قدم بڑھاؤ ۔روبینہ فیصل

آج کا کالم ایک بے غرض انسان کے نام، جو نہ صرف میری بلکہ پاکستانی کمیونٹی کی زندگی میں روشنی کی طرح شامل ہے۔
پرانے وقتوں میں، بھٹکی ہو ئی قوموں کو خدا، آسمانی عذاب کے ذریعے تباہ کر تا تھا۔ آج کے دور میں خدا، قوموں کی بر بادی آسمانی نہیں انسانی عذاب کے ذریعے کر تا ہے۔۔یہ تباہی ان پر مسلط بے حس، خود غرض اور غلیظ حکمرانوں کے ذریعے کر واتا ہے جس کی مثال ہمارے فوجی اور سیاسی حکمران ہیں۔اور قوموں کو انعام کے طور پر کینیڈا کے وزیر ِ اعظم جسٹن ٹروڈو جیسے پاکیزہ لوگ عطا کر تا ہے۔ اورانفرادی طور پر سزا کے لئے خدا کچھ لوگوں کو محبتوں اوردوستوں کے بھیس میں آپ کی زندگیوں میں شامل کر دیتا ہے جو پورے وجود اور زندگی کو زہر آلود کر جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح آ پ کی نیکیوں کے بدلے پر خلوص اور سچے لوگوں سے ملواتا ہے،جو آپ کی زندگیوں کو سہارا اور روشنی بخشتے ہیں ۔ یعنی کہ خدا نے آسمانوں سے سزا اور جز ا کی outsourcing ختم کرکے مقامی ذرائع پر انحصار کر رکھا ہے۔

یہ” دینی” نہیں بلکہ” انسانی “کالم ہے۔
بہت سے کم علم لوگوں کی طرح میں بھی گھروں کے باہر یا گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پر یا ای میل ایڈریس میں، یا سوشل میڈیا پر لفظ “انسانیت” کا استعمال کر نے والوں کو ہی انسان پرور اور اس دنیا میں مہربانیوں اور محبتوں کا پاسبان سمجھ بیٹھی تھی۔ معاملہ اس کے بر عکس نکلا۔ ہر ایک کو اختلاف ِ رائے کا حق ہے اسی طرح اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر ایک رائے قائم کر نا میرا بھی حق ہے۔ اور میری رائے یہ ہے کہ جس کسی کو میں نے انسانی حقوق کا جتنا زیادہ ڈھونڈراپیٹتے دیکھا، اسے میں نے انسانوں کے جذبات کے ساتھ اتنی ہی ذیادہ بے حسی کے ساتھ کھیلتے پا یا۔ دنیا میں صرف ایسے کالے دل والوں کا اندھیرا ہی نہیں خاموشی سے انسانیت کی خدمت کر تے لوگوں کی روشنی بھی ہے۔ ایسے ہی گنتی کے ایک آدھ لوگوں میں سے ایک نام ہے “مظہر شفیق “یہ وہ نام ہے جس کی وجہ سے آج میں تقریبا سال بعد پھر سے قلم کو ہاتھ لگا رہی ہوں۔وہ قلم جس نے ہمیشہ سچ لکھنے، سچ کھوجنے کی کوشش کی ہے اور ایک سال سے جھوٹ،بناوٹ،خود غرضی، بے حسی اور دھوکے کا چہرہ انتہائیء قریب سے دیکھ دیکھ کر صدمے کی وجہ سے مفلوج ہو چکا تھا۔مظہر شفیق کے لئے لکھنا گویا اس قلم کو پھر سے آکسیجن دینے کے مترادف ہو گیا۔

پچھلے تین چار سال کی بات ہے، جب سے میں نے ٹاک شو شروع کیا تھا، میری اولین غفلت میں میرے گرد بھی بھیس بدلے بہت سے رنگا رنگ لوگ اکھٹے ہو گئے تھے۔ کسی پر انسانی حقوق کا بھوت سوار تھا،تو کسی پرحب الوطنی کا،مگر ان سب میں ایک قدر مشترک تھی اور وہ تھی سفاکی کی حد تک خود غرض ہونا۔ میں نے انسانیت کے بڑے بڑے دعوے کر نے والوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات جو کیمرے کے سامنے اپنے نظریات جھاڑنے کی لالچ سے لے کراپنی انا کی خاطر دوسرے کی ذات کو مٹی میں ملانے کے غرور تک تھے، اس سب کے پیچھے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے اور حتی کہ مجھ سے کنارہ کشی کر تے بھی دیکھا۔یہ جھوٹ اور بناوٹ کی کہانیاں پھر کبھی سہی، ٹاک شو چھوڑنے کا فائدہ بھی یہی ہو ا کہ ایسے وقتی دوست،بے غرضی اور وفا کی چھلنی میں سے یوں جھٹ سے نکل گئے جیسے کبھی میری زندگی میں تھے ہی نہیں،اب وہ میرے میسجز کے جواب بھی دینے سے قاصر ہیں۔ شاید میری سزا کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مگراس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دوستی اور وفا کی چھلنی میں ایک نام جگ مگ کرتا رہا۔وہ نام تھا،مظہر شفیق۔

اس وقت جب میں کچھ قریبی موتوں (اصلی اورفرضی موت) کے بعد ننگے آسمان تلے ایک مسکین بچے کی طرح آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی کہ کوئی روشنی دکھائی دے، ایسے سیاہ دن جب سایہ بھی ساتھ چھوڑ جا تا ہے،وہ میر ا سایہ بنے رہے۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ہمیں ہماری روبینہ بہن واپس چاہیے اور وہ اپنی پُر اعتماد، بہادر،ہنسنے مسکرانے والی، سب پر اعتماد کر نے والی، روبینہ بہن کو واپس لانے کے لئے جُت گئے۔ میں ان دنوں قلم کو ہی نہیں اپنی زبان کو بھی چھوڑ چکی تھی، الفاظ نہ قلم سے نکلتے تھے نہ زبان سے۔۔۔لہذا میں کسی سے بات بھی نہیں کر پاتی تھی تو فیصل سے مسلسل میری خیریت پو چھتے رہتے۔
میں ان کی کون تھی؟ ۔۔ میں ایک کونے میں پڑے پڑے مر بھی جاتی تو باقی لوگوں کی طرح انہیں بھی کوئی فرق نہیں پڑ نا چاہیے تھا۔ مگر وہ مجھے واپس لانے کے لئے ڈٹے رہے۔ان کی زبان پر ہر وقت یہی ہو تا dont worry،روبینہ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔

اس دور میں جہاں ہر چیز بک رہی ہے، وقت کا، جذبوں کا،ہر چیز کا مول تول ہو تا ہے، کس نے کتنا وقت دیا اور کتنا خلوص، کون آپ کے کتنے کام آسکتا ہے، اس کے حساب سے اس بندے کا زندگی میں مقام متعین کیا جاتا ہے۔ میں جو ایسے ہی رویوں سے اوب کر اس گہما گہمی کی زندگی سے کنارہ کش ہو چکی تھی، مظہر بھائی کی ذات کو بھی اُسی پیمانے پر پر کھا، مگر منہ کی کھانی پڑی۔ مظہر بھائی تو وہ نکلے جنہوں نے سب کے لئے، پوری کمیونٹی کے لئے بے لوث ہو کر کام کیا۔ یہ دیکھے بغیر، یہ حساب کیے بغیر کہ بدلے میں کس نے ان کے لئے کیا کیا؟
CAPOجو مظہر شفیق اور ان کی بیگم ثمرہ بھابھی کا ایک اور بچہ ہے، جس کے تحت تھارن کلف کے لوگوں کی کئی سالوں سے خدمت کر رہے ہیں اور یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے تحت خالص ٹھوس فلاحی کام ہو تے رہے ہیں، اسی کے تحت مجھے صحافتی اور ادبی ایوارڈ دیا، میرے افسانوں کی کتا ب خواب سے لپٹی کہانیوں ” کو پذیرائی دی۔۔بغیر کسی لالچ کے۔۔ہے نا حیران کن بات؟

سلمی زاہد ہماری قابل ِ فخر خاتون پارلیمنٹیرین کی کامیابی کے پیچھے ان کی اپنی محنت اور ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ مظہر شفیق کا کر دار ناقابل ِ فراموش ہے۔ مظہر شفیق پاکستانی خواتین کی کینیڈین سیاست میں عملی شمولیت کے بہت بڑے سپورٹر ہیں، بلکہ پاکستانی خواتین جس بھی شعبے میں کچھ ٹیلنٹ رکھتی ہیں انہیں آگے بڑھنے میں بغیر کسی لالچ کے ایک بھائی کی طرح،ایک باپ کی طرح سایہ بن کر ساتھ دیتے ہیں۔ پاکستانیوں کا کینیڈا میں ایک مثبت کردار ہو، اس بات کے لئے،اکثریت کی طرح گھر بیٹھے صرف باتیں ہی نہیں بناتے بلکہ عملی طور پر پاکستانیوں کا imageبہتر رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر تے ہیں۔جس کی کچھ مثالیں یہ ہیں:

انہوں نے ایسٹ جنرل ہسپتال کے لئے 38000،ہاکی ایرینا کے لئے 4000،پاکستانی کمیونٹی سے 50000گرین فیلڈز کر کٹ کے لئے اکھٹا کیا۔ اریبہ نامی ایک ٹیلنٹڈ بچی جو NASAکے لئے منتخب ہو ئی تھی، اس کے اخراجات کے لئے فنڈ ریزنگ کی اور ایسے بے شمار کام کئے ہیں۔مگر دوسروں کے لئے ہزاروں ڈالرز فنڈز اکھٹے کر نے والے مظہر شفیق ایک سادہ سے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، ایک ٹوٹی پھوٹی گاڑی چلاتے ہیں، سادہ سے کپڑے اور تحفے میں دی گئی ایک گھڑی کلائی پر سجا کر پھرتے ہیں۔۔۔یہ کیسا انسان ہے جس کا مقصد صرف دوسروں کی مدد کر نا، ان میں خوشیاں بانٹنا، قہقے بکھیرنا ہے۔ شاید ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا گیا ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد ان کی عورت اور ان کے بچے سے بھی بڑا ہو تا ہے۔ وہ اپنی ذات کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ کچھ لوگوں کو خدا نے دنیا میں دوسروں کے لئے ہی اتارتا ہے۔ بہروپیوں سے بھری اس دنیا میں مظہر بھائی سادگی اور ایمانداری کی علامت ہیں۔ہاں ایک خامی ہے، جھوٹ جی بھر کر بولتے ہیں لیکن دلوں کوتوڑنے کے لئے نہیں،جوڑنے کے لئے،خوش کر نے کے لئے (یہ میں انہیں مذاق میں کہتی ہوں)۔

ان کا فیس بک ہویا ان کی طرف سے کوئی ای میل آئے،سب دوسروں کی تعریفوں سے یا پروموشن سے بھر ا ہو تا ہے اور اگر مین سٹریم میں کسی کی تعریف کرنے کا کوئی موقع آتا ہے تو وہ یہ موقع اپنے آپ کو نہیں دوسروں کو دیتے ہیں۔کینیڈا میں پاکستانی زیادہ تر تو سیاست میں تب حصہ لیتے ہیں جب انہوں نے کسی دوسرے پاکستانی کی ٹانگ کھینچنی ہو،اور پہلا پاکستانی تب حصہ لیتا ہے جب اس کے پا س کر نے کو اورکچھ نہ ہو ۔ بغیر یہاں کی سیاست کی رمزیں جانیں، ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سب اپنا منہ لال کر لیتے ہیں۔ مگرکچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حقیقت میں یہاں کی عملی سیاست کا تجربہ رکھتے ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کا روشن چہرہ ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستا ن کے نام پر ایسی سیاہی ہے کہ بیرون ملک ہمیں ایسے چراغ جیسے چہروں سے روشنی پھیلانے کی سخت ضرورت ہے۔آئیں سب مل کر مظہر شفیق کو لبرل کی” سکاربرو سنٹر ” میں الیکشن کی نامزدگی کو کامیاب بنائیں۔
جیسے وہ سب کو کہتے ہیں dont worry میں انہیں کہنا چاہتی ہوں dont worry مظہر شفیق قدم بڑھاؤ،ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔اور ہم سب ٹھیک کر دیں گے۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *