لیٹرین۔۔۔مظفر عباس

میں پبلک لیٹرین بہت کم استعمال کرتا ہوں۔
مگر جب حاجت بڑھ جائے تو اس کے سامنے کون ٹک سکتا ہے؟
میں ایک پبلک لیٹرین کے پاس رُکا۔
اگرچہ غلاظت کی بھر مار تھیں۔
مگر اطمینان کہ چار دیواری  توہے۔
کہ میرے لئے کھلی جگہ پے دیوار کی سمت منہ کرکے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر یا ٹانگ اٹھا کر اپنی حاجت پوری کرنا ممکن نہیں۔
لیٹرین کا فرش مختلف رنگوں کے پانی سے بھرا ہوا تھا۔
کہیں تیز زرد رنگ اور کہیں  ہلکا
اور عجیب حواس باختہ کرنے والی بدبو اور فلیش پر پتلے پاخانے کی تہہ۔
اور دیواریں پر حسینوں اورمردوں کے عضلات کی تصویریں۔۔ جن کے سبب دنیا کی آبادی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
اس دوران میرے لئے سانس لینا دشوار اور روکنا نا ممکن ۔
کہ اچانک دیوار پر ایک خوبصورت حسینہ کی چسپاں تصویر نے مجھے دم بخودکر دیا۔
بد بو اور گٹھن کے اثرات کسی خواہش میں تبدیل ہو گئے۔
اور نکلتے وقت ہم لیٹرین کی دیواروں پر اپنی بے بسی کے نشان چھوڑ آئے۔

مظفر عباس نقوی
مظفر عباس نقوی
سیاست ادب مزاح آذادمنش زبان دراز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *