• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آپ ﷺ کی عظمت ،ڈاکٹر اسرار احمد کے خطاب کی روشنی میں۔۔۔راجہ قاسم محمود

آپ ﷺ کی عظمت ،ڈاکٹر اسرار احمد کے خطاب کی روشنی میں۔۔۔راجہ قاسم محمود

آپ ﷺ کی ذات مبارکہ تمام مسلمانوں کے لیے نقطہ اتحاد و اتفاق ہے،کیونکہ آپ ﷺ کی ذات ہی اسلام کی تنہا ماخذ ہے اور آپ ﷺ کی اطاعت اللہ کی ہی اطاعت ہے۔اس لیے جب کوئی بھی شخص آپ ﷺ کی کوئی تعریف و توصیف بیان کرنے کا فریضہ انجام دے ،اس شخص کی تعریف و توصیف کا راستہ اللہ تعالیٰ خود کھول دیتا ہے۔ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی مذہبی تعبیرات اور نظریات سےایک مختلف رائے رکھنے کے باوجود جب ڈاکٹر صاحب کا آپ ﷺ کی عظمت پر ان کا ایک خطاب سنا تو دل خوش ہو گیا اور میں نے دل میں فخر اور رب کا شکر ادا کیا کہ میں آپ ﷺ کا ایک امتی ہوں۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں
“آپ ﷺ کی شخصیت کی عظمت کے مختلف پہلو ہیں،ایک آپ ﷺ کا مقام و مرتبہ بحثیت نبی ہے،ایک آپ ﷺ کا مقام ارفع و بلند بحثیت انسان ہے،پھر انسان کی حیثیت سے بھی ایک پہلو روحانیت،پھر دوسرا پہلو عام انسانی معاملات کا ہے۔آپ ﷺ کی عظمت کے مختلف پہلوؤں میں بعض پہلوؤں کے بارے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اس پر آپ ﷺ کی عظمت کا بیان تو درکنار اس کا ادراک و شعور اور فہم بھی ہمارے لیے ناممکنات میں سے ہے۔سادہ سی مثال سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک معالج،ڈاکٹر یا حکیم کا اپنے فن میں مقام و مرتبہ ہے،ظاہر  ہے اسے کوئی ڈاکٹر،حکیم یا معالج ہی جان سکتا ہے،اس طرح ایک انجینئر کا اپنے فن میں کیا مقام و مرتبہ ہے،اس سے انجنیئر ہی واقف ہو سکتا ہے،لہٰذا ایک نبی کی حیثیت سے آپ ﷺ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟یہ صرف کسی نبی علیہ الصلوۃ وسلام کے لیے ممکن ہے کہ اس کا اندازہ کرسکے،کسی غیر نبی کے لیے یہ محال عقلی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے مقام و مرتبہ کا تعین کر سکے۔پھر ایک اور نکتہ کسی فرد کا ادارے میں یا فرم میں مقام بھی وہی بتا سکتا ہے جو اس ادارے یا فرم میں اس سے بالاتر ہو،اس سے نیچے والا تو اوپر کی طرف صرف دیکھے گا،اس کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اوپر والے کے اصل مقام کا تعین کرسکے۔

اب ظاہر ہے آپ ﷺ سے بالاتر مقام کسی نبی علیہ الصلوۃ وسلام کا نہیں ،لہٰذا کسی نبی علیہ الصلوۃ وسلام کے لیے بھی یہ محال عقلی ہے کہ آپ ﷺ کے اصل مقام و مرتبہ کو سمجھ سکے ،ایسے ہی آپ ﷺ کے روحانی مقام ہے ہم جیسے لوگوں کے لیے ادراک و شعور ممکن نہیں۔جیسے آپ ﷺ خود صوم وصال رکھتے تھے لیکن آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کو روکے رکھا،ایسے ہی بڑے سے بڑے صوفی اور ولی اللہ کے لیے ممکن نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے روحانی مقام کا پورا پورا ادراک کر سکے،ان دونوں پہلوؤں (یعنی بحیثیت نبی اور روحانیت) سے جب ہماری عقلیں،ہمارا فہم اور شعور و ادراک عاجز ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اس کو بیان کرنے کی کوشش کرنا بھی بہت بڑی خطا ہے۔چنانچہ اگر ہم آپ ﷺ کے مقامات عالیہ کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے تو شدید خطرہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی شان میں کمی نا کر بیٹھیں۔ اس لیے ہم سے آپ ﷺ کے مقام کا کماحقہ بیان ممکن نہیں۔غالب نے اس کو یوں بیان کیا ہے
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد(ﷺ) است
کہ ہم نے آپ ﷺ کی ثنا و حمد کو خدا (یزداں) کے حوالے کردیاہے۔ہم اس کی کوشش ہی نہیں کرتے،اس لیے کہ وہی ذات پاک ہے جو آپ ﷺ کے اصل مقام و مرتبے سے واقف ہے۔
اب آپ ﷺ کی شان کا جو پہلو ہماری سمجھ میں آسکتا ہے (مگر مکمل ادراک یہاں بھی ناممکن ہے) وہ آپ ﷺ کی عظمت بحیثیت انسان،اور بحیثیت انسان بھی آپ ﷺ کی عظمت کے بے شمار پہلو ہیں، جیسے آپ ﷺ بطور سپہ سالار،یہ بڑے بڑے فوجی جرنیل صحیح بتا سکتے ہیں کہ آپ ﷺ نے جو مختلف غزوات میں جو حکمت عملی اختیار کی وہ کس درجہ مکمل اور مہارت پر مشتمل تھی،پھر کسی سے صلح کرنی ہو تو گفت و شنید میں آپ ﷺ نے کس مہارت،کیسی واقفیت،اور کیسی اہلیت کا مظاہرہ فرمایا۔پھر ایک قاضی القضاہ کی حیثیت سے آپ ﷺ کے دئیے گئے اصول آج بھی تمام دنیا کے نظام ہائے عدل کا حصہ ہے۔مثلاـّّ کسی بھی مقدمے میں ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ نہ کیا جائے جب تک کہ فریق ثانی کو بھی سن نہ لیا جائے۔یہ اصول آپ ﷺ کا بیان کردہ ہے،شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے گا نا کہ الزام لگانے والے کو،ایسے ہی یہ اصول آپ ﷺ ہی نے بنایا ہے کہ سو مجرم چھوٹ جائیں تو کوئی حرج نہیں لیکن کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے۔اب آپ ﷺ بحثیت باپ کردار کیا تھا ؟ یہ سیدہ نساء العالمین سلام اللہ علیہا سے پوچھئے،آپ ﷺ  نےبحثیت شوہر کیا کردار ادا کیا اس کی عظمت ملکہ اسلام سیدہ خدیجتہ الکبری ،سیدہ عائشہ صدیقہ،سیدہ ام سلمہ،و دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہما بتا سکتی ہیں.
آپ ﷺ کی عظمت جس کو ہم بحثیت انسان اور بھی کچھ سمجھ سکتے ہیں وہ ہے آپ ﷺ کا داعی انقلاب ہونا،عظمت کے اس پہلو کا انتشاف پورے عالم انسانی پر ہو چکا ہے،وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک عظیم ترین،گھمبیر ترین،جامع ترین اور ہمہ گیر ترین انقلاب برپا کیا ،اور اس انقلابی جدوجہد کی ابتداء سے لے کر اختتام تک جتنے مراحل بھی آئے آپ ﷺ نے اس کے ہر ہر مرحلے پر قیادت کی ذمہ داری خود ادا فرمائی۔آپ ﷺ کی جدوجہد خالص انسانی سطح پر ہوئی اور اس میں وہ سارے مراحل آئے جو کسی بھی انسانی جدوجہد میں آتے ہیں،ہم دیکھتے ہیں کہ آغاز میں بظاہر ناکامیاں بھی آئیں،بے پناہ محنت اور مشقت کا نتیجہ مرئی طور پر صفر دکھائی دیتا تھا۔کوہ صفا پر چڑھ کر آپ ﷺ نے عرب کے مروجہ دستور کے مطابق قوم کو ندا دی۔معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے قوم کو ابلاغ کا وہ ہی راستے اپنایا جو وہاں رائج تھا۔آپ ﷺ کے مکی دور میں دعوت،تربیت و تزکیہ،تنظیم اور صبر محض،یہ چار چیزیں بیک وقت چلی ہیں،”صبر محض” تیاری کا دور ہے کہ جب تک اتنی طاقت ہے کہ کفر کے آمنے سامنے کھڑے ہو کر مقابلہ کرسکیں،اس وقت تک اگر تم پر کوئی زیادتی کی جائے تو جھیل اور برداشت کرو اور صبر کرو۔اس مرحلے پر کوئی جوابی کاروائی نہ کی جائے،یہ آپ ﷺ کی کامیابی کے ضمن میں آپ ﷺ کی دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا انتہائی نازک معاملہ تھا ”

آپ ﷺ نے مکی دور میں جو اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی وہ دراصل بنیاد تھی ،مدینہ منورہ میں حاصل ہونے والی فتوحات کی،اسی لیے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ مہاجرین کو انصار پر فوقیت حاصل تھی،حالانکہ انصار کا اسلام بھی مطلوب و مقصود اور لائق تحسین تھا مگر مہاجرین کی تربیت زیادہ سخت ماحول میں ہوئی تھی،ایسے ہی اہل بدر کو باقی صحابہ رضی اللہ عنہم پر فضیلت حاصل تھی۔دوسرا ڈاکٹر صاحب کی اس تقریر سے بھی یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ آپ ﷺ کی حقیقت کو آپ ﷺ کے رب کے سوا کوئی جان نہیں سکتا،ہم کو جو کچھ رب کریم نے عقل دی ہوئی  ہےچاہیے وہ کتنی ہی  کمال کی کیوں نا ہو وہ اس کا ادراک نہیں کرسکتی مگر اس عطا کردہ عقل کی روشنی میں اپنے سب سے بڑے محسن ﷺ کا ذکر اپنے اپنے شعور کے مطابق کرتے رہنا چاہے۔اور ہمارا یہ ذکر آپ ﷺ کی شان میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کرتا بلکہ ہم پر آپ ﷺ کی طرف سے کرم ضرور ہوتا ہے۔بقول اعلحضرت فاضل بریلویؒ
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
جس راہ چل دئیے ہیں کوچے بسا دئیے ہیں۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *