عاصمہ اپنی جنت سے ۔۔حسن کرتار

SHOPPING
SHOPPING

  چاہنے والو !کوسنے والو! گالیاں بکنے والو! بدنام کرنے والو! مبارک ہو میں اب تمہاری دنیا میں نہیں رہی۔ تمہیں بتا نہیں سکتی یہاں میری جنت ہاں ،میری جنت ‘جہاں نہ عورت ہونے کا احساس ہوتا ہے نہ مرد ہونے کا، نہ جینے کا رونا دھونا ہے نہ مرنے کا ڈر ۔ اس جنت میں کتنی خوش ہو ں  اور اپنی موت پر تم لوگوں کے تبصرے پڑھ پڑھ کر کتنا مزہ آرہا ہے۔ وہ دیکھو ایک مومن کہہ رہا ہے اچھا ہوا مر گئی  سالی۔ فوج اور ہماری زندگی حرام کی ہوئی تھی۔ دوسرا کہہ رہا ہے لبرلز کی نانی مر گئی ، اب لبرلز اسے دفن کریں گے یا جلائیں گے۔ دیکھو دیکھو یہ زاہد ماہد ،اوریا شوریا اور ان کے مرید کتنے خوش ہوۓ پھر رہے ہیں جیسے میرے مرنے سے یہ اب کشمیر فتح کرلیں گے، دنیا پہ ان کی حکومت ہو جائے گی۔

ہاۓ ایک پورن لور مومن تو کہہ رہا ہے اب یہ بال ٹھاکرے کے ساتھ ویلنٹائین ڈے منائے گی۔ چلو خوش رہو بچو! مجھے کوس کر ہی سہی۔ اور وہ جو لوگ میرے مرنے پہ اداس ہیں اتنے اداس نہ ہوں۔ تم لوگ تو جانتے ہی ہو کہ جب میں تمہارے ساتھ زندہ تھی تو کتنی زندہ دل اور بہادر تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ تم لوگ بھی کم از کم جیتے جی نہ مرو ۔ جیو اور جیو، ہر دن کو ویلنٹائین ڈے کی طرح مناؤ۔ لڑکیو عورتو !آگے بڑھو اور ان ظالم مردوں کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھو۔ یہ تمہاری زندگی ہے وہ زندگی جو صرف ایک بار ملتی ہے۔ کھل کر جیو اسے۔ کسی ملاء سے کسی باپ سے ،کسی خاوند یا بھائی  سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر یہ لوگ تمہیں دوزخ کے عذاب سے ڈرائیں تو یاد رکھنا اس دوزخ تک پہنچنے سے پہلے عاصمہ کی جنت آتی ہے۔ یہ وہ جنت ہے جو اپنی عقل سے اپنے بھروسے پر بنائی جاتی ہے۔ جس دوزخ سے یہ ڈراتے ہیں وہ دراصل ان کا اپنا مقام ہے جہاں یہ ویسے ہی تمام عمر جلیں گے جیسے جیتے جی جلتے کڑھتے رہتے ہیں۔ اور اپنی آرام گاہ میں جانے سے پہلے ان دیسی مومنوں کو جو عاصمہ کے انتقال پر خوش ہو رہے ہیں یا مذاق اڑا رہے ہیں ،اتنا بتادوں کہ انہوں نے یا ان کے ملاؤں نے آبِ حیات نہیں پیا ہوا۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم لبرلز کو پتہ ہوتا ہے کہ ہم پیدا ہوۓ ہیں اس لئے مرنا بھی ہے جیسا کہ ہر ذی روح کی کہانی ہے مگر یہ خود ساختہ مومن وہ ہیں جو زندگی میں بھی مرے رہتے ہیں۔ نہ خود جیتے ہیں اور نہ اوروں کو جینے دیتے ہیں۔

SHOPPING

میری سب چاہنے والوں ،چاہنے والیوں سے یہی آخری گزارش ہے کہ اپنے حقوق کے  لئے، عورتوں کی آزادی کے لئے، سیکولر آئین کے لئے اور اپنی خوشگوار بقاء کےلئے جنگ جاری رکھیں۔ میں اب بھی آپ کے اتنا ہی ساتھ ہوں  جتنا جیتے جی تھی۔ میرے دشمنوں کو خبر کردو ، “عاصمہ صرف فوت ہوئی  ہے ریٹائر نہیں۔”

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *