جو کہہ نہ سکے ،وہی”ان کہی”۔رفعت علوی/آخری قسط

 میری بڑی لڑکی ابھی ابھی میرے آنسو پونچھ کے، میری طرف سے مطمئن ہو کر اپنے گھر گئی تھی کہ کھانے پکانے والا ٹھیک آدمی ہے؟ گھر کی صفائی اور برتن دھونے والا روزانہ آکر گھر بھر کی صفائی کرے گا؟ ابو کے کپڑے استری ہو کر لانڈری سےآگئے ہیں؟ جب وہ ہر طرح مطمئن ہو گئی تو     مجھے تسلی دلاسہ دے کر کہہ گئی تھی کہ میں پریشان نہ ہوں وہ کل پھر آئے گی اب میں اکیلا تھا، سناٹے سے اور اپنے آپ سے باتیں کرنے کے لئے، مجھے  سمجھ نہیں  آرہا تھا رات تک میں اکیلا کیا کروں، بیٹے کو اپنے آفس سے آج بھی لیٹ آنا تھا، باہر اداس شام دھیرے دھیرے میرے بیڈ روم کی کھڑکی سے نیچے اترچکی تھی، آج بھی دور کہیں ایک پرندہ کوک رہا تھا مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ “کیا ہوا، کہاں ہو، کیا ہوا”کی تکرار کر رہا ہو۔۔

کچھ سمجھ نہ آیا تو جاء نماز بچھا کر نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا، نماز ہی میں خیال آیا کہ  مرحومہ کے کپڑے نکال کر چیریٹی کو دے دوں، الماری کے بجائے اسٹور میں رکھے ٹرنک کو کھولا، ریشمی اور سوتی کپڑوں کے ساتھ ونتھلین کی مانوس خوشبو آئی، ساریاں، جمپر، شلوار اور دوپٹے نکال کر ایک طرف رکھ رہا تھا کہ ہاتھ میں ایک کامدانی بھرا دوپٹہ آیا، میں نے اسے روشنی کی طرف کر کے غور سے دیکھا، ہرا دوپٹہ۔۔۔ جس کے ستارے وقت کی گرد سے سیاہ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔دل اچھل کر حلق میں آ    گیا’ سارہ باجی!!!

آج پھر کس نے پکارا مجھ کو، آج پھر تیری یاد چلی آئی دبے پاؤں، بک شیلف میں لگی کتابوں نے میری طرف دیکھ کے سرگوشی کی “دیکھو رفعت وہ دوپٹہ ضائع کردینا”۔۔۔ پیڈل اسٹینڈ کی ہوا میں دوپٹہ میرے ہاتھ میں پھڑ پھڑانے لگا نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ “تم کیا کرو گے اس کا” ماضی کے جھروکوں سے سارہ  باجی کی آواز سی آئی ‘میں نے بیچارگی سے ادھر ادھر دیکھا

“میرے اچھے منا ‘مجھے گھر تک پہنچا دو”۔۔ دروازے کے ایک پٹ نے چپکے سے کہا، باہر سڑک پہ کوئی ایمبولینس سائرن بجاتی گزر گئی۔ خوشبو کے لئے جلائی ہوئی کینڈل کا شعلہ آنکھ جھپکنے لگا، تم کیا کرو گے اس کا؟؟

“میرے پاس رہے گا بس”

زندگی اے زندگی!!!

یہ بےبسی کیوں ہے، ہر جگہ اس کی یاد ہی کیوں ہے، پہلی چاہت ہی آخری کیوں ہے، میں دل گرفتہ دوپٹہ ہاتھ میں پکڑے اپنے کمرے میں آیا تو بیوی کی تصویر پہ نظر پڑی ، مجھےلگا وہ پیار سے مسکرائی ہو، اور پھر جیسے وہ ہمیشہ کی طرح مشکل وقت میں مجھے تسلی دیتے  ہوئے کہہ رہی ہو کیا ہوا جو سفر رائیگاں گیا، متاع دل تو سلامت رہی نا، میرا تو کارجہاں تمام ہوا، ابھی تم کو اپنی بہو بھی لانا ہے، یہ ہرا دوپٹہ تمھاری بہو کے سر پہ بہت سجے گا۔۔ میں نے جھپٹ کر بیوی کی تصویر اٹھائی  اور اسے سینے سے لگا کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا!

لنک دوسری قسط۔ https://www.mukaalma.com/14080

لنک پہلی قسط۔https://www.mukaalma.com/13503

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *