جو کہہ نہ سکے کسی سے وہی “ان کہی”۔رفعت علوی

ہم  چار دوست کراچی کی مصروف شاہراہ کراس کرکے شمیم آرا کی فلم “آنچل” دیکھنے سینیما ہال میں ابھی ابھی داخل ہوئے تھے ، پکچر ہال کا نام اس وقت میرے ذہن سے نکل گیا ہے، پتا نہیں  کہ وہ ایروز تھا یا کوئی اور، ہم  ٹرام پٹہ کراس کرتے ہوئےالٹے ہاتھ کی طرف سے نہایت سست رفتاری سے آتی ہوئی ٹرام کے سامنے سے بہت آسانی سے گذر گئے تھے۔ نہیں  معلوم آج کے کتنے لوگ ایم ٹی وے یعنی محمد علی ٹرام وے کے بارے میں جانتے ہیں، مگر مجھے معلوم ہے کہ  اپریل 1975  تک ہرے رنگ کی ٹرامس سعید منزل ، سولجر بازار، صدر، ایمپریس مارکیٹ اور بولٹن ماکیٹ سے کیماڑی تک آمدورفت کا نہایت آسان اور سستا ذریعہ تھیں ۔

بات فلم “آنچل ” کی ہو رہی تھی، جس کے گانوں نے گھروں میں دھوم مچا رکھی تھی، گلی گلی سلیم رضا کی مدھ بھری آواز میں “تجھ کو معلوم نہیں  تجھ کو بھلا کیا معلوم” کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ شیطان اور چلبلے لڑکے بالے “کھٹی کڑھی میں مکھی پڑی” الاپتے پھرتے، کچھ جذباتی اور ناکام قسم کے نوجوانوں کا محبوب گانا ” کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو” تھا اور شادی بیاہ کا سب سے مقبول گانا ” بھولی دلہنیا کا جیا لہرائے” بن چکا تھا۔ فلم کی سب سے بڑی خوبی تو یہ تھی کہ اسے ہم لوگوں کے والدین کے سنسر بورڈ نے ہم نوعمر لڑکوں کے دیکھنے کے لیے پاس کردیا تھا۔

میرے دوست تو کچھ  زیادہ سمجھدار تھے اور وہ فلم کے گانوں موسیقی، ابراہیم جلیس اور حمایت علی شاعر سے متاثر ہو کر فلم دیکھنے آئے تھے مگر میری بات دوسری تھی میں تو شمیم آرا کو دیکھنے آیا تھا جس کی شکل “سارہ باجی” سے ملتی جلتی تھی۔ پکچر ہال میں بہت رش تھا ،ٹکٹ کے لیے لمبی لائن لگی تھی، ایسا لگتا تھا کہ سارا شہر شمیم آرا کے آنچل کی ہوا لینے سینما پہنچ گیا ہو۔ہمارے ایک دوست نے تجویز دی کہ کسی “لیڈیز” سے مدد لی جائے کیوںکہ ان کی لائن الگ لگتی تھی اور ان کو ٹکٹ بھی آسانی سے مل جاتا تھا ۔

اس زمانے میں لڑکوں کی ریپوٹیشن اچھی تھی وہ حسب موقع بےحد مودبانہ انداز میں میڈم، باجی اور خالہ جیسے رشتے بنا کر خواتین کو پیسے دے کر ٹکٹ حاصل کر لیتے تھے سو ہم دوست بھی قسمت آزمائی کے لیے خواتین کی طرف بڑھے ہی تھے کہ کسی نے مجھے نام لے کر پکارا ۔۔دیکھا تو قاضی تھا، سارہ باجی کا بھائی، وہ اپنی امی اور سارہ باجی کے ساتھ فلم دیکھنے آیا تھا۔

سارہ باجی۔۔ جی ہاں وہی سارہ باجی ، شمیم آرا کی شکل جن سے ملتی تھی یا دوسرے لوگوں کے مطابق وہ شمیم آرا سے بہت ملتی تھیں۔ ہماری پڑوسی تھیں۔ سڑک پارکی بلڈنگ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں۔ اس سچ گزشت سے ان کا کوئی برائے راست بلکہ کوئی بھی تعلق نہیں  ہے مگر یہ یادوں کے جگنو ہیں نا، اس میں وہ بار بار گھس آتی ہیں ان کی ٹھوڑی میں پڑنے والا چھوٹا سا گڑھا، ان کی غلافی بنفشہ جیسی آنکھیں ، ان کی پتلی نازک سی کمر اور بقول حمایت علی شاعر “ان کی  قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ” سب کچھ کسی نامعلوم طریقے سے، کسی غیر محسوس جذبے کے تحت یادوں کی اس دھند میں داخل ہوئے جا رہے ہیں۔

چلیے یہ مختصر سی داستان سن تو لیں ،بے موقع ہی سہی! مجھ سے وہ عمر میں سات آٹھ سال تو بڑی ہوں گی، ہفتے میں دوبار وہ امی سے اردو اور کشیدہ کاری سیکھنے آتی تھیں ان کے دو بھائی میرے ہم عمر تھے اور ہم سب کا ایک دوسرے کے گھر بے تکلفی سے آنا جانا تھا. ان کے گھر میں ایک بڑے سائز کا کیرم بورڈ بھی تھا جس پر بڑے معرکے کا رن پڑتا۔

سارہ باجی اور ان کی ایک ہم عمر غیر شادی شدہ پھوپھی پارٹنر بنتیں ۔ میں اور قاضی مل کر خوب ہی چیٹنگ کرتے ،آخر تنگ آکر ان کی پھوپھی جن کا نام شاید رضیہ تھا، کیرم بورڈ الٹ دیتیں۔ مگر میرا دل تو سارہ باجی میں اٹکا رہتا۔ ان کے رخسار کتنے لال رہتے ہیں، چلتی ہیں تو ان کی چوٹی کمر سے کتنے نیچے تک لٹکتی ہے اور سرخی پوڈر لگانا منع ہے مگر ان کے ہونٹ ہر وقت کس قدر سرخ رہتے  ہیں ،مانو گلاب کا پھول ہونٹوں میں داب رکھا ہے۔

ان کے آنے کا مجھے ہمیشہ انتظار رہتا، پڑھنے بیٹھتیں تو میں بہانے بہانے سے ان کے کمرے کا چکر  لگاتا، مجھے کبھی بھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ سارہ باجی کو میری اس وارفتگی اور بےوقوفی کا علم تھا کہ نہیں ، ایک دن وہ آئیں تو ہرے دوپٹے، سفید قمیض اور ہری شلوار میں تھیں میری آنکھ ان پر ٹھہرتی نہ تھی، جب امی ان کو لے کر باورچی  خانے کی طرف گئیں تو میں نے کمرے میں گھس کر ان کا ہرا  دوپٹہ چھپادیا، واپسی پر انہوں نے دوپٹے کو ادھر ادھر ڈھونڈا پھر مجھ سے پوچھا، منے تم نے تو نہیں  دیکھا، میرا دوپٹہ، اور جب دوپٹہ نہ ملا تو امی سے کچھ کہے بغیرخاموشی سے برقع اوڑھ کر گھر چلی گئیں، گھر میں سب لوگ مجھ کو منا کہتے تھے اس لیے وہ بھی مجھے منا تو کہتیں مگر ساتھ ساتھ ہنستیں بھی تھیں۔

میں نے دوپٹہ چھپانے کو چھپا تو لیا مگر اب اس کو گھر والوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھنا ایک مسئلہ بن گیا سب کی نظربچا کر اس کو اپنے کپڑوں کی الماری میں سب سے نیچے چھپادیا ایک دن قاضی آیا تو اپنے ساتھ مٹھائی کی پلیٹ بھی لایا اور امی سے بولا کہ سارہ باجی کی منگنی ہو گئی ہے اور پندرہ دن بعد نکاح ہے، امی نے کہا کہ وہ خود رات میں مبارک باد دینے آئیں گی، لیکن ابھی تو سارہ کے ایگزام باقی ہیں ۔ اگلے ہفتے سارہ باجی خود ہم لوگوں سے رخصت ہونے آئیں، میں اپنے کمرے سے باہر نہیں  نکلا، جب وہ چلنے لگیں تو امی سے بولیں یہ منا کدھر ہے ؟آج دکھائی نہیں  دے رہا ہے،

اس سے کہیے مجھے گھر تک چھوڑ آئے۔ امی کے پکارنے پہ مجھے کمرے سے نکلنا ہی پڑا، سارہ باجی نے آج ہلکے گلابی کپڑے پہنے ہوے تھے، دونوں ہاتھوں کی ہتھلیاں مہندی سے سرخ ہو رہی تھیں اور وہ کچھ شرمائی شرمائی سی لگ رہی تھیں۔میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگیں پیارے منا بھائی چلو مجھے گھر پہنچا دو، میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسناھٹ سی دوڑ گئی، سانس سینے میں جیسے الجھنے لگا، اپنے گھر کے دروازے کے پاس وہ رک گئیں پھر آہستہ سے بولیں

“رفعت میری ایک بات مانو گے” میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا! کہ آج انھوں نے پہلی بار مجھے میرے نام سے پکارا تھا، دیکھو رفعت ،وہ میرا ہرا دوپٹہ ضائع کر دینا، آنسوؤں  کا ایک گولہ سا میرے حلق میں آ کر پھنس گیا،

مجھ سے کچھ بولا نہ گیا۔ مگر میں نے نفی میں سر ہلایا، تم کیا کروگے اس کا وہ روندھی سی آواز میں بولیں! بس وہ میرے پاس رہے گا!

انھوں نے کھینچ کے مجھے اپنی کمر سے لپٹا لیا، میرے گرم گرم آنسو ان کے دامن پہ گرتے رہے!!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جو کہہ نہ سکے کسی سے وہی “ان کہی”۔رفعت علوی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *