• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تھر میں موت کا رقص اور صوبائی حکومت کی ترجیحات۔۔۔طاہر یاسین طاہر

تھر میں موت کا رقص اور صوبائی حکومت کی ترجیحات۔۔۔طاہر یاسین طاہر

غالب نے کہا تھا کہ ”

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟”

یہ تھر والوں کا کیا معاملہ ہے؟ کہ وہ پیدا ہوتے ہیں، ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ کسی سیاسی شخصیت نے بیان داغا تھا کہ مائیں کمزور ہیں، اس لئے بچوں کو مطلوبہ غذا یعنی ماں کا دودھ نہین دے سکتیں، اس لئے تھر میں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس منطق پہ سوائے رونے کے اور کیا کِیا جائے؟ ہر حکومت، وفاقی ہو یا صوبائی، ہر سیاسی جماعت، ہر گروہ، حقائق اور ذمہ داریوں سے منہ موڑتے ہوئے دور کی کوڑیاں لانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر صرف کراچی کے ہی دس تاجر یہ ذمہ اٹھا لیں تو تھر سے غذائی قلت ختم ہوسکتی ہے۔ موت کو شکست دے کر انسانی وقار کا علم بلند کیا جا سکتا ہے۔ ان کی ترجیحات مگر اور ہیں، بالکل سیاسی حکومتوں کی طرح۔ سال بھر میں ایک آدھ بار زکوٰۃ ادا کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو سارا سال غربا و مساکین کو کھانا کھلاتے ہیں۔ استثنیٰ موجود ہے، میں مگر اجتماعی رویئے کی بات کر رہا ہوں۔ سیالکوٹ کے تاجر اپنی مدد آپ کے تحت ایئر پورٹ تعمیر کرسکتے ہیں تو کیا کراچی کے دس بارہ تاجر مل سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر کے لوگوں کی حیات آسان نہیں کرسکتے۔؟

اولین ذمہ داری مگر حکومت کی اور صوبائی حکومت کی، پھر وفاقی حکومت کی۔ کوئی دو سال پہلے شاید، جس وقت سید خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر تھے تو انھوں نے ارشاد فرمایا تھا کہ لاڑکانہ میں ہم نے ایسا ہسپتال تعمیر کیا، جو اپنی مثال میں یورپ سے برتر ہے۔ یہ کیسا یورپ سے بھی برتر ہسپتال ہے، جس میں شاہ صاحب یا ان کی جماعت کا کوئی قابل ذکر لیڈر علاج نہیں کراتا۔ کئی بار اس تکلیف دہ ایشو پر لکھا۔ پھر سے تازہ الم درپیش ہے۔ دور تک نہ سایہ، نہ پانی، نہ ہسپتال نہ کوئی شہر۔ یہ اکیسویں صدی ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ۔ لیکن تھر وہیں کا وہیں ہے۔ صحرائی مکین ریت کی دیوار بھی نہیں گرا سکتے۔ کبھی مور، کبھی اونٹ کبھی جانور، کسی نہ کسی انفیکشن کا شکار ہو کر مر رہے ہوتے ہیں اور انسان کے بچے تو پیدا ہوتے ہی اس لئے ہیں، لوک داستانوں کے وارث اس صحرا میں چار چھ سانسیں لیں اور تڑپ کر مر جائیں۔ امدادی ٹیمیں تھر میں ضرور جاتی ہیں، لیکن جو کام ایک پوری حکومت کے کرنے کا ہوتا ہے، وہ دو چار امدای ٹیمیں مل کر انجام نہیں دی پاتیں۔ ہاں امدادی ٹیمیں یا این جی اوز وغیرہ حکومتوں کے دست و بازو ہوا کرتے ہیں، ہنگامی حالات میں۔ حکومتیں ہی اگر سو جائیں تو اہلِ درد کیا کر پائیں گے۔؟

تازہ ترین الم یہ ہے کہ صوبہ سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں غذا کی کمی اور وائرل انفیکشنز کے باعث گذشتہ 36 گھنٹوں میں مزید 7 نومولود دم توڑ گئے۔ مٹھی کے سول ہسپتال میں ان بچوں کو طبی امداد کے لئے لایا گیا تھا، جہاں دوران علاج 6 بچوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں جبکہ ایک بچہّ “لوکہی”  میں دم توڑ گیا۔ تھرپارکر میں مزید 6 بچوں کی ہلاکت کے بعد رواں سال غذائی قلت اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں سے نومولود بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 635 ہوگئی ہے۔ تھرپارکر کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور بچوں کو علاج کی غرض سے کراچی یا حیدرآباد منتقل کرنے لئے ایمبولینس کی سہولیات تک نہیں ہیں۔ تھر کے لوگوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “تھر کے ہزاروں شہری کنووں کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ خطرناک موسمی صورت حال کے باوجود کئی میل کا سفر کرکے جانا پڑتا ہے۔ تھرپار کے رہائشیوں نے سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ بیمار افراد کو طبی سہولیات فراہم نہیں کرسکتے تو کم از کم پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔

تھر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس صحرائی علاقے خصوصاً دور دراز دیہاتوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ضلع کے عوام کی جانب سے کہا گیا کہ سندھ حکومت علاقہ مکینوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے چند کلوگرام گندم کی تقسیم پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، جبکہ گندم بھی صرف ان افراد کو فراہم کی جاتی ہے، جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں۔ دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 800 بچوں کو حیدرآباد اور کراچی میں علاج کے لئے بھیجا تھا، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کوئی بچ سکا یا نہیں۔ تھرپارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث آئے روز بچوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔ اس واقعے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے ازخود نوٹس بھی لیا گیا تھا اور سابق سیکرٹری صحت کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا، جبکہ تھر میں بچوں کی اموات کے معاملے پر غیر جانبدار ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی بھی بنانے کی ہدایت دی تھی۔

اعداد و شمار بڑے دلسوز ہیں۔ محکمہ صحت کے دعویدار 800 بچوں کو کراچی اور حیدرآباد کے سرکاری ہسپتالوں میں بھوانے کا کہہ رہے ہیں، مگر انہیں اس کے بعد کی صورتحال کا علم نہیں کہ ان 800 بچوں میں سے کوئی زندہ بچا بھی یا نہیں؟ تھرپارکر میں صاف پانی، خوراک اور ادویات کی دستیابی کیسے یقینی بنانی ہے؟ یہ بے شک صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس حوالے سے عملی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی اہم شخصیت اس علاقے کا دورہ کرے تو مصنوعی اقدامات کرکے سب اچھا ہو رہا ہے، کا تاثر دیا جاتا ہے۔ جس رفتار سے ٹھرپارکر میں انسان مر رہے ہیں، بعید نہیں کہ اس ضلع میں انسانی بحران پیدا ہو جائے۔ یہاں وفاقی حکومت، اہل ِ درد افراد اور عالمی براداری کو بھی تھر کے سسکتے مرتے لوگوں کی مدد کو آگے آنا چاہیئے اور ہنگامی بنیادوں پر مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا چاہیئے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *