مکالمے اور مناظرے کافرق۔۔رعایت اللہ فاروقی

مکالمے کی بات کرنے والے مکالمہ چاہتے کہاں ہیں، وہ مناظرے کا شوق رکھتے ہیں جس کے لئے مکالمے کا عنوان استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ مناظرہ معیوب تو تھا ہی اب جاکر آؤٹ آف فیشن بھی ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ جو کام مناظرے کے نام پر ہوا کرتے تھے وہی اب مکالمے کے عنوان سے ہونے لگے ہیں۔ 

کچھ ہی دن ہوئے ایک تحریر نظر سے گزری۔ ایک ایسے دوست کی تحریر تھی جن سے بیحد متاثر تھا۔ تحریر کے وسط تک پہنچا تو رعونت کو آسمانی چھت چھوتے دیکھا۔ وہ رائٹ ونگ سے کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کو اپنا قدیمی مقدمہ پیش کرنا نہیں آتا تو ہم سے کہیے، ہم ہی پیش کر دیتے ہیں۔ خدا گواہ ہے اپنی بصارت پر یقین ہی نہ آیا، فورا خیال آیا کہ میرے دوست کے ساتھ کسی نے واردات کردی ہے اور یہ لنک کوئی جعلی لنک ہوسکتا ہے۔ میں اس ویب سائٹ پر گیا جس پر یہ تحریر شائع ہوئی تھی اور سائٹ کھولنے کے بعد بھی سب سے پہلے اچھی طرح تصدیق کرلی کہ ویب ایڈریس بالکل درست لکھا ہے۔ وہاں ڈھونڈ کر وہ تحریر نکالی اور وہاں پڑھنی شروع کی۔ یہ سب اس لئے کرنا پڑا کہ دل نہیں مانتا تھا کہ جس شخص سے میں از حد متاثر ہوں وہ گرنے کے لئے آسمانی چھت تک جائے گا۔ تحریر کا تتمہ مزید آفت تھا جس میں وہ آسمان کی چھت پھاڑتے نظر آئے۔ اس تتمے میں انہوں نے اعلان کر رکھا تھا لوگ وحی کی قید سے نکل کر گویا فوج در فوج عقل کے شاہی قلعوں میں داخل ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رائٹ ونگ کے پاس پیش کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہ پوری تحریر از اول تا آخر مناظرے کی للکار کے سوا کچھ نہ تھی جس کا پہلا ثبوت “چیلنج” جبکہ دوسرا اپنی کامیابی کا پیشگی اعلان تھا۔ چیلنج سرے سے علمیت کی ہی نفی ہے۔ ایک صاحب علم کبھی بھی چیلنج نہیں دیتا۔ وہ ہمیشہ اس خوف میں جیتا ہے کہ اگر اس کا خیال غلط ہوا تو ؟ اگر اس کا غلط موقف لوگوں کی گمراہی کا سبب بن گیا تو ؟ اور یہی خوف ہمیشہ اس کا سر اپنے رب کی بارگاہ میں جھکائے رکھتا ہے اور لوگوں کی مجالس میں بھی اسے عجز و انکسار کی کیفیت میں رکھتا ہے۔

میرے دوست کی تحریر کے اس پورے ماحول میں سب سے دلچسپ وہ جملے تھے جن میں وہ بڑے طنزیہ انداز میں فرماتے ہیں کہ “ہوسکتا ہے ہم ہی غلط ہوں” مجھے نہیں معلوم کہ اس تحریر سے انہوں نے کیا حاصل کیا، مجھے البتہ اس سے صدمے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ جنہیں میں عالم سمجھتا تھا وہ فقط ایک مناظر نکلے ! جنہیں میں عاجز سمجھتا تھا پہلی بار انہیں اکڑتا دیکھا۔ میری شدید خواہش ہے کہ وہ اپنی اس تحریر سے رجوع کر لیں کیونکہ یہ پوری تحریر نفس علمیت کی ہی نفی ہے۔ میرے دوست کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مناظرانہ ذوق وہی ہے جو ان میں پایا جاتا جبکہ عالمانہ ذوق یہ ہے کہ عالم اپنی دعوت دیتا جاتا ہے اور اس کے اس دعوتی کام کے دوران اگر کسی کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کا جواب دیدیتا ہے اور اگر اس سوال سے اپنی ہی غلطی کا احساس ہوجائے تو فورا رجوع کر لیتا ہے اور اسی کو مکالمہ کہتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

مکالمے کی خوبی یہ ہے کہ یہ دوسرے کو قائل کرنے کے لئے ہوتا ہے جبکہ مناظرے کا عیب یہ ہے کہ یہ اپنے مخاطب کو فقط لاجواب کرنے کے لئے ہوتا ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ لاجواب ہونے والا غلط بھی ہو۔ آپ مکالمہ نہیں مناظرہ چاہتے ہیں اور عہدِ حاضر کا مناظر کبھی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ ایسے کارِ لاحاصل سے خدا کی پناہ۔ 

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply