ثانیہ مرزا، فیشن انڈسٹری اور لبرل ازم ۔کامریڈ فاروق بلوچ

لباس کا تعلق موسمی حالات  سے ہوا کرتا تھا مگر اب نہیں. اب اِس کا تعلق میڈیائی پروپیگنڈہ سے ہے. اِس بات کو سمجھنے کے لیے کاسمیٹکس اور فیشن انڈسٹری کو سمجھنا ہو گا. دنیا بھر میں کاسمیٹکس انڈسٹری اور فیشن انڈسٹری کی مالیت تقریباً 3200 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے جبکہ پاکستان کا جی ڈی پی 1600 ارب امریکی ڈالر ہے. یہاں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ ایک انتہائی منافع بخش مالیاتی کاروبار ہے. جو عورت پردہ کرتی ہے، حجاب کا استعمال کرتی ہے یا پورا جسم ڈھانپنے والا لباس پہنتی ہے وہ اِس انڈسٹری کی قدرے کم اور نہ ہونے کے برابر گاہک/خریدار ہوتی ہے. آسان سی بات ہے. ایک عورت جس نے عبایہ پہن رکھا اور چہرہ بھی ڈھانپ رکھا ہے وہ کاسمیٹکس کا کم ترین استعمال کر رہی ہے. یقیناً عبایہ پہننے والی عورت فیشن کا بھی کم ترین استعمال کر رہی ہے.

اب بات کو ایک دوسرے انداز میں پیش کرتے ہیں. بتیس سو ارب امریکی ڈالر والے مالیاتی ادارے کو کون سی عورت پسند ہو گی؟ باپردہ، مکمل لباس پہننے والی اور سب کچھ ڈھانپ کر چلنے والی عورت تو قطعاً پسند نہیں ہو گی. اِس انڈسٹری کو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک کاسمیٹکس اور فیشن مصنوعات کی استعمال کنندہ عورت ہی پسند ہو گی.

اب تیسرا سوال: کیا یہ مالیاتی ادارے یہ نہیں چاہیں گے کہ دنیا بھر کی تمام عورتوں کی ذہن سازی کرکے انہیں پردے، مکمل لباس جیسے “جبر” سے آزاد کروایا جائے تاکہ اُن کو زیادہ سے زیادہ “گاہک” میسر آئیں. ایک ادارہ جس کا سالانہ منافع ایک ارب ڈالر ہے، وہ دس کروڑ ڈالر ایسے منصوبوں اور تحریکوں پہ ضرور خرچ کریں گے جو عورتوں کو یہ باور کروا دے کہ یہ پردہ، یہ مکمل لباس وغیرہ جبر ہیں، اِن کے خلاف جنگ کرتے ہیں. لبرل دنیا کی فیمنزم کی بنیاد اِسی کاروباری چکربازی پہ کھڑی ہے.

ثانیہ مرزا ایک ٹینس کی کھلاڑی ہے. کیا ٹینس کھیلنے کے لیے عورت کا آدھا ننگا ہونا ضروری ہے؟ کیا ایک ٹینس کا کھلاڑی اپنی ٹانگوں کو ڈھانپ لے تو کھیل میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی؟ نہیں بالکل نہیں. لیکن بڑے بڑے مالیاتی ادارے جو اُس کھیل پہ پیسہ لگاتے ہیں کیا اُن کو ایسی کھلاڑی وارے کھاتی ہے؟ بالکل بھی نہیں. کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا بھر میں سپورٹس فیشن انڈسٹری کی مالیت سو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے. کیا اُس انڈسٹری کو سادہ سی اور مکمل لباس پہننے والی ثانیہ مرزا پسند ہے یا مردوں کے دلوں پہ بجلیاں گراتی؟

معاملہ آخری تجزیہ میں مالیاتی ہی ہے. مجھے یقین ہے کہ لبرل طبقہ یہاں یہ بحث شروع کرے گا کہ باپردہ عورت ضروری نہیں کہ “شریف” ہو اور بےپردہ عورت “بدمعاش” ہو. مجھے اِس چکر میں نہیں پڑنا. میرے لیے شرافت اور بدمعاشی کے پیمانے کچھ دوسرے ہیں. لباس، پردہ اور فیشن نہ تو شرافت کا پیمانہ ہے نہ ہی بدمعاشی کا. میں تو احباب کو بتا رہا ہوں کہ یہ معاملہ روپے پیسوں کا ہے جو فیل نائٹ، برنارڈ ایرنالٹ، امانسیو آرٹیگا وغیرہ کی پہلے سے بھری ہوئی جیبوں کو بھر رہا ہے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *