ہندو راشٹر ایک دھوکہ ہے۔۔ابھے کمار

ہندو راشٹر کے قیام کے لیے ایک بار پھر بھگوا طاقتیں سر گرم ہو گئی ہیں۔ میڈیا میں زیر بحث خبروں کے مطابق بھگوان عناصر نے بعض مقامات پر دھرم سنسد کا انعقاد کیا    ، جس میں انہوں نے نہ صرف ہندو راشٹر بنانے کی بات دوہرائی ہے، بلکہ مسلمان اور دیگر محروم طبقات کے خلاف ہتھیار بند جنگ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نفرت کے ان سوداگروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے، سرکار ، عدالت اور انسانی حقوق کے ادارے ابھی تک خاموش ہیں۔ فرقہ پرست سے لے کرسیکولر پارٹیوں کی زیر ِحکومت ریاستوں میں دھرم سنسد منعقدگیا ہے،کیا آئین اور اقلیت مخالف یہ جلسہ انتظامیہ کی پشت پناہی کے بغیر ممکن ہو سکتا تھا؟

یہ موقع بے محل نہیں ہے جب ہم ہندو راشٹر کے تصور کے بارے میں باتیں کریں۔  سچ پوچھیے تو ہندو راشٹر کے قیام سے ملک کا ہی نہیں بلکہ ہندوٴں کابڑا نقصان ہوگا۔ اقلیت اور دیگر محروم طبقات کی با ت چھوڑیے کیونکہ ان کو تو پہلے سے ہی ہندو راشٹر کی سوچ میں دوئم درجہ کا شہری بنا دیا گیا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

گزشتہ سو سالوں میں بھگوا جماعت نے خوب پروپیگنڈہ پھیلایا ہے کہ ہندو راشٹر کے بن جانے سےبھارت کے تمام مسائل کا حل ہو جائے گا۔ مگر اس زہریلی سوچ نے اب تک ملک کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ اسی فرقہ وارانہ سوچ نے مہاتما گاندھی کی جان لی۔ کہیں نہ کہیں ہندو مسلم تنازعات کے لیے یہی نفرت انگیز سوچ  سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ دُکھ کی بات یہ ہےکہ بھگوا طاقتوں کےپروپیگنڈےکو خارج کرنے کے لیے سابقہ سیکولر جماعتوں نے سچے من سے کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج نفرت کا کھیل ہر طرف کھیلا جا رہا ہے۔ میڈیا سے لے کر ملک کی عام سوچ میں فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا گیا ہے۔ چوک چوراہے، ٹرین اور بس میں فرقہ پرست یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان میں اسلامک نیشن کا قیام ہو سکتا ہے تو بھارت میں ہندو راشٹر کیوں  نہیں بن سکتا ہے؟ہماری نئی نسل فرقہ وارانہ سوچ سے برباد ہو رہی ہے۔ اس لیے آج اس بات کی ضرورت شدت سےمحسوس کی جا رہی ہے کہ  بھگوا طاقتوں کی فریب کاری کے خلاف ایک مہم چلائی جائے اور ان کے نفرت انگیز نظریات کا مدلل جواب دیا جائے۔

ہندو راشٹر کی حمایت میں یہ افواہ بھیلائی جاتی ہے کہ بھارت دیش بنیادی طور پر ہندو قوم پر مبنی ہے۔ ہندو ثقافت، ہندو قوم کو ملک سے جوڑا جاتا ہےہیں اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہندو لفظ کا مطلب ہندو دھرم کے ماننے والوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ جو کوئی بھی بھارت کو اپنی مادر وطن مانتا ہے اور جن کے مذہبی مقامات اسی ملک میں واقع ہیں وہ سب ہندو ہیں۔ اس طرح بھگوا عناصر اوپری من سے یہ کہتے ہیں کہ اگر مسلم اور عیسائی بھی بھارت کو اپنا  مادر وطن دل سے قبول کر لیں اور بھارت کو اپنی پیتر بھومی تسلیم کر لیں تو وہ بھی ہندو قوم کا  حصہ بن جائیں گے۔ اس طرح سے بھگوا عناصر کوشش کرتے ہیں کہ ہندو راشٹر کے تصور کو مذہب کی قید سے آزاد کر کےپیش کیا جائے اور اس میں غیر ہندووٴں کو شامل کیا جائے۔ تبھی تو چالاک بھگوا لیڈران بعض اوقات یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ان کی تنظیم کسی مسلم یا عیسائی کے خلاف نہیں ہے۔ جو کوئی بھی ہندو کلچر میں یقین رکھتا ہے وہ سب بھارتیہ ہیں۔ کئی بار بھگوا لیڈر ان یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پوجا پاٹھ ، رسم و رواج، عقیدہ ، دھر م، مذہب کی آزادی میں ان کا یقین ہے اور وہ سچےسیکولر ہیں ، جبکہ ان کےحریف سیکولر جماعت اور کمیونسٹ مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتے ہیں اور ہندو مفاد کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اس طرح ان کو بھارتی کلچر اور ملک کا مخالف بتا کر پیش کیا جاتا ہے۔

حالانکہ بھگوا عناصر کے دکھانے اور کھانے کے دانت الگ الگ ہوتے ہیں۔ وہ یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ وہ دھرم کی قید سے آزاد ہیں۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سچا سیکولر ایک ہندو ہی ہو سکتا ہے اور بھارت ہمیشہ سے ہی سیکولر رہا ہے کیونکہ یہاں کا قومی کلچر ہندو رہا ہے ۔ در اصل وہ بات ضرور مذہب کی قید سے آزاد ہندو کلچر کی کرتے ہیں، مگر ان کے تصور کے ہندو کلچر کے ساری علامات اور تاریخ ایک مخصوص دھرم پر مبنی ہوتی ہے اور اس میں اقلیت مسلمان، عیسائی اور دیگر محروم طبقات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ اس ہندو کلچر میں عیسائی اور اسلام مذہب کو باہر کا مذہب بتلایا گیا ہے اور ان سے جڑی ہوئی تمام تاریخ اور سمبل کو ترک کر دیا گیا ہے۔ اگر بھارت میں ہندو مسلمان سکھ عیسائی سب بھائی بھائی ہیں تو پھر اسلام اور عیسائیت بیرونی مذہب کیسے ہو گیا ؟

جہاں وہ عیسائیت اور اسلام کو ہندو کلچر سے باہر کر دیتے ہیں وہیں بدھ، جین اور سکھ مت کو ہندو دھرم کے اندر ہڑپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر تاریخ یہ کہتی ہے کہ جین ، بدھ، سکھ مذہب ذات پات اور دیگر غیر مساوی سماجی نظام کے خلاف بغاوت کی تھی۔ان دھرموں کو  دبانے کے لیے تشدد کو بھی جائز قرار دیا گیا ۔ بھگوا طاقتیں کبھی اس بات کا جواب نہیں دیتیں  کہ بدھ مت، جو بھارت میں پھیل گیا تھا ، خود ہی مٹ گیا یا پھر مٹا دیا گیا۔؟ وہیں دوسری طرف بھارت میں اسلام اور عیسائی مذاہب کے پیروکار ہزاروں سالوں سے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں تو پھر اسلام اور عیسائیت  کو کیسے بیرونی مذہب کہا سکتا ہے؟ کیا یہ بات تاریخی طور پرصحیح نہیں ہےکہ بھارت میں آریائی اور ویدک دور سے پہلے ہڑپہ تہذیب پائی  جاتی  تھی ؟ قدیم بھارت میں دراوڑ  تہذیب بھی تو تھی ، جو کہ آریائی اور ویدک کلچر سے الگ تھی ۔ آخر اسے بھگوا عناصر اپنے ہندو راشٹر میں کتنی جگہ دیتے ہیں؟

Advertisements
julia rana solicitors london

در اصل ہندو راشٹر کا تصور ایک خطرناک ارادہ ہے۔ اس خطرناک ارادہ کی حمایتی پوری ہندو قوم نہیں ہے۔ سچ پوچھیے تو مٹھی بھر عالیٰ ذات کے ہندو اس  تخریب کاری کےپیچھے کھڑے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر   ہندووٴں کے لیےعہد زرّیں کا خواب بیچتے ہیں، تاکہ سماج کے اصل مسائل کی طرف لوگوں کا دھیان نہ جا پائے۔ بھگوا عناصر دانستہ طور پر قدیم بھارت کو ملک کے لیے سب سے سنہرہ دور بتلاتے ہیں ، سچی بات یہ ہے کہ قدیم بھارت میں ذات پات اور عورتوں کے خلاف غیر مساوی نظام قائم تھا۔ قدیم بھارت کی تاریخ اچھوتوں اور بدھ مت کے ماننےوالوں کے خلاف ظلم اور زیادتی کی داستان بھی ہے۔ بھگوا طاقتیں بھارت کی ساری برائی کے لیے مسلمان ، عیسائی، انگریز اور کمیونسٹ کو قصور وار مانتے ہیں اور عالیٰ ذات کی بالادستی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندو راشٹر بھار ت کے جمہور ی اور سیکولر آئین کے سراسر خلاف ہے۔ مگر افسوس کہ بھارت کے ارباب اقتدار وقتی فائد ہ کے لیے نفرت کے ان سوداگروں کو تحفظ دےکر ملک کو کمزور کر رہے ہیں۔  آج سے ۸۰ سال پہلے بابا صاحب امبیڈکر نے ہندو راشٹر کے خطرہ سے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہندو راشٹرکا تصور ایک حقیقت بن کر سامنے آجا تا ہے تو بلا شبہ یہ ملک کے لیے سب سے بڑی آفت اور تباہی ہوگی۔ کسی بھی قیمت پر ہندو راج کو قائم ہونے سے ہمیں روکنا ہوگا۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply