پنجاب کا انتخابی دنگل۔۔۔۔ٹی ایچ بلوچ/حصہ اول

: ٹی ایچ بلوچ

پنجاب پاکستان کا آبادی، انسانی وسائل، زرعی اور صنعتی پیداوار کے لحاظ سے سب سے اہم اور بڑا صوبہ ہے۔ اس کی آبادی کل ملکی آبادی کے 62% کے قریب ہے۔ اس لئے قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے 148 پنجاب کی ہیں۔ جو پارٹی یہاں سے اکثریتی سیٹیں جیت لے گی، وہی حکومت بنائے گی۔ پنجاب سیاسی طور پر مسلم لیگ نون کا فلعہ شمار ہوتا ہے اور لاہور اسکا صدر مقام ہے۔ لاہور سے ہی اس قلعے کی اینٹ اکھڑ گئی ہے۔ جنوبی پنجاب میں پی پی پی کا زور تھا، لیکن شاہ محمود قریشی کے پی ٹی آئی میں چلے جانے کے بعد یوسف رضا گیلانی اور انکی فیملی کا اثر و رسوخ پارٹی کی جڑیں برقرار نہیں رکھ سکا۔ نون لیگ کا ایک بڑا جتھہ بھی جنوبی پنجاب سے عمران خان سے جا ملا۔ اپنی اہلیہ کی بیماری کے سبب نواز شریف لندن گئے اور زعیم قادری جیسے پرانے لیگی کارکن اور رہنماء نے حمزہ شہباز اور شہباز شریف کا نام لیکر للکارا اور لاہور میں آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بظاہر تو جماعت کی سطح پر ایسا کوئی اور شخص نظر نہیں آتا، جو زعیم قادری کی سطح پر آکر پارٹی لیڈر شپ کو ٹارگٹ کرتا نظر آئے، البتہ کچھ انتخابی حلقوں میں ایسی صورتحال ضرور طاری ہے، جہاں سابق اراکین قومی اسمبلی نے اپنے انتخابی اخراجات کیلئے ذیلی ونگز میں تبدیلی کا عمل شروع کر رکھا ہے اور جس پر تبدیل کئے جانے والے اراکین اسمبلی فی الحال پارٹی لیڈر شپ اور 180 ایچ ماڈل ٹاؤن کی طرف دیکھ رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد انہیں ان تنازعات کو طے کرنا پڑے گا اور اگر انہوں نے بھاری بھر کم اراکین قومی اسمبلی خصوصاً سابق وزراء کے آگے ہتھیار پھینک دیئے تو پھر ٹکٹ سے محروم رہ جانے والوں کی جانب سے بھی ایسے ہی ردعمل کا اظہار آسکتا ہے، جو جماعت کی انتخابات پر پوزیشن کو متاثر کرے گا۔

دیگر سیاسی قوتوں کی موجودگی کے باوجود پنجاب کا انتخابی معرکہ بنیادی طور پر پی ٹی آئی اور نون لیگ کے درمیان ہی لڑا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف لاہور کے 4 قومی حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے جبکہ 3 حلقوں میں پی ٹی آئی اور نون لیگ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا اور تحریک انصاف کے امیدوار اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ این اے131 میں عمران خان نے الیکشن لڑنا ہے اور وہاں سے نون لیگی امیدوار خواجہ سعد رفیق کا جیتنا مشکل معلوم ہو رہا ہے، این اے129 میں تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان کی انتخابی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نون لیگی امیدوار اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق مشکلات کا شکار ہیں۔ این اے128 میں تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری اعجاز ڈیال کی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور نون لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر کیلئے الیکشن مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ اس نئے حلقہ میں اکثریت ان دیہات کی ہے، جہاں اعجاز ڈیال کی گرفت بہتر ہے۔ این اے125 میں میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا مقابلہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہوگا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ذیلی صوبائی حلقوں میں تحریک انصاف نے کمزور امیدوار دیئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ حلقہ تحریک انصاف کیلئے کچھ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ این اے126میں نون لیگی امیدوار مہر اشتیاق اور تحریک انصاف کے حماد اظہر کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، اس حلقہ کے دو میں سے ایک ذیلی صوبائی حلقہ میں میاں اسلم اقبال اور دوسرے ذیلی حلقہ میں مہر واجد عظیم الیکشن لڑ رہے ہیں اور یہ دونوں امیدوار اپنے حلقوں میں بہت مضبوط پوزیشن کے حامل ہیں، لہذا نون لیگ کو یہاں سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔

این اے130 میں نون لیگ کے امیدوار خواجہ احمد حسان کا مقابلہ تحریک انصاف کے شفقت محمود سے ہوگا۔ اس حلقہ میں اگر تحریک انصاف اپ سیٹ کرے گی تو اس کی بنیادی وجہ یہاں سے پی ٹی آئی کے صوبائی امیدوار میاں محمود الرشید اور ڈاکٹر مراد راس کی پانچ برس سے مسلسل حلقہ میں ورکنگ ہوگی۔ این اے135 میں تحریک انصاف کے امیدوار ملک کرامت کھوکھر اور نون لیگ کے سیف کھوکھر کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور نون لیگ یہ نشست جیت سکتی ہے۔ این اے136 میں فی الوقت تحریک انصاف کا ٹکٹ ملک اسد کھوکھر کے پاس ہے، لیکن سابق قومی امیدوار خالد گجر بھی ٹکٹ واپس حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ این اے127 میں جمشید اقبال چیمہ اور نون لیگ کے پرویز ملک کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور اگر تحریک انصاف پی پی 148 اور پی پی 153 میں مضبوط امیدوار لاتی ہے تو اس حلقہ میں کانٹے کا مقابلہ ہوسکتا ہے۔ این اے134 میں ملک ظہیر عباس کھوکھر تحریک انصاف کے امیدوار کی حیثیت سے بھرپور کام کر رہے ہیں اور ان کا مقابلہ نون لیگ کے رانا مبشر سے متوقع ہے۔ این اے124 میں حمزہ شہباز سے مقابلہ کیلئے ولید اقبال کو میدان میں اتارنا عمران خان کی خواہش تھی، لیکن ولید اقبال کی معذرت کے بعد اب ایک غیر معروف رہنما نعمان قیصر کو ٹکٹ دیا گیا ہے اور اس حلقہ سے نون لیگ کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ این اے123 میں تحریک انصاف نے مہر واجد عظیم کو ٹکٹ دیا ہے، لیکن مہر واجد عظیم کو این اے126 کی ذیلی صوبائی نشست کا ٹکٹ بھی دیا گیا ہے، جو کہ ان کا آبائی حلقہ ہے، لہذا مہر واجد عظیم کیلئے یہ نہایت مشکل چیلنج ہوگا کہ وہ ایک ہی وقت میں لاہور کے ایک کونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کونے کے حلقہ میں انتخابی مہم چلائیں اور نتائج بھی حاصل کریں۔ این اے123 سے نون لیگ کے امیدوار ملک ریاض کی پوزیشن زیادہ مستحکم ہے۔

تحریک انصاف سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کر رہی ہے، اسی لئے قومی اسمبلی کی 272 میں سے صرف 240 پر پی ٹی آئی امیدواروں کا اعلان متوقع ہے، جبکہ پنجاب اسمبلی کی297 میں سے 260 نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدوار لائے جائیں گے۔ لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ کیلئے تحریک انصاف اور نون لیگ نے ابھی مکمل امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تحریک انصاف کی ابتدائی لسٹ کے مطابق جنہیں ٹکٹ جاری کیا گیا ہے، ان میں قومی حلقوں کیلئے این اے 117 ننکانہ چودھری بلال احمد ورک، این اے 118 اعجاز احمد شاہ، این اے 119 راحت امان اللہ، این اے 120 علی اصغر منڈا، این اے 121 محمد سعید ورک، این اے 122 علی سلمان، این اے 123 لاہور مہر واجد عظیم، این اے 124 نعمان قیصر، این اے 125 ڈاکٹر یاسمین راشد، این اے 126 حماد اظہر، این اے 127 جمشید اقبال چیمہ، این اے 128 اعجاز ڈیال، این اے 129 عبدالعلیم خان، این اے 130 شفقت محمود، این اے 131 عمران خان، این اے 132 منشا سندھو، این اے 133 اعجاز چودھری، این اے 134 ظہیر عباس کھوکھر، این اے 135 ملک کرامت کھوکھر، این اے 136 ملک اسد کھوکھر، این اے 137 قصور راشد طفیل، این اے 138 سردار آصف علی، این اے 139 ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی، این اے 140 طالب نکئی، این اے 141 اوکاڑہ صمصام علی بخاری، این اے 142 راؤ حسن سکندر، این اے 146 پاکپتن میاں امجد جوئیہ، این اے 147 ساہیوال چودھری نوریز شکور، این اے 148 ملک محمد یار ڈکھو، این اے 149 رائے مرتضیٰ اقبال شامل ہیں۔

اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی سیاست کافی ہنگامہ خیز ہے، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف، دونوں بڑی جماعتوں کو شدید داخلی خلفشار کا سامنا ہے۔ گذشتہ انتخابات میں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں تھیں، تاہم اب ان کی تعداد تین ہے۔ پہلے این اے 48 اور این اے 49 کے حلقے اب تین حلقوں کی صورت میں این اے 52، 53، 54 کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ تادم تحریر اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتخابی صورت حال کچھ یوں ہے کہ این اے 52 میں تحریک انصاف کے راجہ خرم نواز، مسلم لیگ نون کے ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور پیپلز پارٹی کے محمد افضل کھوکھر مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل نے اس حلقے کی بابت ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ این اے53 سے مسلم لیگ نون کے رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (گلالئی گروپ) کی سربراہ عائشہ گلالئی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے تینوں پارٹیاں مایوس نظر آرہی ہیں۔ این اے 53 سے عمران خان کے سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ نون شاہد خاقان عباسی کو سامنے لائی تھی، کیونکہ پارٹی اس حلقے سے عمران خان کو ہرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی کا آبائی حلقہ مری کے علاقے میں ہے، وہ وہاں سے بھی امیدوار ہیں۔ این اے53 سے مسلم لیگ نون کے رہنما سردار مہتاب عباسی نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کرا رکھے تھے، وہ بھی مسترد کر دیئے گئے۔ بیرسٹر ظفراللہ خان بھی مسلم لیگ نون کی طرف سے امیدوار ہیں، تاحال مسلم لیگ نون نے اپنے امیدواران کی فہرست جاری نہیں کی۔

اگرچہ این اے 53 سے عمران خان نے کاغذات مسترد کئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، اسی حلقہ سے پی ٹی آئی کے ایک اور مضبوط امیدوار الیاس مہربان بھی ہیں، عمران خان کے امیدوار نہ ہونے کی صورت میں ان کے پارٹی امیدوار بننے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حلقہ53 اسلام آباد سے پیپلز پارٹی نے سید سبط الحیدر بخاری کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس حلقہ سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار میاں محمد اسلم ہیں۔ این اے54 سے مسلم لیگ نون کے انجم عقیل خان، ملک حفیظ الرحمان ٹیپو، پیپلز پارٹی کے راجہ عمران اشرف، متحدہ مجلس عمل کے میاں اسلم اور جماعت اسلامی کے منحرف زبیر فاروق خان بھی امیدوار ہیں۔ تحریک انصاف نے اس حلقہ سے سابق ایم این اے اسد عمر کو پھر سے ٹکٹ دیدیا ہے۔ اس حلقہ میں اصل مقابلہ تحریک انصاف کے اسد عمر اور نون لیگ کے انجم عقیل خان کے درمیان ہی سمجھا جاتا ہے۔ نون لیگ کے رہنما حفیظ الرحمان ٹیپو نے ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں این اے54 سے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ 2002ء میں یہاں سے متحدہ مجلس عمل کے میاں محمد اسلم، 2008ء میں مسلم لیگ نون کے انجم عقیل، 2013ء میں تحریک انصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی اور ان کے سیٹ خالی کرنے پر اسد عمر کامیاب ہوئے۔ ضلع راولپنڈی کی سات قومی اور 15 صوبائی نشستوں کیلئے مجموعی طور پر 459 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں۔ مسلم لیگ نون راولپنڈی میں زیادہ مسائل کا شکار ہے، ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن کے چیئرمینوں، وائس چیئرمینوں اور کنٹونمنٹ بورڈز کے ممبران کا ایک بڑا دھڑا سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ جانے والا ہے، تاحال بعض نون لیگی رہنما دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چودھری نثار علی خان کو راضی کر لیں گے۔ ایسا نہ ہوسکا تو نون لیگ راولپنڈی کے ضلع سے محروم ہوسکتی ہے۔

نون لیگ کی طرف سے این اے 57 میں شاہد خاقان عباسی، این اے58 میں محمد جاوید اخلاص، این اے59 میں قمرالاسلام راجہ، این اے60 میں حنیف عباسی، این اے62 میں سینیٹر چودھری تنویر خان کے بڑے بیٹے دانیال چودھری یا پھر ملک شکیل اعوان اور این اے63 میں راجہ ممتاز ٹکٹ کے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ این اے61 کی صورتحال واضح نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے این اے 57 کے لئے صداقت عباسی، این اے58 میں چودھری محمد عظیم، این اے 59 میں غلام سرور خان، این اے60 میں شیخ رشید احمد، این اے61 میں عامر محمود کیانی، این اے 62 میں شیخ رشید احمد اور این اے 63 میں غلام سرور خان کو ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ ضلع راولپنڈی کی تحریک انصاف میں گروہ بندی بھی سنگین صورت اختیار کرچکی ہے، شیخ رشید احمد کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر تحریک انصاف کا بڑا حلقہ ناراض ہے، ان میں وہ لوگ بالخصوص شامل ہیں، جو طویل عرصہ سے تحریک انصاف کے امیدوار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ وہ شیخ رشید کو ٹکٹ نہیں لینے دیں گے۔ این اے60 اور این اے62 کے نیچے صوبائی سیٹوں پر چار امیدواروں میں سے تین امیدوار شیخ رشید احمد کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل نے این اے58 سے مفتی محمود حسین شائق کو ٹکٹ دیدیا ہے، این اے59 سے جماعت اسلامی محمد تاج عباسی اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفار توحیدی ٹکٹ کے امیدوار ہیں، این اے 60 سے رضا احمد شاہ یا قاضی محمد جمیل امیدوار ہوں گے، این اے61 سے چودھری ظفر یاسین جبکہ این اے63 سے سابق ایم پی اے محمد وقاص خان کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے، این اے 62 کے لئے فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح یہاں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لئے ٹکٹیں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے حصے میں آئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *