جو کہہ نہ سکے کسی سے،وہی اَن کہی۔رفعت علوی/قسط2

دبئی کے شیرٹن فور  میں کوئی ادبی تقریب تھی، “ماہین” اس تقریب کے روح رواں تھے مجھے ٹھیک سے یاد نہیں  کہ شاید 1999 کی بات ہے، مجھے بلا وجہ ہی اسٹیج پہ بلا کے مہمان خصوصی بنا دیا گیا تھا ہندوستان کے شہر سہارن پور سے آئے ہوئے  مشہور شاعر جناب “انور سہارنپوری” کے اعزاز میں یہ تقریب تھی، منتظمین کسی صورت تقریب شروع ہی نہ کرتے تھے، معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ فلم اسٹار ” قادر خان” کا انتظار ہو رہا ہے، میں نے دل ہی دل میں ماہین کو برا بھلا کہا کہ ادبی محفل کو فلمی رنگ دینے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟
قادر خان کو نہ آنا تھا اور وہ نہ آئے اور مشاعرہ شروع کردیا گیا، انڈیا کے کچھ غیرمعروف شعراء تھے مگر انڈین سامعین ان سے اور ان کے کلام سے بخوبی واقف تھے اس لئے فرمائشی پرچیاں بھی آرہی تھیں ۔تھوڑی دیر بعد میرے الٹے ہاتھ پہ بیٹھے مسعود رضا نے مجھے ٹہوکا  دیا اور ایک پرچہ میری طرف بڑھادیا، میں نے پوچھا کس شاعر کو دینا ہے؟ مسعود نے مسکرا کے میری طرف دیکھا اور بولا سر آپ کے لئے ہے، مجھے بڑی حیرت ہوئی، کیونکہ نہ میں شاعر تھا اور نہ ہی منتظم، اس تقریب سے میرا تعلق صرف ماہین کی حد تک تھا، میں نے پرچہ کھولا تو صرف اتنا لکھا تھا “تم اپنے بال ڈائی کیوں نہیں کرتے منا” دنیا میرے سامنے زیرزبر ہوگئی،
میرے برابر بیٹھا مشہور چینل کا نیوزکاسٹر مسعود رضا کیا کہہ رہا ہے، انور صاحب نے کب پڑھنا شروع کیا مجھے اسٹیج پر کب بلایا گیا اور میں نے کیا کہا، مجھے کچھ یاد نہ رہا، ایک فلمی ریل تھی جو میرے اندر چل رہی تھی، 38 سال پہلے موسیٰ لین کی ایک بلڈنگ کی تیسرے فلور کا نیم تاریک کاریڈور تھا اس کاریڈور کے ایک فلیٹ کے دروازے پہ کالے برقعے میں لپٹی سروقد لڑکی ، شمیم آرا کی شکل جس سے ملتی جلتی تھی اور اس کی کمر لپٹا ایک دبلا پتلا 13 سالہ آنسو بہاتا لڑکا، جس کےآنسو  سارہ باجی کے دامن پہ گرتے تھے ۔
میں اب ایک میچیور شادی شدہ تین بچوں کا باپ تھا، میں نے اپنی بے خودی اور بے اختیاری پر قابو پانے کی کوشش کی اور محفل کے خاتمے کے بعد سامنے ٹیبل پر بیٹھے مہمانوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جو ابھی تک ڈنر کا اناؤسمنٹ نہ ہو نے  کے باعث اپنی کرسیوں پہ پہلو بدلتے تھے، ابھی میں ادھر ادھردیکھ ہی رہا  تھا کہ ایک اسمارٹ لڑکی جو جینز اور شرٹ میں ملبوس تھی میرے قریب آئی اور بہت شستہ اردو میں ایک طرف اشارہ  کرکے بولی “انکل کیا آپ اس ٹیبل تک چل سکتے ہیں، میرے ڈیڈی اور ماما آپ کو جانتے ہیں اور ملنا چاہتے ہیں”
میں نے اس ٹیبل کی طرف دیکھا جس پر ایک خوش شکل فربہی مائل آدمی میری طرف دیکھ کر اپنی سفیدی مائل مونچھوں کے نیچے مسکرا رہا تھااور اس کے ساتھ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک عورت سر پہ دوپٹہ ڈالے دوسری طرف مڑی بیٹھی تھی یہ عورتیں بھی خوب ہوتی ہیں، انہیں  خوب معلوم ہوتا ہے ،انہیں  کیا دکھانا ہے، کیا چھپانا ہے، اور اگر دکھانا ہے تو کب دکھانا ہے اور کتنا دکھانا ہے میں نے آگے بڑھ کر احمد صاحب سے ہاتھ ملایا اور   ان خاتون کی طرف دیکھا جو اب سیدھی ہو کر ہماری طرف متوجہ تھیں اور وہ سارہ باجی تھیں، خدا کی قسم، وہ سارہ باجی تھیں، انھوں اپنا گورا ہاتھ اٹھا کر مجھے سلام کیا، وہاٹ اے سرپرائز! دنیا کتنی چھوٹی ہے ،
“انکل ہم لوگ کل کینڈا واپس جا رہے ہیں میرا سمیسٹر مانٹریال میں شروع ہو رہا  ہے” لڑکی نےخاموشی توڑی اچھا، میں نے لڑکی  کی طرف دیکھا ،سارہ باجی کی طرح اس کی آنکھیں بھی آئرش بلیو ، بنفشہ جیسی تھیں، ایک پرفیکٹ اور کمپلیٹ خوش و خرم خاندان۔
کھانے کے بعد وہ لوگ رخصت ہو نے لگے، ارے ابھی الودع نہ کہو دوستو!
نہ جانے اب کہاں کب ملاقات ہو،  دنیا بہت چھوٹی ہے،سارا باجی، پھر ملیں گے، ہاں  مگر عمریں بھی تو چھوٹی ہوتی ہیں منا ، ابھی ٹھہرو، ابھی رکو، ابھی الودع نہ کہو، یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے رکھو، دروازے سے نکلتے ہوئے سارہ باجی  ذرا کی ذ را رکیں پھر میری طرف پلٹ کر بولیں” تم اپنے بال ڈائی کیوں نہیں  کرتے رفعت؟؟ چلو اچھا ہے اب میرے ہم عمر لگتے ہو”، دروازہ کھلا، ائر کنڈیشن کا ایک یخ ٹھنڈا جھونکا آیا اور وہ باہر نکلی چلی گئیں۔ میرا ٹین ایج کرش ، میرا ٹین ایج کرش۔۔
رمضان کا دوسرا  ہفتہ تھا، یو اے ای کی فضائیں اداس تھیں سڑکوں پہ ٹریفک کم کم تھا کہ اس ملک کے ہردلعزیز حکمراں اور عظیم قائد انتقال کر گئے تھے، میرا  آفس بھی ایک تعزیتی جلسے کے بعد بند کردیا گیا تھا، گھر میں داخل ہوا تو ٹیلیفون کی گھنٹی بج رہی تھی،  جب تک میں ٹیلیفون تک پہنچوں وہ بند ہو گیا ۔ ابھی  میں  بیٹھاہی تھا کہ فون کی بیل پھر جاگ اٹھی ہیلو، میں علوی انکل سے بات کرسکتی ہوں، بات کر رہا ہوں انکل میں “تارا” بول رہی ہوں دوبئی ائرپورٹ سے تارا!
کون تارا؟ میں نے اپنے ذہن پہ زور دے کر اس لڑکی کو ری کال کرنے کوشش کی ،تارا صدیقی، تارا احمد صدیقی۔۔۔۔
یاد ہے ہم ڈیڈی اور مما کے ساتھ ملے تھے ایک مشاعرے میں؟ کیا بھول گئے؟۔۔ ارے تم سارہ باجی کی بیٹی ہو، میرے لہجے میں ہلکی سی تھرتھری سی آ گئی ،احمد صاحب کو میں کیسے بھول سکتا تھا کہ وہی احمد صاحب “”جن پر برسے تھے اسی بام سے مہتاب کے نور، جن سے وہ ہوائیں کھیلی تھیں، جن سے سارہ باجی کے لباس کی مہک آتی تھی، وہی  احمد صدیقی بنفشی  غلافی آنکھیں جس کا دن رات طواف کرتی تھیں، ہیلو ۔۔ ہیلو انکل ڈو یو لسن می؟؟
ہاں بیٹا، سن رہا ہوں ،میں دوبئی ائر پورٹ کے ٹرانزٹ لاؤنج میں ہوں باہر نہیں نکل سکتی، آپ سے ملنے کو بہت دل کر رہا ہے، والد صاحب کیسے ہیں تمھارے ؟؟ تھینک گاڈ اور سارہ باجی؟ میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا ماما!
لاسٹ ائیر ان کی ڈیتھ ہوگئی، تین سال سے ان کو چیسٹ کینسر تھا، جب آپ سے ملاقات ہوئی تھی ان کا علاج چل رہا تھا، اچھا انکل اپنا خیال رکھیے گا، میری فلائیٹ کی کال ہورہی ہے ،بائے، خدا حافظ ۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے ریسیور رکھ دیا، تم اپنے بال ڈائی کیوں نہیں کرتے رفعت ،چلو اچھا ہے ،اب تم میرے ہم  عمر لگتے ہو، اچھا بھئی اب آپ لوگ جائیں منتظمین بھی یہی چاہ رہے، میں نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، خدا حافظ! جائیں رب رکھا! پھر ملیں گے،
کب ملیں گے ،دنیا بہت چھوٹی ہے ،سارہ باجی عمریں بھی تو بہت چھوٹی ہوتی ہیں، رفعت اللہ حافظ، رب رکھاں!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جو کہہ نہ سکے کسی سے،وہی اَن کہی۔رفعت علوی/قسط2

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *