کپاس (10) ۔ یورپ میں/وہاراامباکر

کپاس میں یورپ کہیں پر نہیں تھا۔ لنن اور اون لباس کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ کاٹن بہت مہنگی درآمد تھی۔ اس کا ریشہ دور اگتا تھا۔ اس کے بارے میں قرونِ وسطیٰ میں دیومالائی قصے مشہور تھے۔
یورپ میں کاٹن اسلام کے ساتھ داخل ہوئی۔ قرطبہ، غرناطہ، بارسلونا، سسلی میں دسویں صدی میں ٹیکسٹائل کی پیداوار شروع ہوئی۔ بارہویں صدی میں سیویل کے ماہرِ نباتات ابو ذکریا ابن العوام نے کاٹن کی کاشت پر کتاب لکھی۔ عربی میں اس کو قطن کہا جاتا ہے۔ یورپی زبانوں میں یہی لفظ داخل ہوا۔ انگریزی میں cotton۔ فرنچ میں coton۔ ہسپانوی میں algodao۔ اطالوی میں cotone۔ ولندیزی میں katoen۔ پرتگالی میں algodao۔ ان سب کی جڑ عربی سے ہے۔ (صرف جرمن اور چیک میں اس کے لئے لفظ عربی سے نہیں آیا اور اس کو “درخت کی اون” کہا جاتا ہے)۔
بارہویں صدی میں شمالی اٹلی میں کپاس کی پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہوا اور تب سے جاری ہے۔ زیادہ تر یورپ کپاس کے پودے کے پیداوار کے لئے موزوں نہیں۔ صلیبی جنگوں میں یورپی ان علاقوں تک پہنچے جہاں کپاس قدرتی طور پر اگتی تھی۔ پہلی بار کاٹن کے کپڑے کی پیداوار یورپ کے غیرمسلمان علاقے میں میلان، ویرونا، وینس، بولوگنا، اریزو میں ہوئی۔ 1450 میں میلان میں کاٹن کی صںعت میں چھ ہزار لوگ کام کر رہے تھے۔
اٹلی میں اون کی صنعت کی روایت موجود رہی تھی اور سرمایہ داری کا اچھا نظام تھا۔ تجارت کے نیٹ ورک موجود تھے۔ اس لئے یہاں پر کاٹن کی صنعت نے آسانی سے پیر جما لئے۔ سرمایہ دار کاشتکار سے خام کپاس خرید کر دیہاتی خواتین کو دیتے جو اسے کاتتی تھیں۔ یہاں سے ان کے معاہدے شہری ہنرمندوں سے تھے جو دھاگہ بنتے تھے۔ کپڑے کی برانڈنگ ہوتی اور مصنوعات تیار ہوتی تھیں۔ ان کو مشرقِ وسطی، بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں، جرمنی، آسٹریا، بوہمیا اور ہنگری بیچا جاتا تھا۔
شمالی اٹلی کو دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اس کے پاس مغربی اناطولیہ اور شام سے کپاس مل جاتی تھی۔
جہازرانی کی بہتری سے اجناس کی درآمد آسان ہوئی۔ وینس یورپ میں کپاس کی آمد کا مقام بن گیا۔ کئی تاجر کپاس کے سوداگر بن گئے۔ شام یا اناطولیہ سے مقامی تاجروں سے سودا کرتے اور جہاز میں لاد کر یورپ لے آتے۔ مشرقی ٹیکنالوجی بھی اسی طرح درآمد ہوئی۔ ہندوستان اور چین سے یہ ٹیکنالوجی اسلامی دنیا میں پہنچی تھی اور یہاں سے یورپ۔ بارہویں صدی میں چرخہ یورپ میں متعارف ہوا۔ اس سے پہلے یہ کام ہاتھ سے ہوتا تھا۔ اور ایک کاریگر ایک گھنٹے میں ایک سو بیس گز دھاگہ بناتا تھا۔ یعنی گیارہ گھنٹے کی محنت کے بعد اتنا دھاگہ بنتا تھا جو ایک قمیض کے لئے خام مال تھا۔ چرخے سے یہ رفتار تین گنا ہو گئی۔ اگلی بڑی آمد کپڑا بننے کے لئے افقی کھڈی تھی جس کو پیر سے چلایا جا سکتا تھا۔ اس سے ہاتھ آزاد ہو جاتے تھے۔ کاریگر ہاتھ سے دھاگے کی ایڈجسٹ کرتا جاتا تھا اور زیادہ اچھے معیار کا کپڑا بنانا ممکن ہو گیا۔ یہ ایجاد بھی ہندوستان یا چین سے اسلامی دنیا اور پھر یورپ تک پہنچی تھی۔
اٹلی کی ٹیکسٹائل کی صنعت پندرہویں صدی تک پس منظر میں جا چکی تھی۔ زیادہ ٹیکس، زیادہ اجرت، جولاہوں کی تنظیم سازی کا مطلب یہ ہوا کہ جرمنی میں سستے مزدور دستیاب تھے۔ یہ جرمنی کی طرف چلی گئی۔
لیکن یورپ میں یہ بڑی صنعت نہیں تھی۔ یورپ میں سوت اور اون کا استعمال زیادہ تھا اور کاٹن ایک بڑی صنعت نہیں تھی۔ سولہویں صدی میں تیس سالہ جنگ نے اس کو مزید نقصان پہچایا۔ وینس مضبوط عثمانی سلطنت کی وجہ سے مرکزی حیثیت کھو چکا تھا۔ طاقتور عثمانی سلطنت کے عروج نے اطالوی اور جرمن صنعت کو بڑی حد تک ختم کر دیا۔ دوسری طرف انہیں برطانیہ نے نقصان پہنچایا۔ سولہویں صدی کے آخر میں برطانوی جہاز ازمیر کی عثمانی بندرگاہ پر آتے تھے۔ عثمانی سلطان نے 1589 میں برطانوی سوداگروں کو تجارت کی سہولیات دے دیں۔ وسطی یورپ کے راستے سے تجارت کی ضرورت ختم ہو جانے کے ساتھ بارہویں صدی میں بننے والی اطالوی اور پندرہویں صدی میں بننے والی جرمن کاٹن کی صنعت ناکام ہو گئی۔
(جاری ہے)

Advertisements
merkit.pk

ساتھ لگی تصویر چودہویں صدی کے وسط کی ہے۔ یہاں پر میلان میں لگی ہوئی horizontal treadle loom دکھائی گئی ہے۔ اس میں کاریگر پیروں سے اسے چلا رہا ہے۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply