گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(14)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

سولہ

پڑتال کیا ہونی تھی، جو ہوتی۔ کتنی ہی دھاندلیوں کی طرح یہ بھی کسانوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک ذمہ دارانہ اورافسرانہ چال ہی تھی۔ اور پھر گنگا میا کی مایا کہ اس سال پانی ہٹا، تو دو دھارائیں بن گئیں، ایک اِدھر اور ایک اُدھر اور درمیان میں زمین نکل آئی، دو پہاڑوں کے درمیان کسی وادی کی طرح۔ یہ سال شدید جدوجہد کا تھا، مٹرو جانتا تھا۔ اس نے اس کی مکمل تیاری بھی کی تھی۔ اب جو ندی کی دو دھاریں دیکھیں، تو اسے لگا کہ گنگا میا نے اس کے دونوں جانب اپنے وسیع بانہیں پھیلا کر اسے اپنی ایسی حفاظت کے گھیرے میں لے لیا ہے، کہ دشمن لاکھ سر مار کر بھی اس کا بال بانکا نہیں کر سکتے۔

julia rana solicitors

ریت پر پہلے مٹرو کی کٹیا کھڑی ہوئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے گزشتہ سال کی طرح پچاسوں جھونپڑیاں جگمگا اٹھیں۔

زمیں داروں نے سوچا تھا کہ اس سال کوئی کسان وہاں نہ جائے گا، لیکن جب یہ خبر ان کے کانوں میں پہنچی، تو وہ کھلبلا اٹھے۔ تھانے، تحصیل، ضلع کی دوڑ دھوپ شروع ہوگئی۔ اتنے دن خاموش رہ کر انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ایسے چلنے سے وہ پرانے دن نہیں آنے کے۔ اب تو کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا، ورنہ ہمیشہ کے لئے دِیّر ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہی آخری بازی ہے، ہارے تو ہار اور جیتے تو جیت۔ جان لگا کر، اس بار ادھر یا ادھر کر لینا چاہئے۔

مٹی تو ہموار ہے، لیکن زمین ابھی بہت گیلی ہے۔ کہیں کہیں تو ابھی تک دلدل ہی پڑا ہے۔ سوکھنے میں بڑی دیر لگے گی۔ دونوں جانب برابر زور کی دھاریں ہیں۔ شایدنہ بھی سوکھیں۔بوائی کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ دیر سے بھی بوائی کے لائق زمین ہوگی، اس کی بھی امید نہ تھی۔ مٹرو فکر میں پڑا تھا۔ تمام کسان فکر میں پڑے تھے کہ کیا کیا جائے، کہیں یہ سال خالی نہ چلا جائے۔

پوجن کا علم زمین کے بارے میں مٹرو سے کہیں گہرا تھا۔ یوں ہی جانچ کیلئے اس نے کنارے کے قریب ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر تھوڑے سے دھان کے بیج ڈال دیے تھے۔ پانچ چھ دن کے بعد وہاں ہریالی نظر آئی، تو اس نے مٹرو سے کہا،’’ پاہُن ، دھان بویا جائے تو کیسا؟‘‘

مٹرو نے ہنس کر کہا،’’ابے، کیا دھان آج کل بویا جاتا ہے۔‘‘

پوجن نے اپنے تجربے کی بات کہہ کر کہا،’’سنا ہے بنگال، مدراس میں دھان کی کئی کئی فصلیں ہوتی ہیں۔ اس دفعہ ہماری زمین بھی دھان کے لائق ہی معلوم پڑتی ہے۔ پانی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ نمی مہینوں بنی رہے گی۔ میں تو کہوںپاہُن ، بویا جائے۔فارغ بیٹھے رہنے سے کچھ بھی کرنا بہتر ہے۔ نہیں کچھ ہوا، تو اجڑ جائیگی اور کہیں ہو گئی تو ایک نئی بات معلوم ہو جائے گی۔‘‘

مٹرو اسی لمحے اٹھ کھڑا ہوا اور پوجن کے ساتھ جاکر گڑھے میں اگے دھان کو دیکھا، اس کی آنکھیں چمک گئیں۔ کہا،’’سچ رے، تیری بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اور کسانوں سے پھر صلاح مشورہ ہوا۔ پوجن کی بات مان لی گئی۔ بوائی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔

گوپی سے آنے کیلئے مٹرو کہہ آیا تھا، لیکن اس کے بعد سے وہ ایک بار بھی نہ آیا۔ نائووالوں سے برابر پوچھا جاتا ہے۔ بارات میں دس پانچ مہمانوں کے سوا کوئی نہ ہوگا۔ برادری نے کھانا پینا بند کر دیا ہے۔ کسی بات کی فکر نہیں۔

ایک دن بھابھی نے مٹرو سے کہا،’’بھیا، آپ نے اس سے آنے کو کہا تھا نہ؟‘‘

’’ ہاں۔‘‘

’’ لیکن وہ تو نہیں آیا۔ تم سے جھوٹ تو نہیں کہا تھا؟‘‘

’’ جھوٹ کیوں کہتا ،ری؟ لیکن وہ آئے بھی کیسے ؟‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ شادی کے پہلے کوئی دولہا سسرال آتا ہے کیا؟‘‘ کہہ کر مٹرو مسکرایا۔

’’ دھت!جائو بھیا، تم تو دل لگی کرتے ہو اور یہاں من میں رات دن ایک دھک دھک لگی رہتی ہے۔‘‘

’’ کہ کیسا ہوگا دولہا؟ بھینسے کی طرح کالا کہ چاند کی طرح گورا؟‘‘

’’ ہاں! پہلی بار دیکھنا ہے نہ؟‘‘

’’ تو؟‘‘

’’ جانے کیا کیا اب دیکھنا ہے نصیب میں! تم لوگوں کو یہ سب تماشا جانے کیوں اچھا نہیں لگتا ۔۔۔‘‘

’’ تو یہاں دروازے پر گنگا میا ہیں۔ کنوئیں میں ڈوب مری ہوتی تو جہنم میں جاتی۔ یہاں تو گنگا میا کی گود میں سما جاؤ گی، تو سیدھا جنت تک پہنچ جاؤ گی!‘‘ کہہ کر مٹرو ہنسا۔

’’ تم لوگ مجھے ایسا کرنے بھی تو دو! تمہیں کیا معلوم کہ جب سوچتی ہوں کہ وہاں دوبارہ جانے پر کیسی عجیب حالت میں پڑوںگی، تو دل کتنا بیکل ہو جاتا ہے۔ اس سے تو مر جانا کہیں زیادہ آسان ہے۔‘‘

’’ ہوں! تو پھر وہی بات؟تمہارے اس بھیا کے ہوتے بھی تیری فکر نہیں جاتی؟ ارے پگلی، اب گھر بسانے کی سوچ، ایک نئی زندگی شروع کرنے کی سوچ۔ جب دو دو تم پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہیں، تو کس کی ہمت ہے، جو تجھے کچھ بھی کہہ سکے؟ تجھے بھی ذرا ہمت سے کام لینا چاہئے۔ بغیر ہمت کے ان رسوم و رواج کو کیسے توڑا جا سکتا ہے؟‘‘

’’ عجب بندھن سے تم لوگوں نے مجھے باندھ دیا!‘‘

’’ ہاں،بندھن کا موہ نہیں ہوتا، تو آدمی کاہے کو جیتا؟ بچپن میں ایک کہانی سنی تھی ہیرامن سقّے کی۔ میرے جیسا ہی ایک دَیو تھا۔ اس کا دل ہیرامن سقّے میں بس گیا تھا۔ جب ہیرامن مرا، تو وہ دیو بھی مر گیا۔ اسی طرح لگتا ہے کہ جس دن تومرے گی، اسی دن میں بھی مر جاؤں گا۔‘‘

’’ بھیا!‘‘ بھابھی چیخ پڑی،’’ایسی بات پھر زبان پر نہ لانا!‘‘

’’ توتُو بھی پھر ایسی بات منہ پر نہ لانا سمجھی۔‘‘ کہتے کہتے مٹرو کی آنکھیں بھر آئیں ، ’’ زندگی رہنے کیلئے ہے، حالات سے لڑ کر جینے کا ہی نام زندگی ہے۔من چھوٹا کر کے اس دنیا میں نہیں جیا جا سکتا ہے!‘‘

’’ میں بھی مرد ہوتی ۔۔۔‘‘

’’ نہیں، عورت ہوکر بھی کر، تب ہی تو تعریف کا ڈھنڈورا پیٹ کر میں لوگوں سے کہہ سکوں گا کہ ایک بہن ہے میری، جو ہمت میں مردوں کے بھی کان کاٹتی ہے!‘‘

’’ تمہارے پاس رہ کر یہاں کوئی خوف ،خوف نہیں لگتا۔‘‘

’’ گنگا میا کے سائے میں آکر تمام خوف بھاگ جاتے ہیں۔ یہاں کی مٹی اور ہوا ہی کچھ ایسی ہے۔ لکھنا کی ماں بھی پہلے بہت ڈرتی تھی، لیکن جب سے یہاں رہنے سہنے لگی، تمام ڈر،خوف چھومنتر ہو گیا۔ ابھی دیکھتی ہو نہ کیسے رہتی ہے۔‘‘

’’ ہاں، آپ بھی میرے ساتھ کچھ دنوں کے لئے چلو گے نا؟‘‘

’’ کیوں، گوپپا پر بھروسہ نہیں کیا؟‘‘

’’ ہے، لیکن اتنا نہیں۔ تم پر جتنا بھروسہ ہوتا ہے، اتنا اس پر نہیں۔‘‘

’’ ارے لکھنا کی ماں!‘‘ مٹرو نے پکار کر کہا،’’سنتی ہے، یہ کیا کہتی ہے! یہ تو تیری سوت بن گئی معلوم ہوتی ہے!‘‘

لکھنا کی ماں ایک طرف بیٹھی دہی متھ کر مکھن نکال رہی تھی۔ ہنس کر وہیں سے بولی ’’ ایسی سوت ملے، تو گلے کی مالا بنا کر پہنو۔ بہن، لے، یہ مٹھا تو دے بھائی کو، کہیں بغیر پئے ہی نہ نکل جائے۔ آج کل اسے کسی بات کی سدھ تھوڑی ہی رہتی ہے۔‘‘

بھابھی کے ہاتھ سے مٹھے کا لوٹا لے، گٹ گٹ پی کر مٹرو بولا،’’اچھا اب چلوں، تھوڑی بہت تیاری تو کرنی ہی پڑے گی۔ بیس پچیس دن تو رہ گئے لگن کے۔ پوجن کو شہر بھیجنا ہے آج۔‘‘اور پھر وہ ’’ اے گنگا میا توہکے چُنری چڑھبو ۔۔۔‘‘گنگناتا ہوا باہر نکل گیا۔

گنگا میا کا آنچل دھانی رنگ میں رنگ کر لہرا اٹھا تھا۔ دیکھ دیکھ کر کسانوں کی چھاتیاںپھول اٹھتیں۔ اتنا زبردست دھان آیا تھا کہ بس۔ ربیع نہ بونے کا افسوس جاتا رہا۔ اس سے کہیں زیادہ دھان کی پیداوار ہو گی۔ گنگا میا کی لیلا نرالی ہے۔ اس کے آنچل میں کیا کیا بھرا پڑا ہے، اس کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟ جو جتنی خدمت اس زمین کی کرے، گنگا میا اسے اتنا ہی دے! محنت کبھی اکارت ہوئی ہے؟

پوجن نے شہر سے آکر اپنی گٹھری بہن کے سامنے رکھ دی۔ وہ چوکے میں بیٹھی مٹرو کو کھیکا کھلا رہی تھی۔ بھابھی ایک طرف بیٹھی چھاج میں گندم پھٹک رہی تھی۔

مٹرو نے نوالہ نگل کر بیوی سے کہا،’’کھول کر دیکھ تو، کیا کیا ہے؟‘‘ پھر بھابھی کی طرف منہ پھیر کر بولا،’’اے ری، تو بھی آ! نہیں تو تیری بھابھی اکیلے ہی سب پر قبضہ کر لے گی!‘‘

بھابھی آکر کھڑی ہو گئی، تو لکھنا کی ماں نے گٹھری کھولی۔ چاندی کے نئے نئے زیورات کی چمک سے آنکھیں جگمگا اٹھیں۔ لکھنا کی ماں کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ وہ ایک ایک کو اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگی۔من کی امنگ دباتی ہوئی بھابھی بھی جھک گئی۔

کڑا، گوڑہرا،ہنسلی، بازوبند، ہلکا ۔۔۔ہر ایک کی ایک ایک جوڑی۔ لکھنا کی ماں نے پوچھا،’’یہ جوڑیاں کیوں منگائیں؟ اتنی ۔۔۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘ درمیان میں ہی مٹرو بول پڑا،’’ہمارے گھر دو پہننے والیاں ہیں نہ؟‘‘

’’ بھیا!‘‘ بھابھی چیخ سی پڑی،’’میرے لئے تم کاہے کو منگائے؟‘‘

’’ کیوں، بھائی کے گھر سے ننگی ہی سسرال جائے گی کیا؟ کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا؟ پگلی، یہ تُو کیوں نہیں سمجھتی کہ میرے کوئی لڑکی نہیں ہے، اور اب۔‘‘کنکھیوں سے اپنی عورت کی طرف دیکھ کر بولا،’’ہونے کی کوئی امید بھی نہیں۔ تجھ ہی بیٹی کی خواہش بھی پوری کرنی ہے! اس نے نہ جانے کتنی بار گہنے کیلئے کہا تھا۔ آج تیری ہی قسمت سے اس کیلئے بھی آ گئے۔ پسند ہے نہ؟‘‘

تبھی باہر سے ایک کسان نے آ کر کہا،’’پہلوان بھیا، پھول چن گرفتار ہو گیا۔ باہر خبر دینے ایک آدمی آیا ہے۔ کہتاہے ۔۔۔‘‘

کھیکا ادھ کھایا ہی چھوڑکر مٹرو اٹھ کر باہر لپکا۔ باہر بہت سے کسان جمع تھے۔ سب کے چہرے پر پریشانیاں تھیں۔ پوچھنے پر خبر لانے والے نے کہا،’’پھول چن کے باپ نے کشتی پر خبر بھیجی ہے کہ پھول چن آج دوپہر کو گاؤں میں آنے پر گرفتار ہو گیا۔ اپنی بیمار ماں کو دیکھنے وہ آج صبح ہی گھرگیا تھا۔ دوپہر کو دس پولیس اہلکار آ کر اسے گرفتار کر کے لے گئے۔ وہ اوروں کو بھی تلاش کر رہے تھے۔ کہتے تھے، سو آدمیوں پر وارنٹ ہے دِیّر کے معاملے میں۔ زمیں داروں نے فوجداری چلائی ہے۔‘‘

سن کر سب سناٹے میں آ گئے۔ زمیندار کچھ کرنے والے ہیں، یہ سب کو معلوم تھا، لیکن اچانک اس طرح وارنٹ کٹ جائے گا، یہ کون سمجھتا تھا۔ سوچ کر مٹرو نے کہا،’’تمام کشتیاں اس پار منگا لو۔ ادھر کے کنارے پر ایک بھی کشتی نہ رہے اور ادھر اس پار جانے والی کشتیوں کو بھی تیار رکھو۔ سب سے کہہ دو، کوئی گاؤں میں نہ جائے۔ سب لاٹھیاں تیار رکھو۔ سب سے کہہ دو ہوشیار رہیں۔ ایک کشتی سیسون گھاٹ کے سامنے ادھر سے خبر لانے کے لئے بھیج دو۔ ہاں، پھول چن کے بال بچے کہاں ہیں؟‘‘

’’ یہیں اپنی کٹیا میں ہیں۔سب رو رہے ہیں۔‘‘ایک نے بتایا۔

’’ چلو، انہیں سنبھالو ۔‘‘ آگے بڑھتا ہوا مٹرو بولا،’’سیسون گھاٹ کون جا رہا ہے؟ کوئی ہوشیار آدمی جائے۔ گاؤں میں اپنے آدمیوں کو بھی تیار رہنے کی تاکید کرنی ہوگی۔ یہ زمیندار اب خون خرابے پر اتر آئے ہیں۔‘‘

سترہ

دوسرے دن فوری طور پر ایک ایک کر کے تمام جھونپڑیاں اٹھا کر جھائوں کے جنگل میں کھڑی کر دی گئیں۔ کناروں پر جوانوں کا پہرا بٹھا دیا گیا۔ خبر ملتی رہی کہ پولیس والے روز گاؤں کا ایک چکر لگایا کرتے ہیں، لیکن دِیّر کے کسانوں کو یہ معلوم تھا کہ جب تک ہم یہاں ہیں، کوئی ہمارا بال بانکا نہیں کر سکتا۔ اس قلعے میں آکر کوئی دشمن اپنی جان بچا کر نہیں جا سکتا۔ تمام چوکنے ہو گئے تھے۔ کوئی اپنے ترواہی کے گاؤں میں نہیں جاتا۔ ضرورت کی چیزیں اِدھر سے پارکرکے بہار کے قصبے سے لائی جاتی ہیں۔ ایک لحاظ سے زندگی کی ڈور کٹ کر دوسری طرف جا جڑی ہے۔ سب ٹھیک چل رہا ہے۔ کوئی غم نہیں۔ دھارائیں ویسے ہی بہہ رہی ہیں۔ دھان ویسے ہی لہلہا رہے ہیں۔ ہوا ویسے ہی چل رہی ہے۔

لیکن ادھر مٹرو کچھ پریشان سا ہے۔ زندگی میں کبھی بھی پریشان نہ ہونے والا مٹرو آج پریشان ہے۔ بہن کی شادی ہے۔ کہیں عین وقت پر رکاوٹ نہ پڑ جائے۔ پھر کون سا منہ وہ دکھائے گا اپنے ہیرامن کو! آج کل گنگا میا کی یاد بہت بڑھ گئی ہے۔ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے برابر، اس کے منہ سے یہی نکلتا رہتا ہے،’’میری میا! اسکی کشتی پار لگا دے۔ میری میا ۔۔۔‘‘

بہن بیٹی کا بوجھ کیا ہوتا ہے، آج اسے معلوم ہو رہا ہے۔ نہ کھانا اچھا لگتا ہے، نہ پینا۔ بیوی اور بھابھی پوچھتی ہیں تو روہانسا ہوکر کہتا ہے،’’جی نہیں ہوتا۔ سوچتا ہوں میری بہن چلی جائے گی، تو میری یہ کٹیا کتنی اداس ہو جائیگی۔‘‘

’’ تو جانے کیوں دیتے ہو؟ روک لو!‘‘ بیوی مذاق میں کہتی۔

’’ کیا بتاؤں؟ ‘رگھو کُل رِیتی سداچلی آئی‘‘ اور گنگناتا ہوا وہ وہاں سے ہٹ جاتا ہے۔ باہر نکل کر وہی پکار لگانے لگتا ہے،’’میری میا! اس کی کشتی پار لگا دے! میری میا ۔۔۔‘‘

میا نے بیٹے کی پکار سن لی تھی۔بغیر کسی مسئلے کے وہ دن آن پہنچا۔ شام کے دھندلکا ہوتے ہی سیسون گھاٹ پر بارات اتری۔ نائی، پنڈت، دولہا اور پانچ براتی۔ نہ باجا، نہ گاجا۔ جیسے پار اترنے والے راہی ہوں۔

پھر بھی، اس دن رات بھر جھائوں کے جنگلوں میں ہوا شہنائی بجاتی رہی۔ گنگا میا کی لہریں کساننو ں کی آواز سے آواز ملائے منگل کے گیت رات بھر گاتی رہیں۔ کسانوں کی ٹِمکی بجی۔بِرہوں کی بہاریں لہرائیں۔ رات بھر شہد بھری ا وس ٹپکتی رہی، ٹپ، ٹپ!

جنگل کی ننھی ننھی چڑیوں اور ندی کے بڑے بڑے پنچھیوں نے ایک ساتھ مل کر جب پربھاتی شروع کی، تو رخصتی کی تیاریاں ہونے لگیں۔

دلہن، لکھنا کی ماں سے لپٹ کر ایسے ہی روئی، جیسے ایک دن وہ اپنی ماں سے لپٹ کر روئی تھی۔ لکھنا اور ننھوں کو ایسے ہی چوما چاٹا، جیسے ایک دن اپنے بھتیجوں کو چوما چاٹا تھا۔ پھر پوجن کی بھینٹ لی۔ مٹرو بھی انتظامات میں بھاگا بھاگا پھر رہا تھا۔ نہ جانے کیوں اسے بڑی گھبراہٹ سی ہو رہی تھی۔ بہن اسکے پاؤں پکڑ کر روئے گی، تو وہ کیا کرے گا، اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا۔

آخر سواری دروازے پر آ لگی، رخصت کی گھڑی آن پہنچی۔ بہن ملنے کیلئے بھیا کا انتظار کر رہی ہے۔ اب بھاگ کر کہاں جا سکتا ہے؟

دل سخت کر کے وہ کھڑا ہو گیا۔ دلہن پاؤں پکڑ کر رونے لگی۔ لکھنا کی ماں نے اسے اٹھانے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ پاؤں چھوڑنے پر ہی نہ آتی۔ مٹرو بت بنا کھڑا تھا۔ رونے کی کن منزلوں سے چپ چپ وہ گزر رہا تھا، یہ کون بتائے؟

آخر جب وہ اسے اٹھانے کیلئے جھکا، تو دو آنسو ٹپک پڑے۔ اسکی بانہوں میں کھڑی، اس کے کندھے پر سر ڈال کر دلہن نے کہا،’’تم ساتھ چلو گے نا؟‘‘

’’ یہ کیا کہتی ہے بہن!‘‘ لکھنا کی ماں نے فکر مند ہو کر کہا،’’اس پر وارنٹ ہے نہ!‘‘

مٹرو نے اس کا منہ ہاتھ سے بند کرنا چاہا، لیکن وہ کہہ ہی گئی۔

دلہن نے سر اٹھا کر جانے کس کشمکش پرقابو پاکر کہا،’’نہیں، بھیا، تمہارے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن بہن کو بھول نہ جانا! ماں باپ، بھائی بہن سب کو کھو کر تمہیں پایا ہے، تم بھی بھلا دو گے، تو میں کیسے جیوںگی؟‘‘

’’ نہیں نہیں، میری ہیرامن! تجھے بھلا کرمیں کیسے رہ سکوں گا؟ تو ہمت سے کام لینا۔ میں ۔۔۔‘‘اور مزید کچھ کہہ سکنے کے قابل نہیں ہوکر ہٹ گیا۔

گھاٹ تک اداس مٹرو، گوپی کو سمجھاتا رہا۔ گوپی نے اسے یقین دہانی کرائی کہ فکر کی کوئی بات نہیں، وہ ہر حد تک تیار ہے۔ لیکن مٹرو کو اطمینان کہاں؟ اس کے کانوں میں تو وہی بات گونج رہی تھی،’’تم پر جتنا بھروسہ ہوتا ہے، اتنا اس پر نہیں۔‘‘

کشتی چلی جا رہی ہے، بال بچوں، کسان کساننوں کے ساتھ کھڑا مٹرو تک رہا ہے، اس کی اداس آنکھیں جیسے اس پار، دور ایک طوفان کو آتے دیکھ رہی ہیں جو اس کی بہن کا استقبال کرنے والا ہے۔ اوہ، وہ ساتھ کیوں نہ گیا؟

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

عامر صدیقی
لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ ؁ ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔ علاوہ ازیں دیگرتراجم و مرتبہ نگارشات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے : ۱۔ فرار (ہندی ناولٹ)۔۔۔رنجن گوسوامی ۲ ۔ ناٹ ایکیول ٹو لو(ہندی تجرباتی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۳۔عباس سارنگ کی مختصرسندھی کہانیاں۔۔۔ ترجمہ: س ب کھوسو، (انتخاب و ترتیب) ۴۔کوکلا شاستر (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۵۔آخری گیت اور دیگر افسانے۔۔۔ نینا پال۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۶ ۔ دیوی نانگرانی کی منتخب غزلیں۔۔۔( انتخاب/ اسکرپٹ کی تبدیلی) ۷۔ لالٹین(ہندی ناولٹ)۔۔۔ رام پرکاش اننت ۸۔دوڑ (ہندی ناولٹ)۔۔۔ ممتا کالیا ۹۔ دوجی میرا (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) ۔۔۔ سندیپ میل ۱۰ ۔سترہ رانڈے روڈ (ہندی ناول)۔۔۔ رویندر کالیا ۱۱۔ پچاس کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۵۰ء تا ۱۹۶۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۲۔ ساٹھ کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں(۱۹۶۰ء تا ۱۹۷۰ء) ۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۱۳۔ موہن راکیش کی بہترین کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) ۱۴۔ دس سندھی کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۵۔ قصہ کوتاہ(ہندی ناول)۔۔۔اشوک اسفل ۱۶۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد ایک ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۷۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۸۔ ہند کہانی ۔۔۔۔جلد سوم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۱۹۔ہند کہانی ۔۔۔۔جلد چہارم ۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۰۔ گنگا میا (ہندی ناول)۔۔۔ بھیرو پرساد گپتا ۲۱۔ پہچان (ہندی ناول)۔۔۔ انور سہیل ۲۲۔ سورج کا ساتواں گھوڑا(مختصرہندی ناول)۔۔۔ دھرم ویر بھارتی ۳۲ ۔بہترین سندھی کہانیاں۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۴۔بہترین سندھی کہانیاں ۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۲۵۔سب رنگ۔۔۔۔ حصہ اول۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۶۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۷۔ سب رنگ۔۔۔۔ حصہ سوم۔۔۔۔(مختلف زبانوں کی منتخب کہانیاں) ۲۸۔ دیس بیرانا(ہندی ناول)۔۔۔ سورج پرکاش ۲۹۔انورسہیل کی منتخب کہانیاں۔۔۔۔ (انتخاب و ترجمہ) ۳۰۔ تقسیم کہانی۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۱۔سورج پرکاش کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۲۔ذکیہ زبیری کی بہترین کہانیاں(انتخاب و ترجمہ) ۳۳۔سوشانت سپریہ کی کہانیاں۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۴۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۵۔منتخب پنجابی کہانیاں ۔۔۔۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۶۔ سوال ابھی باقی ہے (کہانی مجموعہ)۔۔۔راکیش بھرامر ۳۷۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ اول۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۸۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ دوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) ۳۹۔شوکت حسین شورو کی سندھی کہانیاں۔حصہ سوم۔۔۔۔(انتخاب و ترجمہ) تقسیم کہانی۔ حصہ دوم(زیرترتیب ) گناہوں کا دیوتا(زیرترتیب ) منتخب پنجابی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) منتخب سندھی کہانیاں حصہ سوم(زیرترتیب ) کبیر کی کہانیاں(زیرترتیب )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply