنے پیروکاروں کو مارو یا مَرجاؤ کا درس دے رہا ہے۔

سیاست ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ لاہور اور ملتان میں فوج طلب کی جا چکی ہے اور باقی حلقوں کو بھی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر نوبت اِسی سال عام انتخابات تک پہنچی تو لکھ کے رکھ لیجئیے کہ یہ ملک کی تباہی کا سبب ہوگا کیونکہ جونہی عام انتخابات کا اعلان ہوا، آئی ایم ایف سمیت پاکستان کی مدد کو بڑھنے والے تمام ہاتھ کھینچ لیے جائیں گے اور قومی خزانے میں اتنی سکت ہرگز نہیں کہ وہ اگلے تین چار ماہ کا بوجھ بھی برداشت کر سکے۔ آمدہ اطلاعات، تجزیوں تبصروں اور ذاتی معلومات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ نوازلیگ 14/15 سیٹیں جیت جائے گی جبکہ حمزہ شہباز کی حکومت برقرار رہنے کے لیے 10 سیٹوں کی ضرورت ہے لیکن یہاں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی وطن کے باسی باہم دست وگریباں کیوں ہیں؟ وہ بھی ایک دَور تھا جب ہمارے ہاں مولانا مودودیؒ جیسے مصلح اور نواب زادہ نصراللہ خاں جیسے ادب شناس محبِ وطن سیاستدان موجود تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی زبان کی شُستگی اور شائستگی سے قوم لطف انداز ہوتی تھی۔ جلسے جلوس اُس وقت بھی ہوتے تھے اور ریلیاں بھی نکلتی تھیں لیکن اِن میں شائستگی ہمیشہ برقرار رہتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ سیاست میں کثافت کی آمیزش ہونے لگی اور زبان کی لوچ اور مٹھاس کی جگہ تلخیوں نے لے لی۔

یہاں تک تو شاید پھر بھی قابلِ قبول ہوتا لیکن یہ سفر یہیں رُکا نہیں بلکہ اِس میں بتدریج خودپسندی، خودپرستی، طعنہ زنی اور اناپرستی شامل ہوتی گئی۔ پھر 2011ء کی آخری سہ ماہی میں ایک طوفان اُٹھا جو اخلاقیات کے سارے دَر توڑ کر باہر نکل آیا اور پارلیمانی زبان قصۂ پارینہ بنی۔ نام اِس طوفان کا “سونامی” جس نے قوم کو گالی گلوچ، اکڑپن اور ذومعنی جملوں کارواج دیا۔ اِس سونامی نے دید، لحاظ اورشرم کی ساری حدیں توڑ دیں لیکن دُکھ تو یہ کہ یہ سب کچھ ایک ایسے شخص کی دَین تھی جسے اپنی سونامی پر فخر تھا۔ نام اُس کا عمران خاں۔ اُس کے نقشِ قدم پر حواری بھی چل نکلے اور “تمیزداروں کے گُرو” شہبازگِل کو بھی کہنا پڑا “یا تو خاں کا بھرپور دفاع ہو سکتا ہے یا پھر میرا پروفیسر

تہذیب یافتہ والا امیج رہ سکتا ہے”۔ گویا خاں کے دفاع کے لیے بدتمیزی، بَدتہذیبی، طعنہ زنی اور دوسروں کی عزتیں اُچھالنا ضروری۔ ایک شہبازگِل ہی کیا تحریکِ انصاف میں تو ایسے لوگ قطار اندر قطار موجود ہیں کیونکہ جو جتنا زیادہ بَدتہذیب اُتنا ہی شاہ کو مرغوب ومطلوب۔

نسلِ نَو کی نَس نَس میں غلاظتوں کا زہر بھرنے والے دنیاوی جاہ وحشم گزیدہ “مہاتما” کا فرمان کہ اللہ نیکی کا ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے اور میں نیکی کا نمائندہ ہوں۔ اِسی لیے وہ امربالمعروف کی بات کرتا ہے اور اپنے آپ کو نیکی کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اُس نے یہ کلمۂ کفر بھی کہہ دیا “قبر میں آپ سے فرشتے پوچھیں گے کہ تم لوگوں نے عمران خاں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟”۔

ہم عالمِ دین نہیں کہ کوئی فتویٰ صادر کریں لیکن یہ یقین کہ رَبِ لَم یَزل روزِقیامت عمران خاں سے یہ سوال ضرور کریں گے “تم نے کچّے ذہنوں کو کیوں گمراہ کیا؟”۔ اپنے آپ کو نیکی کی علامت بنا کر پیش کرنے والے سے یہ سوال ہے کہ آخر اُس نے نیکی کا ایسا کون سا کام کیا ہے جو اُس کی ستائش کی جا سکے۔ اُس کے ماضی سے قطعِ نظر کیا اُس کا حال اُس کی امانت، دیانت، شرافت اور صداقت کی گواہی دیتا ہے؟ کیا اُس نے اپنے دَورِحکومت میں ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے لیے ایک قدم بھی بڑھایا؟ کیا دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنے والے کے پاس کوئی ایک ثبوت بھی موجود ہے؟ کیا مخالفین کو بُرے القاب سے نوازنے والا دینِ مبیں کا سچا پیروکار ہو سکتا ہے؟ جبکہ دین میں بُرے القاب دینے پر سختی سے منع کیا گیا ہو۔

کیا جھوٹے وعدے کرنے والا صادق وامین ہو سکتا ہے؟ کیا یوٹرن لینے والا امربالمعروف کے معیار پر پورا اُتر سکتا ہے؟ ابھی تو اُس بزعمِ خویش نیکی کی علامت کے بارے میں بہت کچھ کہنا باقی ہے۔ ابھی توشہ خانہ، پنکی پیرنی، فرح گوگی، ابراہیم مانیکااور بلین ٹری منصوبے کا حساب باقی ہے۔ ابھی مظلوم طیبہ گُل کو 45 دنوں تک وزیرِاعظم ہاؤس میں حبسِ بے جا میں رکھنے کی جواب دہی بھی ہوگی۔ یہ فہرست بہت طویل ہے اِس لیے اِسے یہیں چھوڑتے ہوئے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی طرف بڑھتے ہیں جس میں عمران خاں کے جھوٹے بیانیے کی ساری عمارت منہدم کر دی۔

14 جولائی کوچیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رُکنی بنچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے رولنگ کی بنیاد پر عمران خاں کا اسمبلی توڑنے کا فیصلہ بھی غیرآئینی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ غیرملکی مداخلت ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ کسی کمشن کی تشکیل کے لیے کچھ بنیادی لوازمات ہوتے ہیں جو مراسلے والے معاملے میں پورے نہیں۔ مداخلت کی بات پر عدالت مطمٔن نہیں۔

تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا “ہمارے سامنے غیرملکی سفارت کار کے خط کا متن رکھا ہی نہیں گیا”۔ اِس پر حامد میر نے سوال اُٹھایا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کو متن دکھایا ہی نہیں گیا تو پھر عمران خاں نے کون سا خط سپریم کورٹ کو بھیجا؟ قوم کو دھوکا کِس نے دیا؟ حقیقت یہی کہ سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے کے پیرا 29 سے 38 تک میں سازشی بیانیے کو اُٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیا لیکن حیرت یہ کہ عمران خاں یہ فیصلہ آنے کے بعد بھی سازشی بیانیے کو سینے سے لگائے پھر رہے ہیں۔

اِس تفصیلی فیصلے میں جسٹس جمال خاں اور جسٹس مظہر عالم کے اضافی نوٹ بھی شامل ہیں۔ جسٹس جمال خاں نے لکھا “کسی شخص کی خواہش پر عام انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ پارلیمنٹ اجتماعی فیصلہ کرے کہ عام انتخابات کب کرانے ہیں۔ ملک میں جلد عام انتخابات کرانے کا مطالبہ نظریۂ ضرورت کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ عام انتخابات صرف اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر ہی کرائے جا سکتے ہیں”۔

جسٹس مظہر عالم صاحب نے اپنے اضافی نوٹ میں صدر عارف علوی، سابق وزیرِاعظم عمران خاں، سابق سپیکر اسد قیصر، سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور سابق وزیرِقانون فواد چودھری کے اقدامات کو آئین سے سرکشی قرار دیتے ہوئے لکھا “اِن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون کو اپنا راستہ خود بنانا چاہیے تاہم اِن افراد پر غداری کا مقدمہ چلانے کا اختیار پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں۔ پارلیمنٹ چاہے تو غداری کا مقدمہ چلا سکتی ہے۔ پارلیمنٹیرینز فیصلہ کریں کہ آرٹیکل 6 پر عمل کرا کے مستقبل میں ایسی صورتِ حال کے لیے دروازہ کھلا چھوڑنا ہے یا بند کرنا ہے؟”۔

Advertisements
julia rana solicitors london

معزز سپریم کورٹ کے 5 رُکنی بنچ کے اِس فیصلے کے بعد بھی کیا اِن افراد پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی نہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے؟ شنید ہے کہ اِس تفصیلی فیصلے پر پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو آرٹیکل 6 کے معاملات کو دیکھے گی۔ اِس کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ کر رہے ہیں جنہوں نے فیصلہ آنے پر پریس کانفرنس میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اِن لوگوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ وزیرِداخلہ رانا ثناء اللہ تو پہلے ہیں تلوار سونت کر باہر نکلے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ حکم کرے، وہ آج ہی عمران خاں کو گرفتار کر لیں گے۔ مریم نواز کی دھاڑ بھی یہی کہ اِنہیں نشانِ عبرت بنایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اتنی لمبی چوڑی تگ ودَو کی کیا ضرورت ہے عمران خاں کے لیے تو طیبہ گُل حبسِ بے جاکیس ہی کافی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

پروفیسر رفعت مظہر
" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی بات قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر (کالج سیکشن)میں ملازمت کی آفر ملی تو ہم بے وطن ہو گئے۔ وطن لوٹے تو گورنمنٹ لیکچرار شپ جوائن کر لی۔ میاں بھی ایجوکیشن سے وابستہ تھے ۔ ان کی کبھی کسی پرنسپل سے بنی نہیں ۔ اس لئے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزاری ۔ مری ، کہوٹہ سے پروفیسری کا سفر شروع کیا اور پھر گوجر خان سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ لیکن “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ لایور کے تقریباََ تمام معروف کالجز میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں گزرا۔ درس و تدریس کے ساتھ کالم نویسی کا سلسلہ بھی مختلف اخبارات میں جاری ہے۔ . درس و تدریس تو فرضِ منصبی تھا لیکن لکھنے لکھانے کا جنون ہم نے زمانہ طالب علمی سے ہی پال رکھا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ پرہیز کیا لیکن شادی کے بعد میاں کی گھُٹی میں پڑی سیاست کا کچھ کچھ اثر قبول کرتے ہوئے “روزنامہ انصاف“ میں ریگولر کالم نگاری شروع کی اور آجکل “روزنامہ نئی بات“ میں ریگولر دو کالم “قلم درازیاں“ بروز “بدھ “ اور “اتوار“ چھپتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply